أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّتِىۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَـنَفَخۡنَا فِيۡهَا مِنۡ رُّوۡحِنَا وَ جَعَلۡنٰهَا وَابۡنَهَاۤ اٰيَةً لِّـلۡعٰلَمِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور اس عورت (مریم) کو یاد کیجیے جس نے اپنی پاک بازی قائم رکھی، تو ہم نے اس میں اپنی روح سے پھونک دیا، اور اس کو اور اس کے بیٹے کو سارے جہان والوں کے لئے اپنی قدرت کی نشانی بنادیا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس عورت (مریم) کو یاد کیجیے جس نے اپنی پاک بازی قائم رکھی تو اس میں اپنی روح سے پھونک دیا اور اس کو اور اس کے بیٹے کو سارے جہان والوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنادیا (الانبیاء :91)

حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ کا قصہ 

یہ اس سورت میں انئیاء (علیہم السلام) اور ان کے متعلقین کا دسواں قصہ ہے۔

حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ کا ذکر ہم نے آل عمران :4258 میں بہت تفصیل سے کیا ہے۔ تبیان القرآن ج ہ ص 142-185 میں اس کے اہم عنوانات یہ ہیں : حضرت مریم کے فضائل، حضرت عیسیٰ کو اللہ کا کلمہ قرار دینے کی توجیہ، مسیح کا عمنی، حضرت عیسیٰ کی وجاہت، حضرت عیسیٰ کے ساتھ وفات کا تعلق بہ معنی موت نہ ہونے کی تحقیق، حضرت عیسیٰ کے ابن اللہ ہونے کی دلیل کا رد اور تبیان القرآن کی اس جلد (سادس) میں مریم :1636 میں بہت تفصیل سے ان کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کے چند اہم عنوانات یہ ہیں، حضرت مریم کے مشرقی جگہ جانے کی وجوہ، حضرت مریم کے پاس حضرت جبریل کا بشر کی صورت میں آنا، فرشتہ سے ہم کلام ہونا حضرت مریم کی نبوت کو مستلزم نہیں، اولیاء اللہ کے مزارات پر مرادیں مانگا، حضرت عیسیٰ کا پیدا ہوتے ہی غالی نصاریٰ کا رد فرمانا، اللہ تعالیٰ کے بیٹا نہ ہونے پر دلائل، معاش کے حصول کے لئے کسب کرنا ضروری ہے، خاموشی کا روزہ رکھنا غیر مشروع ہے، ان کے علاوہ اور بہت سے عنوانات ہیں۔

حضرت مریم میں روح پھونکنے پر اشکال کا جواب 

اس آیت میں فرمایا ہے تو ہم نے اس میں اپنی روح سے پھونک دیا۔ اس پر بہ ظاہر یہ اشکال ہوتا ہے کہ حضرت مریم میں روح پھونکنے کا معنی یہ ہے کہ ان کو زندہ کردیا حالانکہ وہ تو پہلے ہی زندہ تھیں۔ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ یہاں مراد یہ ہے کہ ہم نے مریم میں عیسیٰ کے اندر روح کو پھونک دیا اور ان کو مریم کے پیٹ میں زندہ کردیا، اور اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ ہم نے اپنی روح یعنی جبریل (علیہ السلام) کی طرف سے مریم کے چاک گریبان میں روح پھونک دی او وہ پھونک ان کے پیٹ تک پہنچ گئی۔

حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں 

نیز اس آیت میں فرمایا اور اس (مریم) کو اور اس کے بیٹے کو سارے جہان والوں کے لئے اپنی قدرت کی نشانی بنادیا۔ حضرت مریم میں یہ نشانیاں ہیں :

(١) بغیر مرد کے حضرت مریم کا حاملہ ہونا خلاف عادت کام ہے، یہ حضرت مریم کی کرامت اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ارہاص ہے۔

(٢) حضرت مریم کا رزق جنت سے آتا تھا۔ حضرت مریم سے جب پوچھا جاتا یہ رزق کہاں سے آیا ؟ تو وہ کہتی تھیں یہ اللہ کے پاس سے آیا ہے۔

(٣) حسن نے کہا انہوں نے ایک دن بھی دودھ نہیں پیا اور انہوں نے بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرح بچپن میں کلام کیا۔

اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) میں بہت نشانیاں ہیں وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے، انہوں نے گہوارے میں کلام کیا، وہ مردے زندہ کرتے تھے وہ مادر زاد اندھوں اور برص کے مریضوں کو شفا دیتے تھے ان کو آسمان پر اٹھا لیا گیا اور بہت نشانیاں ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 91