أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَعَلَّمۡنٰهُ صَنۡعَةَ لَبُوۡسٍ لَّـكُمۡ لِتُحۡصِنَكُمۡ مِّنۡۢ بَاۡسِكُمۡ‌ۚ فَهَلۡ اَنۡـتُمۡ شٰكِرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے دائود کو تمہارے لئے خاص لباس (زرہ) بنانا سکھایا تاکہ وہ تم کو جنگوں میں محفوظ رکھے، پس کیا تم شکر ادا کرو گے ؟

انبیاء (علیہم السلام) کا مختلف پیشوں کو اپنانا 

اس کے بعد فرمایا : اور ہم نے دائود کو تمہارے لئے خاص لباس (زرہ) بنانا سکھایا تاکہ وہ تم کو جنگوں میں محفوظ رکھے پس کیا تم شکر ادا کرو گے !۔ (الانبیاء :80)

قتادہ نے کہا سب سے پہلے جس نے زرہ کی صنعت ایجاد کی وہ حضرت دائود (علیہ السلام) ہیں۔ اس سے پہلے فولاد کے پتروں کو لوگ بہ طور ڈھال استعمال کرتے تھے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے لوہے کے حلقے (چھلے) بنائے اور ان کو جوڑ کر قمیض تیار کرل ی۔ حسن نے ذکر کیا ہے کہ لقمان حکیم حضرت دائود (علیہ السلام) سے ملنے گئے اس وقت وہ زرہ بنا رہے تھے، انہوں نے ارادہ کیا کہ پوچھیں آپ کیا بنا رہے ہیں لیکن وہ خاموش رہے حتیٰ کہ حضرت دائود (علیہ السلام) قمیض بنا کر فارغ ہوگئے۔ تب انہوں نے کہا خاموش رہنا بھی حکمت ہے اور کم لوگ اس حکمت کو اختیار کرتے ہیں۔ مفسرین نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کے لئے لوہے کو نرم کردیا تھا اور وہ اس کو آگ سے پگھلائے بغیر دھاگے کی طرح اس سے زرہ بن لیتے تھے۔ (تفسیر کبیرج ٨ ص 168)

یہ آیت حصول معاش کے لئے صنعت، کاری گری اور پیشے کی اصل ہے۔ بعض جاہل غبی اور متکبر لوگ بعض پیشوں کو حقیر حسیس اور گھٹیا کام سمجھتے ہیں حالانکہ اسباب، صنعتوں اور پیشوں کو اختیار کرنا اللہ تعالیٰ کا سکھایا ہوا طریقہ ہے سو جو شخص پیشوں پر طعن کرتا ہے وہ درحقیقت کتاب اور سنت پر طعن کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) لوہے سے زرہ بناتے تھے اور اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔ علامہ قرطبی نے ذکر کیا ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) کاشت کاری کرتے تھے حضرت نوح (علیہ السلام) بڑھئی تھے لکڑی سے چیزیں بناتے تھے۔ حضرت لقمان (علیہ السلام) درزی تھے کپڑے سیتے تھے۔ حضرت طالوت (علیہ السلام) رگن ریز تھے، کپڑے رنگتے تھے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١١ ص 227) اور ہمارے رسول سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہرچند کہ خصوصیت کے ساتھ کوئی پیشہ نہیں اپنایا کین آپ نے بکریاں چرائی ہیں، بکریوں کا دودھ دوہا ہے، پھٹے ہوئے کپڑے سی لئے ہیں، کپڑے دھوئے ہیں، جوتیوں کی مرمت کی ہے، زمین کھودی ہے، اس لئے کسی کام اور پیشہ کو برا اور حقیر نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ ہمارے آقا اور مولی نے بہت سے ان کاموں کو کیا ہے، جن کو آج کل گھٹیا سمجھا جاتا ہے۔ رزق حلال حاصل کرنے کے لئے جو بھی جائز کام اور حلال پیشہ اپنایا جائے، وہ قابل تعریف اور لائق تحسین ہے۔

