أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِدۡرِيۡسَ وَذَا الۡكِفۡلِ‌ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِيۡنَ‌ ۞

ترجمہ:

اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو یاد کیجیے یہ سب صبر کرنے والے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو یاد کیجیے یہ سب صبر کرنے والے تھے ہم نے ان (سب) کو اپنی رحمت میں داخل کردیا، بیشک یہ سب نیکو کار تھے (الانبیاء :85-86)

حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس (علیہما السلام) کا تذکرہ 

یہ انبیاء (علیہم السلام) کا ساتواں قصہ ہے۔

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کے صبر کا ذکر فرمایا تھا اور ان آیتوں میں حضرت اسماعیل، حضرت ادریس اور حضرت ذواکفل علہیم السلام کا ذکر فرمایا ہے کیونکہ یہ حضرات بھی سختیوں، مصائب اور عبادت کی مشکلات پر صبر کرنے والے تھے۔ رہے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) تو انہوں نے اپنے والد کے حکم پر ذبح کئے جانے کو صبر کے ساتھ تسلیم کرلیا، اور ان کے والد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کو غیر آباد بیابان میں چھوڑکر چلے گئے تھے اس پر انہوں نے صبر کیا، جہاں پر نہ ایسے مویشی تھے جن کا دودھ دوہا جاسکے اور نہ کھیت اور باغات تھے جن سے زمین کی پیدا وار حاصل ہو سکے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) صبر و سکون کے ساتھ اس جگہ رہتے رہے اور صبر کے ساتھ ہی اپنے والد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ مل کر بیت اللہ کی تعمیر کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس صبر کا یہ پھل عطا فرمایا کہ قائد المرسلین اور ختام النبین حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ کی صلب سے پیدا فرمایا۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی مکمل سوانح ہم ابراہیم :39 میں بیان کرچکے ہیں۔

حضرت ادریس (علیہ السلام) کی مفصل سوانح ہم مریم :56 میں ذکر کرچکے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تاکہ وہ ان کو توحید کا پیغام سنائیں ان کو قوم نے اس پیغام کو قبول کرنے سے انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا اور حضرت ادریس (علیہ السلام) کو چوتھے آسمان پر اٹھا لیا۔

حضرت ذوالکفل کو نبی بنانے کا واقعہ 

اللہ تعالیٰ نے الانبیاء :85 میں حضرت ذوالکفل کا حضرت اسماعیل اور حضرت ادیرس کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ص 48 میں حضرت اسماعیل اور السیع (علیہما السلام) کے ساتھ ان کا ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح تعریف اور تحسین کے ساتھ ان کا ذکر کیا ہے اور ان کا ذکر انبیاء (علیہم السلام) کے ذکر کے ساتھ ملا کر رکھا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نبی تھے اور یہی قول مشہور ہے اور بعض نے یہ کہا ہے کہ وہ نبی نہ تھے لیکن نیک اور عادل حکمران تھے۔ امام ابن جریر نے اس مسئلہ میں توقف کیا ہے۔

