أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا يَسۡمَعُوۡنَ حَسِيۡسَهَا‌ ۚ وَهُمۡ فِىۡ مَا اشۡتَهَتۡ اَنۡفُسُهُمۡ خٰلِدُوۡنَ‌ ۞

ترجمہ:

وہ دوزخ کی آہٹ تک نہ سنیں گے اور انہوں نے جن لذتوں کو چاہا تھا ان میں ہمیشہ رہیں گے

دوزخ سے دور رکھے جانے اور دوزخ میں داخل ہونے کے تعارض کا جواب 

اس آیت پر یہ اعتراض ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نیک لوگ دوزخ میں بالکل داخل نہیں ہوں گے حالانکہ قرآن میں ہے : وان منکم الا واردھا (مریم :71) تم میں سے ہر شخص دوزخ میں وارد ہونے والا ہے۔

اس کے دو جواب ہیں اول یہ کہ دوزخ میں وارد ہونے کا معنی یہ نہیں ہے کہ وہ دوزخ میں داخل ہوں گے بلکہ وہ دوزخ کے نزدیک کھڑے ہوں یا پل صراط پر کھڑے ہوں اس پر بھی صادق آئے گا کہ وہ دوزخ میں وارد ہوئے۔ ثانیاً نیک لوگوں کو دوزخ میں داخل کیا جائے گا لیکن دوزخ ان کے لئے ٹھنڈے اور سلامتی ہوگی جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے نمروذ کی آگ تھی اور اس میں کفار کو زیادہ عذاب ہوگا کہ جو آگ انہیں جلا رہی ہے وہ نیک لوگوں کو نہیں جلا رہی اور پھر نیک لوگوں کو دوزخ سے نکال لیا جائے گا تو جب نیک لوگوں کو دوزخ کی آگ مس نہیں کرے گی تو گویا وہ دوزخ میں داخل ہی نہیں ہوئے۔

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 102