أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَا كُفۡرَانَ لِسَعۡيِهٖ‌ۚ وَاِنَّا لَهٗ كٰتِبُوۡنَ ۞

ترجمہ:

سو جو شخص بھی حالت ایمان میں نیک اعمال کرے گا اس کی کوشش کی ناقدری نہیں ہوگی، اور بیشک ہم اس کے اعمال لکھنے والے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو جو شخص بھی حالت ایمان میں نیک اعمال کرے گا اس کی کوشش کی ناقدری نہیں ہوگی اور بیشک ہم اس کے اعمال لکھنے والے ہیں اور جس بستی کے لوگوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں ان کا (دنیا میں) لوٹ کر آنا محال ہے حتیٰ کہ جب یاجوج اور ماجوج (کی رکاوٹ) کو جکھول دیا جائے گا اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے اور سچا وعدہ قریب آپہنچے گا اس وقت کافروں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی ( وہ کہیں گے) ہائے ہماری بدنصیبی ۔ بیشک ہم تو اس سے غفلت میں تھے بلکہ ہم ہی ظلم کرنے والے تھے (الانبیاء :94-97)

نیک اعمال کے لئے ایمان کی شرط ہونا 

الانبیاء :94 کا معنی ہے جس شخص نے اللہ اور اس کے رسول کو جانا اور ان کو مانا یعنی ان کی تصدیق کی اور نیک اعمال کئے یعنی فرائض اور واجبات کو دائماً کیا اور سنن اور مستحبات کو اکثر اوقات میں بجا لایا اور حرام اور مکروہ تحریمی کاموں سے دائماً بچا رہا اور مکروہ تنزیہی اور خلاف اولیٰ سے اکثر اوقات بچا رہا تو اس کے ان اعمال کی ناقدری نہیں ہوگی یعنی اللہ تعالیٰ اس کے ان اعمال کی بہرتین جزا عطا فرمائے گا۔ اس کی مثل یہ آیتیں ہیں :

ومن اراد الاخرۃ وسعی لھا سعیھا وھو مومن فاولئک کان سعیھم مشکوراً (بنی اسرائیل :19) اور جس نے آخرت کا ارادہ کیا اور حالت ایمان میں اس کی قرار واقعی کوشش کی تو یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔ (یعنی اچھی جزا دی جائے گی۔ )

من عمل صالحاً من ذکر اوانثی وھو مومن فلنحینہ حیوۃ طیبۃ ولنجزینھم اجرھم یاحسن ما کانوا یعملون (النحل :97) مرد ہو یا عورت تو ہم اس کو ضرور پاکیزہ زندگی کے ساتھ زندہ رکھیں گے اور ہم اس کو ضرور ان نیک کاموں کا اجر دیں گے جن کو وہ کیا کرتے تھے۔

ان آیات میں ایمان کے ساتھ نیک اعمال کی قید لگائی ہے کیونکہ جو شخص ایمان کیساتھ کفر کرتا ہے، اس کے اعمال ضائع کردیئے جاتے ہیں۔

ومن یکفر بالایمان فقد حبط عملہ (المائدہ : ٥) اور جو ایمان کا انکار کرتے ہیں، ان کے اعمال ضائع کردیئے جاتے ہیں۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ابن جد عان زمانہ جاہلیت میں صلہ رحم کرتا تھا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا، کیا یہ عمل اس کو نفع دے گا ؟ آپ نے فرمایا : یہ عمل اس کو نفع نہیں دے گا ! اس نے ایک دن بھی یہ نہیں کہا اے میرے رب ! قیامت کے دن میرے گناہوں کو بخش دینا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :214، مسند احمد ج ٦ ص 93، مسند احمد رقم الحدیث :25128)

امام احمد کی ایک روایت میں ہے حضرت عائشہ نے کہا وہ مہمان نوازی کرتا تھا، قیدیوں کو قید سے چھڑاتا تھا، صہل رحم کرتا تھا پڑوسیوں سے حسن سلوک کرتا تھا اور میں نے اس کی تعریف کی کیا یہ اعمال اس کو نفع دیں گے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اعمال اس کو نفع نہیں دیں گے، اس نے ایک دن بھی یہ نہیں کہا اے اللہ ! مجھے قیامت کے دن بخش دینا۔ (مسند احمد رم الحدیث :25404، عالم الکتب، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :330)

علامہ قرطبی پر مواخذہ 

علامہ قرطبی مالکی متوفی 668 ھ نے لکھا ہے کہ اس آیت میں من تبعیضیہ ہے جنس کے لئے نہیں ہے، کیونکہ کسی مکلف میں یہ قدرت نہیں ہے کہ وہ فرض اور نقل تمام عبادت کرے سو اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جس نے فرائض اور نوافل میں سے ایمان کی حالت میں کچھ بھی ادا کرلئے تو اس کی سعی مشکور ہوگی۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١١ ص 245 مطبوعہ بیروت)

اگر سعی مشکور ہونے کا یہ معنی ہو کہ وہ جتنا عمل کرے گا اس کو ان کا ثواب مل جائے گا تو یہ تفسیر صحیح ہے اور اگر سعی مشکور ہونے کا یہ مطلب ہے کہ مغفرت ہوجائے گی تو یہ تفسیر صحیح نہیں ہے کیونکہ مغفرت کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ تمام فرئاض اور واجبات کو بجا لائے اور تمام محرمات اور مکروہات تحریمہ سے بچے الایہ کہ اللہ تعالیٰ اس سے درگز فرمائے۔ نیز علامہ قرطبی کا یہ لکھنا بھی صحیح نہیں ہے کہ تمام فرئاض اور نوافل کو ادا کرنا مکلف کی قدرت میں نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بندہ کو اس کا مکلف کیا ہے کہ وہ تمام فرئاض اور واجبات کو ادا کرے اور تمام محرمات اور مکروہات تحریمہ سے اجتناب کرے اور یہ اس کی قدرت میں ہے۔ البتہ نوافل کا اللہ تعالیٰ نے بندہ کو مکلف نہیں کیا، وہ ان کو اپنی طرف سے بجا لاتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 94