اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰىؕ-اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ(۱۹)

تو کیا وہ جو جانتا ہے جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا حق ہے (ف۵۹) وہ اس جیسا ہوگا جو اندھا ہے (ف۶۰) نصیحت وہی مانتے ہیں جنہیں عقل ہے

(ف59)

اور اس پر ایمان لاتا ہے اور اس کے مطابق عمل کرتا ہے ۔

(ف60)

حق کو نہیں جانتا ، قرآن پر ایمان نہیں لاتا ، اس کے مطابق عمل نہیں کرتا ۔ یہ آیت حضرت حمزہ ابنِ عبدالمطلب اور ابوجہل کے حق میں نازِل ہوئی ۔

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ(۲۰)

وہ جو اللہ کا عہد پورا کرتے ہیں (ف۶۱) اور قول باندھ کر(وعدہ کر کے) پھرتے نہیں

(ف61)

اس کی ربوبیت کی شہادت دیتے ہیں اور اس کا حکم مانتے ہیں ۔

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ(۲۱)

اور وہ کہ جوڑتے ہیں اسے جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا(ف۶۲) اور اپنے رب سے ڈرتے اور حساب کی برائی سے اندیشہ رکھتے ہیں (ف۶۳)

(ف62)

یعنی اللہ کی تمام کتابوں اور اس کے کل رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کو مان کر بعض سے منکِر ہو کر ان میں تفریق نہیں کرتے یا یہ معنی ہیں کہ حقوقِ قرابت کی رعایت رکھتے ہیں اور رشتہ قطع نہیں کرتے ۔ اسی میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قرابتیں اور ایمانی قرابتیں بھی داخل ہیں ، سادات کرام کا احترام اور مسلمانوں کے ساتھ مودّت و احسان اور ان کی مدد اور ان کی طرف سے مدافعت اور ان کے ساتھ شفقت اور سلام و ُعا اورمسلمان مریضوں کی عیادت اور اپنے دوستوں ، خادموں ، ہمسایوں ، سفر کے ساتھیوں کے حقوق کی رعایت بھی اس میں داخل ہے اور شریعت میں اس کا لحاظ رکھنے کی بہت تاکیدیں آئی ہیں ، بہ کثرت احادیثِ صحیحہ اس باب میں وارد ہیں ۔

(ف63)

اور وقتِ حساب سے پہلے خود اپنے نفسوں سے محاسبہ کرتے ہیں ۔

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ(۲۲)

اور وہ جنہوں نے صبر کیا (ف۶۴) اپنے رب کی رضا چاہنے کو اور نماز قائم رکھی اور ہمارے دئیے سے ہماری راہ میں چھپے اور ظاہر کچھ خرچ کیا (ف۶۵) اور برائی کے بدلے بھلائی کرکے ٹالتے ہیں (ف۶۶) انہیں کے لیے پچھلے گھر کا نفع ہے

(ف64)

طاعتوں اور مصیبتوں پر اور معصیت سے باز رہے ۔

(ف65)

نوافل کا چھپانا اور فرائض کا ظاہر کرنا افضل ہے ۔

(ف66)

بدکلامی کا جواب شیریں سخنی سے دیتے ہیں اور جو انہیں محروم کرتا ہے اس پر عطا کرتے ہیں ، جب ان پر ظلم کیا جاتا ہے معاف کرتے ہیں ، جب ان سے پیوند قطع کیا جاتا ہے ملاتے ہیں اور جب گناہ کرتے ہیں توبہ کرتے ہیں ، جب ناجائز کام دیکھتے ہیں اسے بدلتے ہیں ، جہل کے بدلے حلم اور ایذا کے بدلے صبر کرتے ہیں ۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآىٕهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ(۲۳)

بسنے کے باغ جن میں وہ داخل ہوں گے اور جو لائق ہوں (ف۶۷) ان کے باپ دادا اور بی بیوں اور اولاد میں (ف۶۸) اور فرشتے (ف۶۹) ہر دروازے سے ان پر (ف۷۰) یہ کہتے آئیں گے

(ف67)

یعنی مؤمن ہوں ۔

(ف68)

اگرچہ لوگوں نے ان کے سے عمل نہ کئے ہوں جب بھی اللہ تعالٰی ان کے اکرام کے لئے ان کو ان کے درجہ میں داخل فرمائے گا ۔

(ف69)

ہر ایک روز و شب میں ہدایا اور رضا کی بشارتیں لے کر جنّت کے ۔

(ف70)

بہ طریقِ تحیّت و تکریم ۔

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ(۲۴)

سلامتی ہو تم پر تمہارے صبر کا بدلہ تو پچھلا گھر کیا ہی خوب ملا

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)

اور وہ جو اللہ کا عہد اس کے پکے ہونے (ف۷۱) کے بعد توڑتے اور جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں (ف۷۲) ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور ان کا نصیبہ برا گھر (ف۷۳)

(ف71)

اور اس کو قبول کر لینے ۔

(ف72)

کُفر و مَعاصی کا ارتکاب کرکے ۔

(ف73)

یعنی جہنّم ۔

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُؕ-وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَاؕ-وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠(۲۶)

اللہ جس کے لیے چاہے رزق کشادہ اور (ف۷۴) تنگ کرتا ہے اور کافر دنیا کی زندگی پر اِترا گئے(ف۷۵) اور دنیا کی زندگی آخرت کے مقابل نہیں مگر کچھ دن برت لینا

(ف74)

جس کے لئے چاہے ۔

(ف75)

اور شکر گزار نہ ہوئے ۔ مسئلہ : دولتِ دنیا پر اترانا اور مغرور ہونا حرام ہے ۔