رزق حلال کی طلب کے لئے کسی بھی کام اور پیشے کی فضیلت میں احادیث 

حضرت مقدام (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اپنے ہاتھ سے کمائی کر کے کھاتا ہو اس سے بہتر طعام کوئی نہیں کھاتا اور اللہ کے نبی حضرت دائود (علیہ السلام) اپنے ہاتھ سے کمائی کر کے کھاتے تھے (صحیح البخاری رقم الحدیث :2072، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :2138، مسند احمد رقم الحدیبث :17322)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص لکڑیاں کاٹ کر اپنی پشت پر لاد کر لائے، وہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے سوال کرے کوئی اس کو دے اور کوئی اس کو منع کر دے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث :2074، صحیح مسلم رقم الحدیث :2138، مسند احمد رقم الحدیث :2138 مسند احمد رقم الحدیث :17322)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص لکڑیاں کاٹ کر اپنی پشت پر لاد کر لائے، وہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے سوال کرے کوئی اس کو دے اور کوئی اس کو منع کر دے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :2074، صحیح مسلم رقم الحدیث :1042، سنن النسائیرقم الحدیث :2584 سنن الترمذی رقم الحدیث :680، مسند احمد رقم الحدیث 7315)

حضرت سعید بن عمیر انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ کون سا پیشہ سب سے زیادہ پاکیزہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : کسی شخص کا اپنے ہاتھ سے کمانا اور ہر جائز بیع (خریدو فروخت، تجارت) ایک روایت میں ہے کسب حلال۔

(سنن کبری للبیہقی ج ٥ ص 263، شعب الایمان رقم الدیث :1226, 1225، المستدرک ج ٢ ص 10 حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح ہے اور ذہبی نے اس کی موافقت کی)

سکن نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حلال کو طلب کرنا ایسا ہے جیسے بہادر اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور ہتھیار مارتے ہیں اور جس نے رزق حلال کی طلب میں تھکے ہوئے رات گزاری، اس نے اس حال میں رات گزاری کہ اللہ اس سے راضی تھا۔ کسی نے پوچھا بہادروں کے مارنے سے کیا مراد ہے کہا رزق حلال کو طلب کرنا اور اپنے اہلو عیال کی پرورش کرنا۔ (شعب الایمان رقم الحدیث :1232)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رزق حلال کو طلب کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔ (المعجم الاوسط رقم الحدیث :6805)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زمین کے گوشے گوشے سے رزق کو طلب کرو۔ امام بیہقی نے کہا اس سے مراد زمین میں کھیتی باڑی کرنا ہے۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ (شعب الایمان رقم الحدیث :1233، المعجم الاوسط رقم الحدیث :8093، مسند ابویعلی رقم الحدیث :4384)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس مومن سے محبت کرتا ہے جو کوئی (جائز) پیشہ کرتا ہے۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث :1320، شعب الایمان رقم الحدیث :1237، الجامع الصغیر رقم الحدیث :1873، الکامل لابن عدی ج ١ ص 369، المعجم الاوسط رقم الحدیث :9097 حافظ الہیثمی نے کہا اس کی سند ضعیف ہے۔ مجمع الزوائد رقم الحدیث :6231)

نافع بیان کرتے ہیں کہ میں شام کی طرف اور مصر کی طرف سامان تجارت لے کرجاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے مجھے اس میں بہت اچھا اور بہت زیادہ رزق عطا فرماتا تھا، پھر ایک بار عراق کی طرف سامان تجارت لے گیا تو میں ال پونجی بھی کھو بیٹھا، پھر میں حضرت عائشہ (رض) کے پاس گیا تو انہوں نے فرمایا اے میرے بیٹے ! اپنی تجارت کو لازم رکھو کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تمہارے لئے رزق کا کوئی دروازہ کھول دیا جائے تو اسی پر لازم رہو۔ (شعب الایمان رقم الحدیث :1243)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو شخص شام تک اپنے ہاتھوں سے کام کرتے تھک گیا، اس کی مغفرت کردی جائے گی۔ (المعجم الاوسط رقم الحدیث :6238، مجمع الزوائد ج ٤ ص 63)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بعض گناہ ایسے ہیں جن کا کفارہ نماز، روزے، حج اور عمرہ سے نہیں ہوتا۔ مسلمانوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! پھر ان گنہوں کا کفارہ کس چیز سے ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : طلب معاش کی فکر اور پریشانی سے۔ (المعجم الاوسط رقم الحدیث :102)

حافظ الہیثمی لکھتے ہیں اس حدیث کی سند میں محمد بن سلام مصری ہے جو یحییٰ بن بکیر سے موضوع حدیث روایت کرتا ہے اور اس حدیث میں اسی سے روایت ہے۔ مجمع الزوائد ج ٤ ص 63، حافظ سیوطی نے اس حدیث پر ضعف کی علامت لگائی ہے، یعنی یہ حدیث ضعی ہے، موضوع نہیں ہے۔ (الجامع الصغیر رقم الحدیث :2461)

