لڑکی سے نفرت جاہلیت کا طریقہ ہے

دور جاھلیت میں کافروں کا رویہ لڑکیوں کے ساتھ کیسا تھا اسے یھی قرآن نے واضح کیا تاکہ اسلام کے علمبردار ہونے بعد وہ جھالت ان میں نہ آسکے،اس لئے کے وہ طریقے اللہ کو پسند نہیں تھے تب تو اسنے انہیں نابود کرنے کے لئے نبی کو اور وہ بھی اپنے حبیب کو مبعوث فرمایا،اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے

واذا بشر احدھم بالانثیی ظل وجھہ مسودا وھو کظیم یتوارا من القوم من سوء ما بشر بہ ایمسکہ علیی ھون اد یدسہ فی التراب علیٰ سآء ما یحکمون

جب ان میں سے کسے کو لڑکی کی خبر دی جائے تو اسکا چھرہ غصہ سے کالا ہو جاتا ہے جو خبر دی گئے اسکی برائی کی وجہ سے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا مٹی میں دبا دے گا کتنا برا فیصلہ کرتے ہیں

اس آیت سے لڑکیوں سے نفرت کی چند باتیں معلوم ہوئیں

(۱)لڑکی کی پیدائش کی خبر سن کر ناراض ہونا

(۲)اس خبر کو بشارت نہ جاننا

(۳) خبر سن کر غصہ ہونا

(۴)لڑکی کو باعث شرم و عار سمجھنا

(۵)اتنا زیادہ شرمندہ ہونا کہ دوستوں سے ملاقات بھی نہ کرنا

(۶) با دل ناخواستہ اسے رکھنا اگر مارڈالنا نہ چاہے

(۷) نہ رکھنا چاہے تو زمین میں دبا دینا

(۸)لوگوں کا اسے طعنہ دیا

(۹) لڑکی سے بدشگونی لینا،یہ سارے برے فیصلے جاھلیت کے لوگوں کے لڑکیوں متعلق تھے اسلام نے اپنی تعلیمات سے انہیں مٹایا اور لڑکیوں کوانسانیت کی ایک عظیم ضرورت قرار دیا