أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلُوۡطًا اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا وَّنَجَّيۡنٰهُ مِنَ الۡقَرۡيَةِ الَّتِىۡ كَانَتۡ تَّعۡمَلُ الۡخَبٰٓئِثَ‌ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمَ سَوۡءٍ فٰسِقِيۡنَۙ‏ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے لوط کو حکم (نبوت) اور علم عطا فرایا اور ان کو اس شہر سے نجات دی جس کے لوگ بےحیائی کے کام کرتے تھے، بیشک وہ نافرمانی کرنے والے بدترین لوگ تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

اور ہم نے لوط کو حکم (نبوت) اور علم عطا فرمایا اور ان کو اس شہر سے نجات دی جس کے لوگ بےحایئی کے کام کرتے تھے۔ بیشک وہ نافرمانی کرنے والے بدترین لوگ تھے اور ہم نے لوط کو اپنی رحمت میں داخل کرلیا۔ بیشک وہ نیکو کاروں میں سے تھے (الانبیاء :74-75)

حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ 

انبیاء (علیہم السلام) کے قصص میں سے یہ تیسرا قصہ ہے جو حضرت لوط (علیہ السلام) کے متعلق ہے۔ اس آیت میں حضرت لوط (علیہ السلام) کو حکم عطا فرمائے کا ذکر ہے، حکم کی ایک تفسیر ہے حکمت، جس کے تقاضوں پر عمل کرنا واجب ہو اور دوسری تفسیر ہے نبوت۔ 

اس بستی کے متعلق فرمایا ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کرلیا وہ بیشک نیک لوگوں میں سے تھے، رحمت کی تفسیر نبوت کے ساتھ کی گئی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی نبوت عطا فرمانے کے لئے چن لیا کیونکہ وہ نیک شخص تھے اور نبوت کے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ دوسری تفسیر حضرت ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ رحمت سے مراد ثواب ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت اور علم عطا فرمایا اور ان کو برے لوگوں کو صحبت سے محفوظ رکھا اور ان پر کشف کے دروازے کھول دیئے اور ان کے قلب پر اللہ تعالیٰ کے انوار اور تجلیات کی بارش ہونے لگی، اور یہ ایسا بحر ہے جس کا کوئی ساحل نہیں اور حقیقت میں رحمت سے یہی مراد ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ذکر ہم نے الاعراف 8083اور ھود :7783میں کیا ہے۔ ان کا تفصیلی تعارف ان آیتوں میں ملاحظہ فرمائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 74