أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَـقَدۡ كَتَبۡنَا فِى الزَّبُوۡرِ مِنۡۢ بَعۡدِ الذِّكۡرِ اَنَّ الۡاَرۡضَ يَرِثُهَا عِبَادِىَ الصّٰلِحُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نصیحت کرنے کے بعد زبور میں یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہی ہوں گے

زبور کے معانی 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور ہم نصیحت کرنے کے بعد زبور میں یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہی ہوں گے۔ (الانبیاء :105) زبور کے متعلق مفسرین کے حسب ذیل اقوال ہیں :

(١) سعید بن جبیر، مجاہد، مقاتل اور ابن زید نے کہا آسمانی کتابوں کو زبور کہتے ہیں اور من بعد الذکر میں ذکر سے مراد لوح محفوظ ہے کیونکہ اس میں مستقبل میں ہونے والی تمام باتیں لکھی ہوئی ہیں اور انئبیاء (علیہم السلام) پر نزل ہونے والی کتابیں بھی وہیں سے لکھی گی ہیں اور اب آیت کا معنی ہوگا ہم نے لوح محفوظ میں لکھنے کے بعد آسمانی کتابوں کو لکھ دیا۔

(٢) قتادہ اور شعبی نے کہا زبور سے مراد قرآن مجید ہے اور ذکر سے مراد تورات ہے اور اب معنی یہ ہے کہ ہم نے تورات میں قرآن مجید کو نازل کرنے کے متعلق لکھ دیا تھا۔

(٣) زبور سے مراد حضرت دائود (علیہ السلام) کی زبور ہے اور ذکر سے مراد نصیحت ہے۔

(٤) ذکر سے مراد علم ہے۔ یعنی ہم نے علم کے باوجود زبور میں لکھ دیا تھا اور لکھنیھ سے یہ وہم نہ کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اس لئے لکھا تھا کہ اس کو سہو ہوجائے گا یا وہ بھول جائے گا۔

قرآن مجید کے صدق پر زبور کی شہادت 

ہم نے اس آیت کے ترجمہ میں لکھا ہے اور ہم نصیحت کرنے کے بعد زبور میں یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔ اب ہم زبور کے حوال ی سے اس نصیحت اور نیک بندوں کے لئے زمین کی وراثت کو بیان کرنا چاہتے ہیں تاکہ قرآن مجید کی صداقت اور حقانیت واضح ہوجائے۔

باب :37 دائود کا مزمور (یعنی ان کا گیت)

توبد کرداروں کے سبب سے بیزار نہ ہو اور بدی کرنے والوں پر رشک نہ کر کیونکہ وہ گھاس کی طرح جلد کاٹ ڈالے جائیں گے اور سبزہ کی طرح مر جھا جائیں گے۔ خداوند پر توکل کر اور نیکی کر۔ ملک میں ابادرہ اور اس کی وفاداری سے پرورش پا۔ خداوند سے مسرور رہ اور وہ تیرے دل کی مرادیں پوری کرے گا۔ اپنی راہ خداوند پر چھوڑ دے اور اس پر توکل کرو ہی سب کچھ کرے گا۔ اور وہ تیری راستبازی کو نور کی طرح اور تیرے حق کو دوپہر کی طرح روشن کرے گا۔ خداوند میں مطمئن رہ اور صبر سے اس کی آس رکھ۔ اس آدمی کے سبب سے جو اپنی راہ میں کامیاب ہوتا اور برے منصوبوں کو انجام دیتا ہے بیزار نہ ہو۔ قہر سے باز آ، ملک کے وارث ہوں گے۔ (زبور باب 37 آیت 1-9 پرانا عہد نامہ ص :548، مطبوعہ لاہور، 1992 ء)

یہ گیت 40 آیتوں پر مشتمل ہے اور اس میں مسلسل نصیحت کی آیتیں ہیں اور کئی جگہ نیکوں کو زمین کا وارث کرنے کا ذکر ہے۔ آیت 9 کے بعد آیت 11 میں ہے لیکن حلیم ملک کے وارث ہوں گے اور سلامتی کی فراوانی سے شادمان رہیں گے۔ اس کے بعد آیت 22 میں ہے کیونکہ جن کو وہ برکت دیتا ہے وہ زمین کے وارث ہوں گے اور جن پر وہ لعنت کرتا ہے وہ کاٹ ڈالے جائیں گے۔ پھر آیت 34 میں ہے خداوند کی آس رکھ اور اس کی راہ پر چلتا رہ اور وہ تجھے سرفراز کر کے زمین کا وارث بنائے گا۔ (پرانا عہد نامہ ص 528-529 مطبوعہ بائبل سوسائٹی لاہور 1992 ء)

