أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اِنَّمَا يُوۡحٰۤى اِلَىَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمۡ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ‌ ۚ فَهَلۡ اَنۡـتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے میری طرف یہی وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود صرف ایک مستحق عبادت ہے سو کیا تم اسلام لانے والے ہو ؟

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے کہ میری طرف یہی وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود صرف ایک مستحق عبادت ہے سو کیا تم اسلام لانے والے ہو ؟ پھر اگر یہ پیٹھ پھیر لیں تو آپ کہیے میں واضح طور پر تم کو خبر دار کرچکا ہوں اور میں (از خود) نہیں جانتا کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ نزدیک ہے یا دور بیشک وہ بلند آواز سے کہی ہوئی باتوں کو بھی جانت ہے اور ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جن کو تم چھپاتے ہو اور میں (از خو ’) نہیں جانتا کہ اس (ڈھیل) میں ہوسکتا ہے کہ تمہارے لئے آزمائش ہو اور ایکم عین وقت تک تمہیں فائدہ پہنچانا ہو (نبی نے) کہا اے میرے رب ! حق کے سات ھفیصلہ فرما دے، ہمارا رب رحمٰن ہے اسی سے ان باتوں پر مدد طلب کی جاتی ہے جو تم بیان کرتے ہو (الانبیاء :108-112)

صرف توحید کی وحی کی جانے پر اعتراض کا جواب 

الانبیاء :108 میں فرمای آپ کہیے کہ میری طرف یہی وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود صرف ایک مستحق عبادت ہے۔ اس آیت پر یہ اعتراض ہوگا کہ اس آیت کا معنی تو یہ ہوا کہ آپ پر صرف توحید کی وحی کی جاتی ہے۔ حالانکہ آپ پر توحید کے علاوہ رسالت، قیامت، تقدیر، عذاب وثواب، انبیاء سابقین کے قصص وغیرہ کی بھی وحی کی جاتی ہے۔ امام فخر الدین رازی نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ لفظ انما سے جو حصر مستفادہ ہو رہا ہے، وہ حصر مبالغہ ہے۔ یعنی بہ طور مبالغہ یہ فرمایا ہے کہ آپ پر صرف توحید کی وحی کی جاتی ہے جب کہ آپ پر دیگر امور کی بھی وحی کی جاتی ہے۔ (تفسیر کبیرج ج ٨ ص 194 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1415 ھ)

امام رازی کا جواب بھی درست ہے لیکن میرے نزدیک اس کے اور بھی جواب ہیں، اولاً یہ کہ یہاں پر مشرکین سے خطاب ہے اور ان کے ساتھ سب سے بڑا نزاع توحید اور شرک میں تھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو توحید ہی کی دعوت دیتے تھے۔ اس لئے یہ حصر ان کے اعتبار سے ہے اور اصطلاح میں یہ حصر اضافی ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ نبوت اور دیگر عقائد اور احکام سب توحید ہی کی فرع ہیں جب انسان توحید کو مان لے گا اور اللہ تعالیٰ کے واحد خالق اور مالک ہونے کا اعتراف کرے گا تو پھر وہ باقی عقائد اور احکام بھی مان لے گا اور یہ تمام امور توحید کے تابع ہیں اس لئے فرمایا کہ آپ کہیے کہ میری طرف یہی وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود صرف ایک مستحق عبادت ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 108