أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَزَكَرِيَّاۤ اِذۡ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرۡنِىۡ فَرۡدًا وَّاَنۡتَ خَيۡرُ الۡوٰرِثِيۡنَ‌ ۞

ترجمہ:

اور زکریا کو یاد کیجیے جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا، اے میرے رب ! مجھے اکیلا نہ چھوڑنا اور تو سب وارثوں سے بہتر وارث ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور زکریا کو یاد کیجیے جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا اے میرے رب ! مجھے اکیلا نہ چھوڑنا اور تو سب وارثوں سے بہتر وارث ہے تو ہم نے ان کی دعا سن لی اور ہم نے ان کو یحییٰ عطا کئے اور ہم نے ان کی (باندجھ) بیوی کو تندرست کردیا، بیشک وہ (سب) نیک کاموں میں جلدی کرتے تھے اور شوق اور خوف سے ہم سے دعائیں کرتے تھے اور وہ ہم سے عاجزی کرنے والے تھے (الانبیاء :89-90)

حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہما السلام) کا قصہ 

یہ انبیاء (علیہم السلام) کا نواں قصہ ہے۔

حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہما السلام) کا قصہ ہم نے آل عمران :3741 تبیان القرآن ج ہ ص 141-151، میں بیان کیا ہے اور ان عنوانات پر بحث کی ہے : حضرت زکریا (علیہ السلام) کی سوانح، حضرت زکریا (علیہ السلام) کا حضرت مریم کی کفالت کرنا۔ خضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کرنے کا سبب، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی سوانح، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کرنا، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی ولادت کو حضرت زکریا کے مستبعد سمجھنے کی توجیہ، تین دن کے لئے حضرت زکریا (علیہ السلام) کی زبان بند کرنے فوائد اور حکمتیں۔

حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہما السلام) کا ذکر ہم نے تبیان القرآن کی اس جلد ساوس میں بھی کیا ہے، مریم :115 میں اور اس میں ان عنوانات پر بحث کی ہے : حضرت زکریا (علیہ السلام) پر رحمت کی توجیہ، حضرت زکریا علیہالسلام کے نداء خفی کرنے کی توجیہ، عا کے آداب، انبیاء کے علم کا وارث بنایا جاتا ہے ان کے مال کا وارث نہیں بنایا جاتا، حضرت زکریا (علیہ السلام) کو اللہ نے بشارت دی تھی یا فرشتوں نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کا نام یحییٰ رکھنے کی وجوہ، حضرت زکریا (علیہ السلام) کے اس سوال کی توجیہ کہ میرے یہاں لڑکا کیسے ہو گاڈ حضرت زکریا (علیہ السلام) کا تین دن تک بات نہ کر سکنا، حضرت زکریا (علیہ السلام) کی محراب کا مصداق، محراب کا لغوی اور اصطلاحی معنی، امام کے محراب میں کھڑے ہونے کی تحقیق، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) پر تین بار سلام کی خصوصیت، یوم میلاد پر خوشی منانے اور یوم وفات پر غم نہ منانے کا جواب۔

علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل کی تحقیق 

حضرت زکریا (علیہ السلام) نے دعا کی تھی تو مجھے اپنے پاس سے وارث عطا فرما جو میرا بھی وارث ہو اور آلیعقوب کا بھی وارث ہو۔ (مریم :5-6)

امام بخاری نے تعلیقاً یہ حدیث ذکر کی ہے :

ان العماء ھم ورثۃ الانبیاء ورثوا العلم۔ بیشک علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں، انبیاء علم کا وارث کرتے ہیں۔ (صحیح البخاری کتاب العلم، باب 10 سنن الترمذی رقم الحدیث :2682، سنن ابودائود رقم الحدیث :3641، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :223، مسند احمد ج ٥ ص 196 سنن الدارمی رقم الحدیث 349 صحیح ابن حبان رقم الحدی :88 مسند الشامین رقم الحدیث :123 شرح السنتہ رقم الحدیث :129)

اسی مضمون کی ایک اور حدیث زبان زد خلائق ہے، وہ ہے علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل میری امت کے علماء بنی اسرئایل کے انبیاء کی مثل ہیں۔

علامہ شمس الدین محمد بن ابراہیم السخاوی المتوفی 902 ھ اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں :

اس حدیث کے بارے میں ہمارے شیخ اور ان سے پہلے علامہ دمیری اور زرکشی نے کہا ہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں ہے اور یہ کسی معتبر کتاب میں معروف نہیں ہے۔ البتہ ابونعیم نے پاک دامن عالم کی فضیلت میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبوت کے سب سے قریب وہ لوگ ہیں جو اہل علم اور اہل جہاد ہوں۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ (مقاصد الحسنہ ص 293، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1407 ھ)

علامہ اسماعیل بن محمد العجلونی المتوفی 1162 ھ اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں :

علامہ سیوطی نے الدار المنتژہ میں لکھا ہے کہ اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے، اسی طرح حافظ ابن حجر نے بھی کہا ہے کہ اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے۔ (کشف الخفاء ج ٢ ص 64، مطبوعہ مکتبتہ الغزالی دمشق)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 89