أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً  ‌ۖ وَّاَنَا رَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡنِ‏ ۞

ترجمہ:

بیشک یہ تمہاری ملت ہے جو درحقیقت ایک ہی ملت ہے اور میں (ہی) تمہارا رب ہوں سو تم میری (ہی) عبادت کرو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک یہ تمہاری ملت ہے جو درحقیقت ایک ہی ملت ہے اور میں (ہی) تمہارا رب ہوں سو تم میری (ہی) عبادت کرو اور انہوں نے اپنے دین میں (مختلف) فرقے بنا لئے وہ سب ہماری ہی طرف لوٹ کر آنے والے ہیں (الانبیاء :92-93)

امت کا معنی اور دین اور شریعت کا فرق 

الانبیاء :92 میں ہے یہ تمہاری امت، امت واحدہ ہے۔ اس آیت میں روئے زمین کے تمام لوگوں سے خطاب ہے۔ امت اس قوم یا لوگوں کی اس جماعت کو کہتے ہیں جو دین واحد پر مجتمع ہو پھر اس کے مفہوم میں وسعت دے کر نفس دین پر بھی امت کا اطلاق کیا جاتا ہے اور یہاں مراد یہ ہے کہ روئے زمین کے تمام لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ملت اور ایک دین کی دعوت دی گئی ہے اور تمام انیاء (علیہم السلام) نے اسی دین کی دعوت دی ہے اور سب کا دین اسلام ہے۔ قرآن میں ہے :

شرع لکم من الدین ماوصی بہ نوحاً والذی اوحینآ الیک وما وصینا بہ ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ ان اقیموا الدین ولاتنفرقوا فیہ (الشوری -13)

اللہ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا ہے جس کی نوح کو وصیت کی تھی اور جس کی ہم نے آپ کی طرف وحی کی اور جس کی ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو وصیت کی تھی کہ اس دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ کرو 

جو اصول اور عقائد تمام انئیاء (علیہم السلام) میں مشترک ہیں ان کو دین کہتے ہیں اور تمام انبیاء علیہم نے یہ دعوت دی تھی کہ اللہ کو ایک مانو وہی سب کا خالق اور رازق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اللہ کے رسول اللہ کا پغیام پہنچانے والے اور اس کے سچے اور برگزیدہ بندے ہیں، تمام فرشیت، تمام آسمانی صحائف اور کتابیں برحق ہیں۔ ہر اچھی چیز اور بری چیز اللہ کی تقدیر اس کے سچے اور برگزیدہ بندے ہیں، تمام فرشتے، تمام آسمانی صحائف اور کتابیں برحق ہیں۔ ہر اچھی چیز اور بری چیز اللہ کی تقدیر سے وابستہ ہے۔ قتل، زنا اور جھوٹ بولنا حرام ہے اور اللہ کے احکام کو ماننا اور اس کی عبادت کرنا اور اس کا شکر ادا کرنا فرض ہے۔ قیامت قائم ہوگی اور مرنے کے بعد بندوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور حساب لیا جائے گا، نیک لوگوں کو جنت میں داخل کردیا جائے گا اور بدکاروں اور کافروں کو دوزخ میں داخل کردیا جائے گا جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ تمام انبیاء (علیہم السلام) نے ان ہی چیزوں کی دعوت دی ہے اور یہی سب کا واحد دین ہے، اس میں اختلاف کرنا جائز نہیں ہے۔ ال بتہ ہر نبی کی شریعت میں ہی چیزوں کی دعوت دی ہے اور یہی سب کا واحد دین ہے، اس میں اختلاف کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ ہر نبی کی شریعت میں عبادت کے طریقے الگ الگ ہیں جو انہوں نے اپنے اپنے زمانے کے حالات اور رسم و رواج کے اعتبار سے مقرر فرمائے۔ قرآن مجید میں ہے :

لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھا جاً (المائدہ :48) تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے ایک صخاص) شریعت اور (مخصوص) راستہ معین کردیا ہے۔

مثلاً حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں مال غنیمت حرام تھا، قربانی کے قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ اس کو آگ لے جاتی تھی۔ ہماری شریعت میں یہ چیزیں حلال ہیں۔ پچھلی شریعتوں میں تیمیم کی سہولت نہ تھی، مسجد کے سوا نماز پڑھنا جائز نہ تھا، ہماری شریعت میں تیمیم کی سہولت اور ہر پاک زمین پر نماز پڑھنا جائز ہے۔ پہلی شریعتوں میں غیر اللہ کے لئے سجدہ تعظیم جائز تھا ہماری شریعت میں اس کو حرام کردیا گیا۔

حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

الانبیاء اخوۃ لعلات امھاتھم شتی ودینھم واحد (صحیح البخاری رقم الحدیث :3443) تمام نبی باپ شریک بھائی ہیں، ان کی مائیں مختل ہیں اور ان کا دین واحد ہے۔

یعنی تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین واحد ہے اور ان کی شریعت مختلف ہیں۔ سو امتوں کا دین میں اختلاف کرنا جائز نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 92