أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَتَقَطَّعُوۡۤا اَمۡرَهُمۡ بَيۡنَهُمۡ‌ؕ كُلٌّ اِلَـيۡنَا رٰجِعُوۡنَ۞

 ترجمہ:

اور انہوں نے اپنے دین میں (مختلف) فرقے بنا لیے، وہ سب ہماری ہی طرف لوٹ کر آنے والے ہیں

دین میں فرقے بنانے کی ممانعت 

اور فرمایا اور انہوں نے یعنی بےدینوں نے اپنے اپنے دین میں اختلاف کیا اور مختلف فرقے بنا لئے۔ اس آیت میں دین میں فرقے بنانے کی مذمت کی گئی ہے اور احادیث میں بھی دین میں فرقہ بنانے کی ممانعت کی گئی ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہود کے اکہتر یا بہتر فرقے تھے اور نصاریٰ کے بھی اتنے ہی فرقے تھے اور میری امت کے تہتر فرقے ہوں گے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیب :2640، سنن ابودائود رقم الحدیث، 4596 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :3991، مسند احمد ج ہ ص 332 مسند ابویعلی رقم اہلحدیث 5910 صحیح ابن حبان رقم الحدیث :6247 المستدرک ج ١ ص 128)

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت پر بھی برابر، برابر وہی امور وارد ہوں گے جو بنی اسرائیل پر وارد ہوتے رہے تھے حتیٰ کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنی ماں کے ساتھ علانیہ بدکاری کی تھی تو میری امت کے لوگ بھی ایسا کریں گے، اور بنی اسرائیل کے بہتر فرقے تھے اور میری امت کے تہتر فرقے ہوں گے اور ایک ملت کے سوا باقی تمام فرقے دوزخ میں ہوں گے۔ مسلمانوں نے پوچھایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ کون سی ملت ہوگی ؟ فرمایا جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں۔ (سنن ابن ماجہ میں ہے جس ملت پر جماعت (صحابہ) ہو) (سنن الترمذی رقم الحدیث :2641 المستدرک ج ١ ص 129 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 3992)

قاضی ابوبکر محمد بن عبداللہ المعروف بابن العربی المالکی المتوفی 543 ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں۔

ہمارے علماء نے ان فرقوں کی یہ تفصیل ذکر کی ہے روافض کے بیس فرقے ہیں، خوارج کے بیس فرقے ہیں، القدریہ المعتزلہ کے بیس فرقے ہیں، سات فرقے الارجاء کے ہیں۔ ان کے علاوہ الفراریہ، الجھمیہ، الکرامیہ، النجاریہ ہیں اور ایک فرقہ جھمیہ اور مرحبہ کا جامع ہے یہ بہتر فرقے ہوگئے۔ (یہ فرقے علامہ ابن العربی ج کے دور کے اعتبار سی ہیں، ان میں سے کچھ فرقے اپنی موت مرگئے اور کچھ نئے فرقے وجود میں آگئے۔ سعیدی غفرلہ) ایک اور فرقہ ہے جو صرف ظاہر قرآن اور حدیث کو مانتا ہے اور قیاس اور استدلال کا انکار کرتا ہے۔ یہ بھی قدریہ کی ایک قسم ہے، ان کو ہمارے ملک اندلیس میں ایک شخص نے گمراہ کیا اس کا نام ابن حزم ہے۔ اس نے اپنے آپ کو ظاہر کی طرف منسوب کیا اور دائود کی پیروی کی۔ (ہمارے دور میں غیر مقلدرین اس کے پیرو کار ہیں) (عارضتہ الاحوذی ج 10 ص 78-80 ملحضاً مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1418 ھ)

اس حدیث کی مکمل تفصیل اور تحقیق ہم نے تبیان القرآن ج ۃ ص 521-525 میں کی ہے، وہاں ملاحظہ فرمائیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 93