أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ‌‌ۚ وَكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا‌ وَّسَخَّرۡنَا مَعَ دَاوٗدَ الۡجِبَالَ يُسَبِّحۡنَ وَالطَّيۡرَ‌ ؕ وَكُنَّا فٰعِلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

سو ہم نے اس کا صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا اور ہم نے دونوں کو قوت فیصلہ اور علم عطا کیا تھا اور ہم نے پہاڑوں کو دائود کے تابع کردیا تھا جو دائود کے ساتھ تسبیح کرتے تھے اور پرندے بھی اور ہم (ہی ہر) کام کرنے والے ہیں

تفسیر: گذشتہ سے پیوستہ

حضرت دائود (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑوں کی تسبیح کرنے کے محامل 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور ہم نے پہاڑوں کو دائود کے تابع کردیا تھا جو دائود کے ساتھ تسبیح کرتے تھے اور پرندے بھی اور ہم (ہی ہر) کام کرنے والے ہیں۔ (الانبیاء :79)

پہاڑ حضرت دائود (علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔ اس کے مفسرین نے متعدد محامل بیان فرمائے ہیں۔

(١) جب حضرت دائود (علیہ السلام) اپنے رب کا ذکر کرتے تو آپ کے ساتھ پہاڑ اور پرندے بھی اپنے رب کا ذکر کرتے تھے۔ 

(٢) حضرت دائود (علیہ السلام) جب تسبیع پڑھتے تھے تو پہاڑ اور پرندے بھی ان کی اتباع میں تسبیح پڑھتے تھے۔

(٣) حضرت دائود (علیہ السلام) جب اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی تسبیح کرتے کرتے تھک جاتے تو اللہ تعالیٰ پہاڑوں کو تسبیح کرنے کا حکم دیتا۔ ان کی تسبیح سن کر حضرت دائود (علیہ السلام) کی تھکن دور ہوجاتی اور وہ پھر تازگی اور ذوق و شوق کے ساتھ تسبیح کرنے لگتے۔

(٤) اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

وان من شیء الا یسبح بحمدہ (الاسراء : ٤٤) اور ہرچند اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتی ہے۔

حضرت دائود (علیہ السلام) کے ساتھ خصوصیت سے پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح کا ذکر فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کا ذوق و شوق تازہ کرنے کے لئے آپ کو پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح سنا دیتا تھا۔

اس آیت میں اسپر غور کرنا چاہیے کہ پتھر اور جانور بھی اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کی تسبیح کرتے ہیں اگر انسان اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح نہ کرے تو وہ پتھروں اور جانوروں سے بھی گیا گزرا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 79