اور اس طرح قرآن مجید نے جو ہا تھا کہ ہم زبور میں نصیحت کرنے کے بعد یہ لکھے چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہی ہوں گے اس آیت کا صدق زبور کی شہادت سے ظاہر ہوگیا۔

ہزاروں سال گزر گئے، بائبل میں بہت تبدیلی اور تحریف بھی کی گئی ہے لیکن قرآن مجید نے جو کہا تھا کہ زبور میں نصیحت کے بعد ہم یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہی ہوں گے، وہ نصیحت اور وراثت کا قاعدہ زبور میں آج بھی اسی طرح موجود ہے اور یہ قرآن مجید کی صدقات اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی حقانیت پر آفتاب سے زیادہ روشن دلیل ہے۔

زمین کی وراثت سے جنت کی زمین مراد ہونا 

زمین کی وراثت کے دو محمل ہیں ایک یہ ہے کہ اس سے مراد جنت کی زمین ہے اور دوسرا یہ ہے کہ اس سے مراد دنیا کی زمین ہے۔ اکثر مفسرین کا یہ رجحان ہے کہ اس زمین سے مراد جنت کی زمین ہے کیونکہ دنیا کی زمین کے وارث تو نیک اور بد مومن اور کافر سب قسم کے لوگ ہوتے رہتے ہیں اور آیت کا معنی اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ ہیں اور انبیاء (علیہم السلام) کی کتابوں اور صحیفوں میں یہ لکھ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے جنت کے وارث نیک بندے ہی ہوں گے۔ حضرت ابن عباس، مجاہد، سعید بن جبیر، عکرمہ اور ابو العالیہ وغیرہ کا یہی قول ہے اور اس معنی کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ اہل جنت، جنت میں داخل ہونے کے بعد کہیں گے :

(الزمر :74) (جنتی) کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ پورا کیا اور ہم کو اس زمین کا وارث بنادیا ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں قیام کرتے ہیں او نیک عمل کرنے والوں کا کیا ہی اچھا اجر ہوتا ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ جنت ہی وہ زمین ہے جو نیک لوگوں کے ساتھ خاص کی گئی ہے اور ان کے لئے بنائی گئی ہے اور ہم جیسے گناہ گار اگر جنت میں گئے تو بالتبع جائیں گے۔ (اللہ ہم کو بھی جنت میں داخل کر دے گو ہم اس کے لائق نہیں) اور رہی دنیا کی زمین تو وہ خصوصیت کے ساتھ نیک لوگوں کے لئے نہیں بنائی گئی۔

تیسری وجہ یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے زبور کا حوالہ دیا ہے کہ ہم زبور میں نصیحت کرنے کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہی ہوں گے اور زبور کی آیتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ وراثت دائمی اور ابدی ہوگی اور زمین میں ابدی وراثت تو صرف جنت میں ہوسکتی ہے کیونکہ دنیا تو فانی ہے۔ اب حضرت دائود (علیہ السلام) کے اس گیت میں وہ آیتیں پڑھیں جن میں دائمی وراثت کا ذکر ہے :

کامل لوگوں کے ایام کو خداوند جانتا ہے ان کی میراث ہمیشہ کے لئے ہوگی۔ زبور : باب 37 آیت 18 بدی کو چھوڑ دے اور نیکی کر اور ہمیشہ تک آباد درہ۔ زبور : باب 37 آیت 27 صادق زمین کے وارث ہوں گے اور اس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔ زبور : باب 37 آیت 29

زمین کی وراثت سے دنیا کی زمین مراد ہونا 

اور بعض مفسرین نے کہا اس سے مراد دنیا کی زمین ہے اور اللہ تعالیٰ نے نیک مسلمانوں سے حکومت اور اقتدار عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے :

(النور : ٥٥) تم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے ہیں اور وہ اعمال صالحہ کرچکے ہیں، ان سے اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کرلیا ہے کہ وہ ان کو ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا اور یقینا ان کے لئے ان کے اس دین کو مضبوط کر دے گا جس کو وہ ان کے لے پسند کرچکا ہے اور ضرور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا جو لوگ میری عبادت کرتے ہیں اور میرے ساتھ بالکل شرک نہیں کرتے اور جن لوگوں نے اس کے بعد کفر اور ناشکری کی سو وہی لوگ فاسق ہیں۔