صفوان بن امیہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، عرفطہ بن نہک تمیمی کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے اور میرے اہل بیت کو شکار کرنے سے رزق ملتا ہے اور اس میں ہمار لئے رزق کا حصہ اور برکت ہے لیکن اس کی مشغولیت کی وجہ سے اللہ کا ذکر اور نماز کی جماعت رہ جاتی ہے اور ہمیں اس شکار کی احتیاج ہے۔ آیا یہ ہمارے لئے حلال ہے یا حرام ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ نے اس کو تمہارے لئے حلال کردیا ہے۔ (احل لکم صید البحر و طعامہ) المائدہ :96، تمہارے لئے سمندر کا شکار اور اس کا طعام حلال کردیا گیا ہے) اور شکار کو طلب کرتے تھے اور جب تم رزق کی طلب کی وجہ سے باجماعت نماز نہ پڑھ سکو (تو اس کی تلافی کے لئے) با جماعت نماز پڑھنے والوں سے تمہاری محبت اور اللہ کا ذکر کرنے والوں سے تمہاری محبت کافی ہے، تم اپنے لئے اور اپنے بال بچوں کے لئے رزق حلال کو طلب کرو کیونکہ یہ (بھی) اللہ کی راہ میں جہاد ہے اور یاد رکھو کہ نیک تجارت میں اللہ کی مدد ہوتی ہے۔ (المعجم الکبیر رقم الدیث :7342، مسند الشامیین رقم الحدیث :3628، حافظ الہیثمی نے کہ کا اس کی سند میں بشر بن نمیر ہے اور وہ مترو کہے، مجمع الزوائد ج ٤ ص 63)

میں کہتا ہوں کہ ہرچند کہ یہ حدیث روایتاً ضعیف ہے لیکن ورایتاً صحیح ہے۔ تاہم جس قدر مقدار میں رزق کا حصول ناگزیر ہو اس کے لئے جماعت کو ترک کرنا جائز ہے اور اگر مال کی کثرت کے لئے اور دنیا جمع کرنے کی وجہ سے نمازوں کی جماعت کو ترک کرتا ہے تو یہ جائز نہیں ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جماعت سے نماز پڑھنے کی بہت تاکید فرمائی ہے حتیٰ کہ میدان جہاد میں بھی جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا لزم ہے۔

حضرت ایوب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب نے ٹیلے کی چوٹی سے قریش کے ایک آدمی کو آتے دیکھا۔ صحابہ نے کہا یہ شخص کتنا طاقوتر ہے، کاش اس کی طاقت اللہ کے راستہ میں خرچ ہوتی۔ اس پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا صرف وہی شخص اللہ کے راستہ میں ہے جو قتل کردیا جائے ؟ پھر فرمایا : جو شخص اپنے اہل کو سوال سے روکنے کے لئے حلال کی طلب میں نکلے وہ بھی اللہ کے راستہ میں ہے۔ البتہ جو شخص مال کی طلب میں اللہ کے راستہ میں نکلے، وہ شخص شیطان کے راستہ میں ہے۔ (مصنف عبدالرزاق ج ٥ ص 271-272 شعب الایمان رقم الحدیث :10377)

حضرت کعب بن عجرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے ایک شخص گزرا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب نے اس کی قوت اور اطمینان کو دیکھ کر کہا یا رسول اللہ ! کاش یہ شخص اللہ کی راہ میں ہوتا، پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر یہ شخص اپنے چھوٹے بچوں کے لئے کسب معاش کر رہا ہے تو یہ اللہ کی راہ میں ہے اور اگر یہ اپنے بوڑھے ماں باپ کے لئے کسب معاش کر رہا ہے تو بھی یہ اللہ کی راہ میں ہے اور اگر یہ اپنے آپ کو سوال سے روکنے کے لئے کسب معاش کر رہا ہے تو بھی یہ اللہ کی راہ میں ہے اور اگر یہ دکھاوے اور فخر کے لئے نکلا ہے تو پھر یہ شیاطن کے راستے میں ہے۔ (المعجم الکبیر ج ١٩ ص 129 رقم الحدیث :282، حافظ الہیثمی نیح کہ کا اس حدیث کی سند صحیح ہے مجمع الزوائد ج ٤ ص 325، شعب الایمان رقم الحدیث :871, 870)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب محنت مزدوری کرتے تھے، ان کے جسم سے بو آنے لگی تھی۔ ان سے کہا گیا کاش تم غسل کرلیا کرو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :2701، سنن ابودائود رقم الحدی :352)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدی (رض) کو خلیفہ بنایا گیا تو انہوں نے فرمایا : میری قوم کو معلوم ہے کہ میرا پیشہ میرے اہل و عیال کی کا فلت سے عجز نہیں ہے لیکن اب میں مسلمانوں کے ملکی انتظام سنبھالنے میں مشغول ہوگیا ہوں، تو اب ابوبکر کی اولاد اس مال سے کھائے گی اور ابوبکر مسلمانوں کی دینی اور ملکی امور انجام دے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :2070)

