أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ اَدۡرِىۡ لَعَلَّهٗ فِتۡنَةٌ لَّـكُمۡ وَمَتَاعٌ اِلٰى حِيۡنٍ‏ ۞

ترجمہ:

اور میں (از خود) نہیں جانتا کہ اس (ڈھیل) میں ہوسکتا ہے تمہارے لئے آزمئاش ہو اور ایک معین وقت تک تمہیں فائدہ پہنچانا ہو

الانبیاء :111 میں فرمایا : میں (از خود) نہیں جانتا کہ اس (ڈھیل) میں ہوسکتا ہے تمہارے لئے آزمائش ہو اور ایک معین وقت تک تمہیں فائدہ پہنچانا ہو۔ اس فائدہ کی حسب ذیل تفسیریں ہیں :

(١) ایک معین وقت تک فائدہ پہنچانے سے مردا ان سے عذاب کو مئوخر کرنا ہے۔

(٢) ان سے عذاب کو نال کرنے کے وقت کو مخفی رکھا اس میں ان کے اعمال کی آزمائش ہے، آیا وہ اپنے کفر اور ہٹ دھرمی سے رجوع اور توبہ کرتے ہیں یا نہیں۔

(و) ان سے جہاد کو مئوخر کرنے میں ان کی آزمائش ہے تاکہ اس سے پہلے کہ ان کے خلاف جہاد کیا جائے، وہ توبہ کرلیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 111