أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِىۡ بٰرَكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور ہم ابراہیم کو اور لوط کو نجات دے کر اس سر زمین کی طرف لے گئے جس میں ہم نے تمام جہان والوں کے لئے برکت فرمائی تھی

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا حضرت لوط (علیہ السلام) کے ساتھ عراق سے شام کی طرف ہجرت فرمانا 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور ہم ابراہیم کو اور لوط کو نجات دے کر اس سر زمین کی طرف لے گئے جس میں ہم نے تمام جہان والوں کے لئے برکت فرمائی تھی۔ (الانبیاء :71)

اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو ان کے دشمنوں کے علاقہ سے نکال لیا اور ان کو برکتوں والے علاقہ میں بھیج دیا۔ یعنی عرقا سے شام کی طرف بھیج دیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی قوم اور اس کے دین کو ترک کر کے شام کی طرف روانہ ہوگئے۔

اس قصہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے واقعہ کی خبر دی ہے اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قوم قریش کو بتایا ہے کہ تمہاری طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم بھی بت پرستی کرت تھی اور جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اذیت پہنچائی تھی، اسی طرح قریش بھی آپ کو اذیت پہنچاتے تھے۔ آپ ان کو پیغم حق سناتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے، وہ اس دعوت کی مخالفت کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ سنا کر یہ بتایا کہ جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی ایذائوں پر صبر کیا تھا، آپ بھی اپنی قوم کی ایذا رسانیوں پر صبر کریں اور جس طرح انہوں نے عراق سے شام کی طرف ہجرت کی تھی، آپ کو بھی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنی ہوگی۔

شام کا برکت والی سرزمین ہونا 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

قتادہ نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) دونوں سر زمین شام میں تھے، اسی سر زمین کو ارض محشر بھی کہا جاتا ہے۔ قیامت کے دن تمام لوگ یہیں پر جمع ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ بن مریم بھی یہیں پر آسمان سے اتریں گے اور دجال کذاب بھی یہیں پر ہلاک ہوگا۔ ہمیں ابوقلابہ نے یہ حیدث بیان کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ فرشتے کتابوں کا ڈھیر اٹھا کر لائے اور اس کو شام میں لا کر رکھ دیا۔ میں نے اس کی یہ تعبیر لی کہ جب فتنے پھیل جائیں گے تو ایمان شام میں ہوگا، اور ہم سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے خطبہ میں فرمایا ایک جماعت شام میں ہوگی اور ایک جماعت عرقا میں ہوگی اور ایک جماعت یمن میں ہوگی۔ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! میرے لئے ان میں سے کسی جگہ کو منتخب کیجیے۔ آپ نے فرمایا تم شام میں رہنا کیونکہ اللہ تعالیٰ میرے لئے شام کا اور وہاں کے رہنے والوں کا ضامن ہوگیا ہے، اور ہم کو بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے کعب سے کہا اے کعب ! تم مدینہ سے کیوں منتقل ہو رہے ہو ؟ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت کی جگہ ہے، یہیں آپ کی قبر (مبارک) ہے۔ کعب نے کہا اے امیر المومنین ! میں نے اللہ کی نازل کردہ کتاب (تورات) میں پڑھا ہے کہ اللہ کی سر زمین میں شام اللہ کا خزانہ ہے اور اس کے پسندیدہ بندے بھی وہیں ہیں۔ (جامع البیان رقم الحدیث :18635)

امام ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب کی طرف ہجرت کی اور ان کے ساتھ حضرت لوط (علیہ السلام) بھی گئے اور آپ نے اپنی عم زاد حضرت سارہ سے نکاح کرلیا۔ وہ اپنے دین، اپنے رب کی عبادت اور اپنی جان اور عزت کی حفاظت کرتے ہوئے نکلے۔ حتٰی کہ حران (ایک جگہ کا نام) میں ٹھہرے اور جب تک اللہ نے چاہا، وہاں رہے پھر آپ ہجرت کر کے مصر چلے گئے پھر مصر سے شام واپس چلے گئے اور فلسطین میں ٹھہرے اور حضرت لوط (علیہ السلام) الموتفکۃ میں ٹھہرے جو وہاں سے ایک دن رات کی مسافت پر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو نبی بنا کر بھیجا۔ (جامع البیان رقم الحدیث :18638)

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 71