أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاسۡتَجَبۡنَا لَهٗ فَكَشَفۡنَا مَا بِهٖ مِنۡ ضُرٍّ‌ وَّاٰتَيۡنٰهُ اَهۡلَهٗ و مِثۡلَهُمۡ مَّعَهُمۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِكۡرٰى لِلۡعٰبِدِيۡنَ ۞

ترجمہ:

سو ہم نے ان کی دعا قبول کی پس ان کو جو تکلیف تھی اس کو ہم نے دور کردیا اور ہم نے ان کو اپنی رحمت سے (پہلے سے) دگنے اہل و عیال عطا فرمائے اور یہ عبادت کرنے والوں کے لئے نصیحت ہے

پہلا حصہ

نیز فرمایا : اور یہ عبادت کرنے والوں کے لئے نصیحت ہے، یعنی حضرت ایوب (علیہ السلام) کے قصہ میں مسلمانوں کو مصائب میں صبر پر برانگیختہ کیا ہے تاکہ وہ تقدیر پر صابر و شاکر رہیں اور انہیں صبر کرنے پر حوصلہ ملے، اور عبادت کرنے والوں کی تخصیص اس لئے ہے کہ قرآن مجید کی ہدیات سے مسلمان اور عبادت گزار ہی نفع حاصل کرتے ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 84