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت الیسع (علیہ السلام) بوڑھے ہوگئے تو انہوں نے کہا کاش میں کسی شخص کو اپنی زندگی میں خلیفہ مقرر کر دوں اور دیکھوں کہ وہ کس طرح عمل کرتا ہے پھر انہوں نے لوگوں کو جمع کر کے کہا جو شخص میری تین شرطیں پوری کرے گا، میں اس کو خلیفہ بنا دوں گا۔ فرمایا وہ دن کو روزہ رکھے، رات کو نماز میں قیام کرے اور کسی پر غصہ نہ کرے۔ ایک شخص کھڑا ہوگیا جس کو لوگ غیر اہم سمجھتے تھے، اس نے کہا میں ایسا کروں گا۔ حضرت الیسع (علیہ السلام) نے اس دن اس کو لوٹا دیا۔ دوسرے دن پھر اسی طرح فرمایا، لوگ خاموش رہے اور وہ شخص پھر کھڑا ہوگیا۔ اس نے کہا میں اس طرح کروں گا تو حضرت الیسع (علیہ السلام) نے اس کو خلیفہ بنادیا۔ پھر شیطان ان کو لغزش دینے کے لئے پہنچا اور وہ ان کے پاس اس وقت گیا جب وہ قیلولہ (دوپہر کے وقت آرام کرنے) کے لئے لیٹ گئے تھے، وہ رات کو بالکل نہیں سوتے تھے اور دن کو اسی وقت سوتے تھے اس نے دروازہ کھٹکھٹایا، انہوں نے پوچھا تم کون ہو اس نے کہا۔ میں بوڑھا مظلوم شخص ہوں۔ انہوں نے دروازہ کھولا تو اس نے کہا میرا کچھ لوگوں سے جھگڑا ہے۔ انہوں نے مجھ پر ظلم کیا اور اب تک مارتے پصیٹتے رہے حتیٰ کہ صبح ہوگئی اور دوپہر آگئی۔ انہوں نے کہا کہ تم شام کو میرے پاس آنا میں تمہارا حق ان سے لے کر دوں گا۔ حضرت الیسع مجلس میں گئے اور وہ دیکھنے لگے کہ وہ بوڑھا شخص نظر آ رہا ہے یا نہیں، انہوں نے اس بوڑھے شخص کو نہیں دیکھا۔ دور سے روز وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر رہے تھے، وہ اس بوڑھے کا انتظار کرتے رہے، وہ نہیں آیا پھر وہ دوپہر کو اپنے گھر گئے اور سونے کے لئے بستر پر لیٹ گئے تو اس نے دروازہ کھٹکھٹایا، پوچھا کون ہے ؟ اس نے کہا ایک بوڑھا مظلوم آدمی ہے۔ انہوں نے کہا کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ جب میں فیصلہ کے لئے بیٹھوں تم اس وقت میرے پاس آنا ؟ اس نے کہا وہ بہت خبیث لوگ ہیں، جب انہوں نے دیکھا کہ آپ بیٹھے ہوئے ہیں تو انہوں نے کہا ہم تمہیں تمہارا حق ادا کردیتے ہیں اور جب آپ اٹھ کر چلے گئے تو پھر انہوں نے مجھے حق دینے سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا اب تم جائو، جب میں فیصلہ کے لئے جائوں تو تم میرے پاس آجانا۔ ان کا قیلولہ (دوپہر کا سونا) اس دن بھی رہ گیا۔ دوسرے دن وہ پھر اس کا انتظار کرتے رہے، وہ نہیں آیا۔ ان کو اونگھ بہت ستا رہی تھی، انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا تم اس درواہ کے قریب کسی کو مت آنے دیناح تیٰ کہ میں سو جائوں کیونکہ مجھے بہت سخت نیند آرہی ہے، وہ اسی وقت آگیا گھر والوں نے کہا پیچھے جائو پیچھے جائو۔ اس نے کہا میں ان کے اس کل آیا تھا اور میں نے ان سے اپنے معاملہ کا ذکر کیا تھا۔ گھر والوں نے کہا۔ نہیں خدا کی قسم ! انہوں نے ہمیں منع کیا ہے کہ کسی کو میرے قریب نہ آنے دینا کیونکہ میں کئی دن سے سو نہیں سکا۔ جب وہ تھک گیا تو اسے گھر میں ایک روشن دان نظر آیا، وہ اس میں سے گھر میں داخل ہوگیا اور کمرے کا دروازہ کھٹکھٹانے گا۔ وہ بیدار ہوگئے اور کہا اے فلاں شخص ! میں نے تم کو حکم نہیں دیا تھا، میں دیکھتا ہوں کہ تم آئے کہاں سے ہو۔ انہوں نے دیکھا گھر کا دروازہ اسی طرح بند تھا جس طرح انہوں نے بند کیا تھا اور وہ شخص ان کے ساتھ تھا پھر وہ اس کو پہچان گئے کہ یہ شیطان ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے ؟ اس نے کہا ہاں ! تم نے مجھے ہر دائو میں ناکام کردیا۔ میں نے جو کچھ کیا وہ تم کو غضب میں لانے کے لئے کیا تھا، تب اللہ تعالیٰ نے ان کا نام کفل صضامن) رکھا کیونکہ انہوں نے جس چیز کا ذمہ لیا تھا اس کو پورا کردیا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث :13702 تفسیر کبیرج ٨ ص 177، البدایہ والنہایہ ج ١ ص 313)

حضرت ذوالکفل کی نبوت میں علماء کا اختلاف 

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) اور مجاہد نے یہ کہا کہ حضرت ذوالکفل نبی نہیں تھے اور جمہور کا قول یہ ہے کہ وہ نبی تھے اور یہ قول حسب ذیل وجوہ سے راجح ہے :

(١) ذوالکفل آپ کا نام ہے یا لقب، ظاہر ہے یہ آپ کا نام ہے اور آپ کا یہ نام اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے اور کفل کا معنی ہے غیر نبی کے ثواب کا حصہ نبی سے زیادہ نہیں ہوسکتا، اس لئے لازماً ماننا پڑے گا کہ آپ نبی تھے۔

(٢) اللہ تعالیٰ نے آپ کا ذکر حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس (علیہما السلام) کے ساتھ کیا ہے اور مقصد اپنے فضیلت والے بندوں کا ذکر کرنا تھا تاکہ ان کی اقتداء کی جائے اس سے معلوم ہوا کہ آپ نبی تھے۔

(٣) اس سورت کا نام سورة الانبیاء ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس میں جن کا تعظیماً ذکر کیا جائے، وہ نبی ہوں۔ (تفسیر کبیرج ٨ ص 177 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1415 ھ)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ سب صابر ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام بجا لانے کی مشقت پر صبر کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دین کی تبلیغ میں جو اذیت پہنچتی ہے، اس پر صبر کرتے ہیں اور فرمایا ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کردیا۔ مقاتل نے کہا اس رحمت سے مراد نبوت ہے اور دورسوں نے کہا اس سے تمام نیک اعمال مراد ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 85