أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلِسُلَيۡمٰنَ الرِّيۡحَ عَاصِفَةً تَجۡرِىۡ بِاَمۡرِهٖۤ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِىۡ بٰرَكۡنَا فِيۡهَا‌ؕ وَكُنَّا بِكُلِّ شَىۡءٍ عٰلِمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے تیز ہوا کو سلیمان کے تابع کردیا جو ان کے حکم سے اس زمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکت رکھی تھی، اور ہم ہر چیز کو خوب جاننے والے ہیں

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے تیز ہوائوں اور نرم ہوائوں کو مسخر کر نا 

الانبیاء : 81 میں فرمایا : اور ہم نے تیز ہوا کو سلیمان کے تابع کردیا جو ان کے حکم سے اس زمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکت رکھی تھی اور ہم ہر چیز کو خوب جاننے والے ہیں۔

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ہم نے ہوا کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے مطیع اور تابع کردیا اگر وہ چاہتے کہ وہ ہوا تیز چلے تو وہ تیز چلتی اور اگر وہ چاہتے کہ وہ ہوا آہستہ چلے تو وہ آہستہ چلتی اور وہ ہوا ہر دو حال میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے تابع تھی اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس آیت میں تیز ہوا کے مسخر کرنے کا ذکر ہے اور ایک اور آیت میں نرم ہوا کو مسخر کرنے کا ذکر ہے ،:

فسخرنا لہ الریح تجری بامرہ رخآء حیث اصاب (ص :36)

پس ہم نے ہوا کو ان کے تابع کردیا، وہ آپ کے حکم سے جہاں آپ چاہتے نرمی سے پہنچا دیتی تھی۔

اس کا جواب یہ ہے کہ فی نفسہ ہوا نرم اور خوشگوار تھی جیسے صبح کے وقت ہوا آہستہ آہستہ چلتی ہے اور جب ہوا ان کے تخت کو لے کر چلتی تو ان کو تیزی کے ساتھ ان کی منزل مقصود پر پہنچا دیتی تھی۔ جیسا کہ فرمایا :

ولسلیمن الریح عذوھا شھرورواحھا شھر (سبا :12 اور ہم نے ہوا کو سلمیان کے تابع کردیا، صبح کی سیر ایک ماہ کی مسافت ہوتی تھی اور شام کی سیر (بھی) ایک ماہ کی مسافت ہوتی تھی۔

حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے ارکان سلطنت اور لشکر کے ساتھ تخت پر بیٹھ جاتے اور آپ جہاں حکم دیتے، ہوائیں وہاں اس تخت کو لے جاتیں۔ ایک ماہ کی مسافت کو صبح کی سیر میں طے کرلیتیں اور ایک ماہ کی مسافت کو شام کی سیر میں طے کرلیتیں اور اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ جس وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا حکم ہوتا ہوا آہستہ چلتی اور جب آپ کا حکم ہوتا ہوا تیز چلتی۔ ایک آیت میں ہوا کے تیز چلنے کا بیان فرمایا اور دوسری آیت میں ہوا کے آہستہ چلنے کا بیان فرمایا۔

اور فرمایا اس زمین کی طرف ہوا چلتی تھی جس میں ہم نے برکت دے رکھی تھی، اب سے مراد شام کی زمین ہے۔

نیز فرمایا اور ہم ہر چیز کو خوب جاننے والے ہیں کیونکہ ہم کو علم ہے کہ رسولوں کو کب کون سا معجزہ عطا فرماتا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 81