أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَـقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسٰى وَهٰرُوۡنَ الۡفُرۡقَانَ وَضِيَآءً وَّذِكۡرًا لِّـلۡمُتَّقِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو کتاب فیصل اور روشنی اور متقین کے لئے نصیحت دی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو کتاب فیصل اور روشنی اور متقین کے لئے نصیحت دی جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور وہ قیامت سے بھی ڈرنے والے ہیں اور یہ برکت والا ذکر ہے جس کو ہم نے نازل فرمایا ہے سو کیا تم اس کا انکار کرنے والے ہو (الانبیاء :48-50)

فرقان کی تفسیر میں مختلف اقوال 

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے توحید، رسالت اور قیامت کے دلائل کو مکمل فرمایا تو اب اس نے انبیاء (علیہم السلام) کے قصص کا ذکر شروع فرمایا تاکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی قوم کیطرف سے جس سختی اور ہٹ دھرمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہچانے میں آپ کو جو مشکلات اور مصائب پیش آ رہے ہیں، اس میں آپ کو تسلی دی جاسکے اور آپ کے صبر کے لئے مثالیں اور مواقع فراہم ہوں۔ اللہ تابرک و تعالیٰ نے ان آیتوں میں انبیاء (علیہم السلام) کے دس قصص بیان فرمائے ہیں۔ پہلا قصہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کا ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرقان کا ذکر فرمایا ہے اور اس کی تفسیر میں مفسرین کے تین قول ہیں :

ایک قول یہ ہے کہ فقران سے مراد تو رات ہے کیونکہ تورات حق اور باطل میں فرق کرتی تھی اور ضیاء اور روشنی بھی تھی کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات اور احکام شرعیہ کی ہدایت کے رساتوں کو بہت وضاحت اور تفصیل سے بیان کرتی تھی اور ان کے پیش آمدہ مسائل اور دین اور دنیا کی ضرورتوں میں مکمل نصیحت کرتی تھی اور اس میں ان کے شرف اور فضیلت کا پورا بیان تھا۔

دوسرا قول یہ ہے کہ فقران سے مراد تو رات نہیں ہے کیونکہ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ فرقان سے مراد وہ مدد ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی تھی، جیسا کہ جنگ بدر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جو مدد کی گئی تھی اس کو بھی یوم الفرقان فرمایا :

وما انزلنا علی عبدنا یوم الفرقان یوم التقی الجمعن (الانفعال :41) اور ہم نے اپنے بندہ پر فرقان کے دن (حق اور باطل میں فرق کے دن) جو نازل کیا جس دن دو فوجوں میں مقابلہ ہوا تھا۔

یعنی جنگ بدر کے دن جب اسلام اور کفر و شرک کے درمیان پہلا معرکہ برپا ہوا تھا۔

تیسرا قول یہ ہے کہ فرقان سے مراد وہ برہان ہے جس سے دین حق اور ادیان باطلہ میں فرقہ وا تھا۔ یہ ابن زید کا قول ہے۔ چوتھا قول یہ ہے اس سے مراد سمندر کا چیرنا ہے جب سمندر کو چیر کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے بارہ راستے بنائے گئے تھے۔ یہ ضحاک کا قول ہے۔

پانچواں قول یہ ہے کہ اس سے مراد بنی اسرائیل کے شبہات کو زائل کرنا ہے۔ یہ محمد بن کعب کا قول ہے۔

اس آیت میں فرمایا ہے کہ یہ متقین کے لئے نصیحت ہے۔ اس پر اعتراض ہے کہ چاہیے تو یہ تھا کہ تورات تمام بنی اسرائیل کے لئے نصیحت ہوتی اور اس آیت میں فرمایا ہے کہ وہ متقین کے لئے نصیحت ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ تورات فی نفسہ تمام لوگوں کے لئے نصیحت ہے لیکن چونکہ اس سے فائدہ صرف متقین نے حاصل کرنا تھا، اس لئے فرمایا یہ متقین کے لئے نصیحت ہے۔ اس پر دوسرا اعترضا یہ ہے کہ متقین تو پہلے ہی ہدیات یافتہ ہوتے ہیں، ان کے لئے نصیحت کی کیا ضرورت ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ متقین سے مراد ہے جو تقویٰ اور پرہیز گاری کا ارادہ کرنے والے ہوں یا ان کو مستقبل کے اعتبار سے مجازاً متقین فرمایا ہے، جیسے قرآن مجید حفظ کرنے والے کو حافظ اور میڈیکل کالج میں پڑھنے والے کو ڈاکٹر صاحب کہہ دیتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 48