حدیث نمبر 356

روایت ہے حضرت قیس ابن حازم سے فرماتے ہیں کہ مجھے ابو مسعود نے خبر دی کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اﷲ خدا کی قسم میں فلاں کی وجہ سے نماز فجر سے پیچھے رہتا ہوں کیونکہ وہ دراز بہت کرتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن سے زیادہ کسی وعظ میں غضب ناک نہ دیکھا پھر فرمایا کہ تم میں سے بعض نفرت والے ہیں جو کوئی بھی لوگوں کو نماز پڑھائے وہ مختصر کرے کیونکہ ان میں کمزور بوڑھے اور کام کاج والے ہیں ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ امام کے قصور کی بنا پر اگر کوئی شخص جماعت چھوڑ دے تو گنہگار وہ نہیں ہے بلکہ امام،نیز حاکم یا بزرگ کے سامنے امام کی شکایت کردینا جائز ہے،نہ یہ غیبت ہے اور نہ امام کی سرتابی،نیز حاکم مقتدیوں کے سامنے امام پر سختی بھی کرسکتا ہے اور ملامت بھی،اس میں اس کی اصلاح ہے نہ کہ ذلیل کرنا۔درازی ٔ نماز اگرچہ عبادت ہے مگر جب کہ اس سے کوئی خرابی نہ پیدا ہو۔