عطا بن السائب بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر کو خلیفہ بنایا گیا تو حضرت ابوبکر اپنے کندھے پر کپڑوں کی گھٹڑی رکھ کر کپڑے بیچنے کے لئے بازار نکل گئے، ان کی حضرت عمر اور حضرت ابوعبیدہ بن جراح سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا : خلفیہ بن چکے ہیں۔ آپ نے کہا پھر میں اپنے اہل و عیال کو کہاں سے کھلائوں گا ؟ ان دونوں نے کہا چلیے ہم آپ کے لئے وظیفہ مقرر کردیتے ہیں پھر انہوں نے آپ کے لئے ہر روز آدھی بکری اور سر اور پیٹ ڈھانپنے کا لباس مقرر کیا۔ (الطبقات الکبریٰ ج ٣ ص 184، دار صادر بیروت، 1338 ھ، قدیم، الطبقات الکبری ج ٣ ص 137، دارالکتب العلمیہ، 1418، جدید)

بعض پیشوں کو گھٹیا اور باعث عار سمجھنا صرف اس دور کی لعنت ہے 

آج کل جو شخص پھیری لگا کر کندھے پر گٹھڑی رکھ کر کپڑا بیچتا ہو، اس کو گھٹیا خیال کرتے ہیں مگر حضرت ابوبکر یہی کام کرتے تھے۔ امام احمد بن عمر الخصاف المتوفی 261 ھ بہت بڑے فقیہ اور عابد و زاہد تھے، ان کی فقہ میں بہت تصانیف ہیں، عربی میں خصاف موچی کو کہتے ہیں یہ جوتیوں کی مرمت کرتے تھے۔ علامہ احمد بن محمد بن احمد القادوری المتوفی 4428 ھ بہت بڑے فقیہ تھے۔ ان کی کتاب مختصر القدوری بہت عظیم کتاب ہے اور درس نظامی میں شامل ہے، القدوری عربی میں مٹی کی ہنڈیا بچینے والے کو کہتے ہیں۔ علامہ محمود بن احمد الحصیری المتوفی 546 ھ ایک فقیہ ہیں عربی میں الحصیری اس شخص کو کہتے ہیں جو چٹائی بناتا ہو۔ امام ابوبکر ابن علی الحدادی المتوفی 800 ھ بہت بڑے عالم تھے۔ انہوں نے مختصر القدوری کی شرح لکھی ہے۔ عربی میں حدادلوہار کو کہتے ہیں، اس لئے ان کو حدادی کہتے ہیں۔

آج کل کندھے پر گٹھڑی رکھ کر بیچنے والے، جوتیوں کی مرمت کرنے والے مٹی کے برتن بنانے والے چٹائی بنانے والے اور لوہار کو حقیر اور کمتر آدمی سمجھا جاتا ہے اور پوش علاقوں میں رہنے والے ایسے لوگوں کو رشتہ دینے پر تیار نہیں ہوتے لیکن مسلمانوں کے زرین دور میں یہ لوگ مسلمانوں کے امام تھے۔ اس زمانہ میں کسی بھی پیشہ کو صرف حصول رزق کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا اور کسی پیشہ کو خسیس اور باعث عار نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اب عزت اور ذلت کا معیار اور اس کے پیمانے بدل گئے ہیں۔ اب سودی کاروبار کرنے والے، اسمگلنگ کرنے والے، نفلی دوائیں بنا کر بیچنے والے اور ناجائز اور حرام ذرئاع سے مال بنا کر کوٹھیوں میں رہنے والے، بینک بیلنس والے عزت دار ہیں اور رزق حلال کے حصول کے لئے پھیری لگانے والا لوہے کا کام کرنے والا چٹائی بنانے والا مٹی کے برتن بنانے والا اور جوتی کی مرمت کرنے والا حقیر اور ذلیل ہے جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک عزت والے ہیں، وہ اس دور کے لوگوں کے نزدیک ذلت والے ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 80