اسی طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا تھا :

قال موسیٰ لقومہ استعینوا باللہ واصبروآ ان الارض للہ یورنھا من یشآء من عبادہ (الاعراف :128) موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اللہ سے مدد طلب کرو اور (جنگ کی مشکلات پر) صبر کرو۔ بیشک زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس زمین کا وارث کرتا ہے۔

اس اعتراض کا جواب کہ جب زمین کی وراثت صرف نیک بندوں کو دی جاتی ہے تو پھر کافروں کو حکومتیں اور اقتدار کیوں دیا گیا 

ان آیات کا محمل یہ ہے کہ جب نیک مسلمان اللہ کے دین کے نظام کو قائم کرنے کی کوشش اور جدوجہد کریں گے تو اللہ تعالیٰ انکی مدد کرے گا اور اپنے فضل سے ان کو زمین پر اقتدار عطا فرمائے گا اور جب تک وہ نیک کام کرتے رہیں گے ان کو اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت حاصل رہے گی اور جب وہ گناہ اور سرکشی کو اتخیار کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت ان سے منہ موڑ لے گی اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ پھر کفار اور فساق کو زمین پر قاتدار کیسے حاصل ہوا اور اب زمین پر زبردست اور مستحکم اقتدار ان ہی کو حاصل ہے اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک مسلمانوں کو جو زمین پر اقتدار عطا فرماتا ہے اے اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت اور اس کو خوشنودی اور رضا حاصل ہوتی ہے اور جب تک مسلمان نیک طریقہ پر قائم رہیں ان کے پاس وہ اقتدار رہتا ہے اور جب وہ معصیت اور سرکشی کو اتخیار کریں اور اسی میں ڈوب جائیں تو پھر اللہ تعالیٰ ان سے وہ نعمت چھین لیتا ہے۔ خلفاء راشدین اور بعد کے نیک مسلمانوں کی حکومتیں اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت سے قائم رہیں اور جب مسلمانوں نے اللہ کے نظام کو چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ کی نصرت نے انہیں چھوڑ دیا۔

رہا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے کفار اور بدترین فساق جیسے امریکہ، روس، اسرائیل، برطانیہ اور فرانس وغیرہ کو بھی زمین پر اقتدار عطا فرمایا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی خوشنودی اور رضا سے زمین پر اقتدار نہیں عطا فرمایا بلکہ اپنی مشیت کے تحت ان کو زمین پر اقتدار عطا فرمایا اور ان کو ان کے کفر اور ان کی سرکشی میں ڈھیل دی ہوئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے تکوینی نظام کے تحت کفر کی حکومتیں قائم ہیں جیسے زمین پر قدرتی آفات آتی ہیں زلزلے آتے ہیں، طوفان آتے ہیں، قحط آجاتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے تکوینی نظام اور مشیت کے تحت کافروں، ظالموں اور فاسقوں کو اقتدار عطا فرمایا اور اس میں مسلمانوں کے لئے تازیانہ عبرت ہے اور ان کی سزا ہے کیونکہ انہوں نے زمین پر اقتدار ملنے کے باوجود اللہ کے نظام کو قائم نہیں کیا اور عیش و عشرت اور نگ رلیاں منانے میں ڈوب گئے تو اللہ نے ان کے دشمنوں کو زمین پر اقتدار دے دیا اور اس میں کافروں کو ڈھیل دی گئی ہے وہ اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتے رہیں گے اور زیداہ سے زیادہ اخروی سزا کے مستحق ہوتے جائیں گے لیکن ایک وقت آئے گا جب کفار سے یہ اقتدار واپس لے لیا جائے گا جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نازل ہوں گے تو پھر تمام روئے زمین پر نیک مسلمانوں کا ہی اقتدار ہوگا۔

سید مودودی کے جواب پر تبصرہ 

سید ابو الاعلیٰ مودودی متوفی 1399 ھ نے اس اعتراض کے جواب میں یہ لکھا ہے :

مشیت الٰہی کے تحت یہ وراثت مومن اور کافر، صالح اور فاسق، فرماں بردار اور فرمان سب کو ملتی ہے مگر جزاء اعمال کے طور پر نہیں بلکہ امتحان کے طور پر۔ اسی آیت کے بعد دوسری آیت میں فرمایا ویستخلفکم فی الارض فینظر کیف تعملون (آیت 129) اور وہ تم کو خلیفہ بنائے گا پھر دیکھے گا تم کیسے عمل کرتے ہو۔ (تفہیم القرآن جلد ٣ ص 191-192 مطبوعہ لاہور، 1983 ء)

