أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰقَ ؕ وَيَعۡقُوۡبَ نَافِلَةً‌  ؕ وَكُلًّا جَعَلۡنَا صٰلِحِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق عطا فرمایا اور اس پر زائد یعقوب عطا فرمایا اور ہم نے (ان) سب کو نیکو کار بنایا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق عطا فرمایا اور اس پر زائد یعقوب عطا فرمایا اور ہم نے (ان) سب کو نیکو کار بنایا اور ہم نے ان کو امام بنادیا جو ہمارے حکم سے ہدایت دیتے تھے اور ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی وحی کی اور نماز قائم کرنے کی اور زکوۃ ادا کرنے کی اور وہ ہماری ہی عبادت کرنے والے تھے (الانبیاء :72-73)

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کی مزید نعمتیں 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) پر اس نعمت کا ذکر فرمایا تھا اس نے ان کو ظالموں کے علاقہ سے برکت والی زمین کی طرف نجات دی۔ اس آیت میں ان کے اوپر کی جانے والی نعمتوں کا ذکر فرمایا کہ ان کو اولاد سے نوازا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی :

رب ھب لی من الصالحین (الصفت :100) اے میرے رب ! مجھے نیک بیٹا عطا فرما۔

اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور اس کو اسحاق عطا فرمائے اور انکی دعا کے بغیر حضرت اسحاق کو حضرت یعقوب عطا فرمائے۔ حضرت یعقوب کو قنل فرمایا ہے کیونکہ نفل فرض پر زیادتی کو کہتے ہیں اور حضرت اسحاق کو جو یعقوب عطا فرمائے تھے، وہ بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا پر زائد تھے۔

اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر دوسری نعمت یہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف اور اپنی توفیق سے سب کو صالح اور نیک بنایا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 72