أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قٰلَ رَبِّ احۡكُمۡ بِالۡحَـقِّ‌ؕ وَرَبُّنَا الرَّحۡمٰنُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوۡنَ۞

 ترجمہ:

(نبی نے) کہا اے میرے رب حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے ہمارا رب رحمٰن ہے، اسی سے ان باتوں پر مدد طلب کی جاتی ہے جو تم بیان کرتے ہو

الانبیاء :112 میں فرمایا : (نبی نے) کہا اے میرے رب ! حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے۔ ہمارا رب حمٰن ہے، اسی سے ان باتوں پر مدد طلب کی جاتی ہے جو تم بیان کرتے ہو۔

اس آیت کا ایک محمل یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دعا کی کہ اے میرے رب ! جو میرے لائے ہوئے پیغام کے منکر ہیں، ان کے اور میرے درمیان عذاب نازل کر کے فیصلہ فرما دے۔ اس کا دوسرا محمل یہ ہے کہ ہمارے اور ان کے درمیان حق کے ساتھ اس طرح فیصلہ فرما دے کہ سب پر حق ظاہر ہوجائے۔

اختتامی کلمات اور دعا 

الحمد للہ علی احسانہ 28 صفر، 1422 ھ، 23 مئی 2001 ء کو سورة الانبیاء شروع کی تھی اور آج بہ روز جمعرات جمادی الاولٰی 1422 ھ، 26 اگست 2001 ء کو بعد از نماز ظہر یہ سورت اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔ ان تین ماہ کے عرصہ میں مجھے کمر کے درد، شوگر، اسہال اور ضعف اعصاب کے عوارض درپیش رہے۔ بہرحال جب بھی کوئی صحت اور توانائی کے لمحات نصیب ہوتے میں باقاعدگی اور تسلسل کے ساتھ تفسیر لکھنے کے کام میں لگا رہتا، ایک مسئلہ ی ہے کہ لوگ ملنے کے لئے چلے آتے ہیں، کچھ ٹیلی فون کرتے ہیں جس کی وجہ سے کام کے تسلسل میں بہت فرق پڑتا ہے۔ کاش ہمارے لوگ وقت کی اہمیت کو سمجھیں اور جو شخص اپنی صحت اور جان کو دائو پر لگا کر دین کا کام کر رہا ہے، اس کو سکون کے ساتھ کام کرنے دیں۔

اللہ تعالیٰ کا بےاندازہ اور بےحد و حساب شکر ہے کہ اس نے یہاں تک اس تفسیر کو مکمل کرا دیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جس طرح آپ نے یہاں تک محض اپنے کرم سے یہ تفسیر لکھوا دی ہے، بقیہ قرآن مجید کی تفسیر بھی مکمل کرا دیں۔ اس کو قبول عام عطا فرمائیں اور اس کے مضامین میں اثر آفرینی پیدا فرمائیں اور محض اپنے کرم سے میرے گناہوں کو بخش دیں اور دارین میں اپنی رحمتوں اور عطائوں سے نوازیں۔ میں اس لائق تو نہیں ہوں مگر صرف اپنے لطف و کرم سے سرکار دوعالم سیدنا و مولانا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت سے بہرہ یاب فرمائیں اور آپ کی زیارت سے شاد کام فرمائیں۔

واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد خاتم النبین سیدالمرسلین، قائد الغر المحجدین شفیع المذنبین و علی الہ الطییبین و اصنحابہ الراشدین وعلی ازواجہ الطاھرات امھات المومنین و علی علماء ملتہ واولیاء امتہ و علی سائر المسلمین اجمعین۔

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 112