سید مودودی کا یہ جواب صحیح نہیں ہے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو نعمت عطا فرما کر ان سے امتحان لیتا ہے کہ وہ نیک روش پر قائم رہتے ہیں یا نہیں، کفار مثلاً روس، امریکہ، برطانیہ اور فرانس کو جو اللہ تعالیٰ نے زمین پر اقتدار دیا، وہ ان سے امحتان نہیں لیا بلکہ ان کو ان کے کفر میں ڈھیل دی ہے اور مسلمانوں کے لئے تازیانہ عبرت اور سزا ہے، اور سید مودودینے جو آیت پیش کی ہے اس سے بھی غلط نتیجہ نکالا ہے۔ الاعراف :128 میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے اپنی قوم سے فرمایا : اللہ سے مدد طلب کرو اور جنگ کی مشکلات میں صبر کرو) بیشک زمین اللہ کی ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس زمین کا وارث کرنا ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں ہے :

(الاعراف :129) (بنی اسرائیل نے) کہا آپ کے آنے سے پہلے بھی ہم مصائب میں مبتلا تھے اور آپ کے آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے کہا عنقریب تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا اور تم کو زمین میں خلیفہ بنا دے گا پھر دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہوے۔

اس تفصیل سے واضح ہوگیا کہ حضرت موسیٰ کا یہ ارشاد مسلمانوں سے تھا کہ جب تم کو زمین اقتدار دیا جائے گا تو یہ تمہارا امتحان ہوگا کیونکہ نیک اور بدعمل کا امتحان مسلمانوں سے ہی متصور ہے۔ کافرحکمران سے یہ امتحان مطلوب نہیں ہے کیا کافر حکمران کفر سے توبہ کئے بغیر زمین میں عدل و انصاف کرنے لگیں تو ان کی نجات ہوجائے گی۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس وغیرہ نے اپنے اپنے ملکوں میں تو عدل و انصاف قائم کیا ہوا ہے، وہاں خوشحالی ہے، عوام کو روزگار مہیا ہے، بےروزگاروں کو وظیفہ دیتے ہیں اگر کوئی کسی پر ظلم اور تعدی کرے تو اس کو سزا دی جاتی ہے، ہر شہری کی جان اور مال کی حفاظت کی حکومت ضامن ہے اور ہر شہری کو شخصی آزادی حاصل ہے، یہ سب فلاحی حکومتیں ہیں اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد حکومت چلانے میں وہ کامیاب ہیں۔ ان کے لئے عدل و انصاف میں امتحان کی کوئی گنجائش نہیں ہے، ان کا اقتدار ان کا امتحان نہیں ہے بلکہ قدرت کی طرف سے ان کی سرکشی اور کفر میں ڈھیل جینا ہے اور الاعراف :129 میں یہ قاعدہ بیان نہیں فرمایا کہ کفار اور فساق کو بھی بہ طور امتحان اقتدار دیا جاتا ہے۔ وہاں پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا صرف مسلمانوں سے خطاب ہے ان اسرائیلیوں سے جو ان پر ایمان لا چکے تھے، جو مومن تھے، ان کے اعمال کا امحتان لیا گیا۔ رہے کفار تو ان کے امتحان لینے کا کیا موقع اور کیا گنجائش ہے ؟ وہ نیک عمل اور عدل و انصاف کریں بھی تو ان کے نیک اعمال مقبول نہیں ہیں اور اگر یہ کہا جائے کہ کافروں کو اقتدار دے کر یہ امتحان لینا مقصود ہے کہ وہ ایمان لاتے ہیں یا نہیں تو اول تو اقتدار ملنے اور اس کے بعد ایمان لانے کے امتحان میں کوئی ربط اور مناسبت نہیں ہے اور ثانیاً یہ کہ امتحان سا کا لیا جاتا ہے جس کے ذرہ برابر بھی کامیاب ہونے کا امکان ہو اور امریکہ، روس، چین، بھارت اور دیگر دہریے اور بےدین ممالک جو سینکڑوں اور ہزاروں سال سے اپنے کفر پر ڈٹے ہوئے ہیں، ان کے ایمان کے امتحان لینے کی کون سی وجہ ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 105