أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاقۡتَـرَبَ الۡوَعۡدُ الۡحَـقُّ فَاِذَا هِىَ شَاخِصَةٌ اَبۡصَارُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ؕ يٰوَيۡلَنَا قَدۡ كُنَّا فِىۡ غَفۡلَةٍ مِّنۡ هٰذَا بَلۡ كُـنَّا ظٰلِمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور سچا وعدہ قریب آپہنچے گا اس وقت کافروں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ (وہ کہیں گے) ہائے ہماری بدنصیبی ! بیشک ہم تو اس سے غفلت میں تھے بلکہ ہم ہی ظلم کرنے والے تھے

قیامت کا خوف اور دہشت 

الانبیاء :97 میں فرمایا : اور سچا وعدہ قریب آپہنچے گا۔ اس وعدہ سے مراد قیامت کا دن ہے، اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جب قیامت واقع ہوگی تو اس کے شدید ہولناک واقعات سے ہر شخص پر گھبراہٹ طاری ہوگی اور اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اور خوف اور دہشت سے کوئی شخص پلک تک نہیں جھپکا سکے گا۔ اس وقت جو بت پرست سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کرتے تھے اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے، وہ افسوس سے ہاتھ ملکر کہیں گے افسوس ! ہم اس سے غافل رہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 97