حدیث نمبر 357

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تمہیں امام نماز پڑھایا کریں گے اگر درستی کریں تو تمہارے لیئے مفید ہے اور اگر خطا کریں تو تمہارے لیئے مفید ان کے لیئے مضر ۱؎(بخاری)

شرح

۱؎ یعنی اگر ایسی غلطی کریں جس کی تمہیں خبر نہ ہو تو تم معذور وہ مجرم لیکن اگر تمہیں پتہ چل جائے تو تم پر نماز کا اعادہ وغیرہ واجب ہے۔چنانچہ اگر معلوم ہوجائے کہ امام بے دین یا بے وضو یا بے غسل تھا یا اس کے کپڑے میں نجاست لگی تھی تو سب پر نماز لوٹانا واجب ہے۔چنانچہ امام محمد نے کتاب الاثار میں باسناد صحیح روایت کی “عَنْ اِبْرَاھِیْمَ ابْنِ یَزِیْدٍ مَکِّیٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ عَنْ عَلِیِّ ابْنِ اَبِیْ طَالِبٍ ” کہ آپ نے فرمایا جو جنابت میں نماز پڑھائے تو امام و مقتدی دونوں نماز لوٹائیں،نیز عبدالرزاق نے حضرت جعفر سے روایت کی کہ ایک دفعہ حضرت علی نے جنابت میں نماز پڑھا دی تو آپ نے خود بھی نماز لوٹائی اور مقتدیوں کو بھی لوٹانے کا حکم دیا،نیز عبدالرزاق نے ابو امامہ سے روایت کی کہ ایک بار حضرت عمر نے جنابت میں نماز پڑھادی تو آپ نے نماز لوٹائی مقتدیوں نے نہ لوٹائی علی مرتضٰی کو پتہ چلا تو آپ نے فاروق اعظم سے فرمایا کہ سب کو نماز لوٹانی چاہئیے تھی حضرت ابن مسعود نے آپ کی تائید کی تب عمر فاروق نے رجوع کیا اور سب کی نماز لوٹائی،نیز سارے علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر امام بغیر تکبیر تحریمہ نماز پڑھائے تو کسی کی نماز نہیں ہوتی اور ظاہر ہے کہ جنبی بے وضو اور نجس کپڑے والے کی تحریمہ ہی صحیح نہیں لہذا ان کی نمازیں بغیرتحریمہ ہیں۔بہرحال یہ حدیث نہ وہابیوں کی دلیل ہے نہ حنفیوں کے خلاف۔

نوٹ: اس حدیث کی بنا پر وہابی کہتے ہیں کہ امام کی نماز کے بطلان سے مقتدی پر کوئی اثر نہیں پڑتا مگر یہ غلط ہے۔

مسئلہ: اگر امام ایک عرصہ کے بعد کہے کہ میں کافر تھا یا میں نے اب تک بے وضو نمازیں پڑھائی تو مقتدیوں پر نمازیں لوٹانا فرض نہیں کیونکہ امام اس خبر کی وجہ سے فاسق ہوگیا اور فاسق کی بات کا اعتبار نہیں۔(فتح القدیر ومرقاۃ)