أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنَ الشَّيٰطِيۡنِ مَنۡ يَّغُوۡصُوۡنَ لَهٗ وَيَعۡمَلُوۡنَ عَمَلًا دُوۡنَ ذٰ لِكَ‌ ۚ وَكُنَّا لَهُمۡ حٰفِظِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اور کچھ جنات بھی ان کے تابع کردیئے تھے جو ان کے حکم سے غوطے لگاتے تھے اور اس کے سوا بھی کام کرتے تھے، اور ہم (ہی) ان کی نگرانی کرنے والے تھے

جنات کو حضرت سلیمان علیہ اسلام کے تابع کرنا 

الانبیا :82 میں فرمایا اور کچھ جنات بھی ان کے تابع کردیئے تھے جو ان کے حکم سے غوطے لگاتے اور اس کے سوا بھی کام کرتے تھے اور ہم (ہی) ان کی نگرانی کرنے والے تھے۔

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ بعض جنات حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے سمندروں میں غوطے لگاتے تھے اور اس میں سے جواہر اور قیمتی چیزیں نکال کر لاتے تھے اور اس کے علاوہ اور بھی اعمال شاقہ کرتے تھے شہر اور محلات بناتے تھے مجسمے اور دیگیں اور چکیاں، بوتلیں اور شیشے کی مصنوعات بناتے تھے۔

جنات میں مومن بھی تھے اور کافر بھی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان جنات کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے احکام کے تابع کردیا تھا جو کافر تھے اس پر دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنات کے لئے شیاطین کا لفظ استعمال کیا ہے۔ نیز فرمایا ہے کہ ہم ان کی حفاظت کرنے والے تھے تاکہ وہ کام سے بھاگ نہ جائیں یا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے احکام کو ماننے سے انکار نہ کردیں اور یہ حفاظت کفار کے مناسب ہے نہ کہ مومنین کے۔

ان کی حفاظت کرنے کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ ان کے اوپر فرشتوں کو مقرر کردیا تھا یا جنتا میں سے مومنین کو ان کی حفاظت پر مقرر کردیا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس طرحمقرر کردیا تھا کہ ان کی طبیعت میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی اطاعت کو پسندیدہ بنادیا تھا اور ان کی مخالفت کرنے کا ان کے دلوں میں خوف پیدا کردیا تھا رہا یہ کہ کس چیز سے ان کی حفاظت کی گئی تھی تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کی حفاظت اس سے کی گئی تھی کہ کہیں وہ بھاگ نہ جائیں اور کام چھوڑ نہ دیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کی اس سے حفاظت کی جاتی تھی کہ وہ اس زمانہ کے کسی شخص کو نقصان نہ پنچائیں۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ جو کام انہوں نے دن میں بنایا تھا، کہیں اس کو وہ رات میں خراب نہ کردیں۔

حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے معجزات کے مقابلہ میں ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات 

ان آیتوں میں حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کے معجزات کا ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے ساتھ پتھر تسبیح کرتے تھے اور وہ لوہے سے تاگے کی طرزرہ بن لیتے تھے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ہوائوں اور جنات کو مسخر کردیا تھا۔ اس جہان میں اجسام کی دو قسمیں ہیں، کثیف اجسام ہیں اور لطیف اجسام ہیں۔ سب سے زیادہ کثیف اجسام پتھر اور لوہا ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو حضرت دائود (علیہ السلام) کا معجزہ بنادیا، پتھر بولنے لگے اور وہ ان کے ساتھ تبیح کرتے تھے اور ل ہے کو نرم کردیا اور یہ معجزات جس طرح اللہ تعالیٰ کی توحید اور حضرت دائود (علیہ السلام) کی نبوت پر دلالت کرتے ہیں اسی طرح حشر اجساد کی صحت اور امکان پر دلالت کرتے ہیں کیونکہ جو پتھروں کو زندہ کرنے پر قادر ہے، اس سے کب بعید ہے کہ وہ بوسیدہ ہڈیوں کو زندہ کر دے اور جو حضرت دائود (علیہ السلام) کی انگلیوں میں آگ کی قوت پیدا کرسکتا ہے اس سے کب بعید ہے کہ وہ خشک مٹی کو زندہ جسم بنا دے، اسی طرح اس جہان میں سب سے لطیف چیز ہوا اور آگ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا معجزہ بنادیا۔ ہوا ان کے تخت کو لے جاتی تھی اور شیاطین آگ سے بنے ہیں، وہ ان کے احکام کے مطابق عمل کرتے تھے۔ آگ پانی کی ضد ہے اور شیاطین ان کے حکم سے سمندر میں غوطے لگاتے تھے۔

بے شک یہ حضرت دائود (علیہ السلام) کا بہت عظیم معجزہ ہے کہ لوہا ان کے لئے اس طرح نرم کردیا گیا تھا کہ وہ اس سے اس طرح زرہ بن لیتے تھے جس طرح تاگے سے کوئی چیز بنی جاتی ہے لیکن ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معجزہ اس سے زیادہ عظیم ہے کیونکہ لوہا بہرحال نرم وہ جاتا ہے، لوہا آگ سے پگھل کر نرم ہوجاتا ہے۔ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے پتھر نرم ہوگیا اور آپ سے محبت کرنے لگا جب کہ پتھر کی حقیقت میں نرمی نہیں ہے جس شخص کا دل سخت ہو اور اس کو کسی سے محبت نہ ہو، اس کو سنگ دل کہتے ہیں لیکن ہمارے نبی نے پتھر کے دل میں اپنی محبت پیدا کردی۔ آپ نے فرمایا احد ایک پہاڑ ہے یہ ہم سے محبت کرتا ہے، ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدی :1482، صحیح مسلم رقم الحدیث :1392، سنن ابودائود رقم الحدیث :3079)

اسی طرح حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا بھی بہت عظیم معجزہ ہے۔ ہوا ان کو صبح کی سیر میں ایک ماہ کی مسافت پر منزل مقصود تک لے جاتی تھی لیکن ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معجزہ اس سے زیادہ عظمی ہے آپ کو منزل مقصود تک جانا نہیں پڑتا تھا منزل مقصود خو چل کر آپکے پاس آجاتی تھی۔

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب قریش نے صمعراج میں) میری تکذیب کی تو میں مقام الحجر (میزاب رحمت یعنی کعبہ کے پرنالے کے نیچے) میں کھڑا ہوگیا، اللہ تعالیٰ نے میرے لئے بیت المقدس کو منکشف کردیا۔ پس میں بیت المقدس کو دیکھ دیکھ کر ان کو نشانیاں بتاتا رہا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :3886، صحیح مسلم رقم الحدیث :170 سنن الترمذی رقم الحدیث :3133، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :55، مصنف عبدالرزاق 9719 مسند احمد رقم الحدیث 15099 السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث :11282 دلائل النبوۃ ج ٢ ص 359)

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی 852 ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

امام مسلم نے حضرت ام سلمہ (رض) سے اس حدیث کو اس طرح روایت کیا ہے : قریش نے مجھ سے بیت المقدس کی ایسی نشانیاں پوچھنی شروع کردیں جن کو میں نے یاد نہیں رکھا تھا۔ اس سے میں اس قدر پریشان ہوا کہ میں اس سے پہلے کبھی اتنا پریشان نہیں ہوا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے میرے لئے بیت المقدس کو بلند کردیا پھر میں اس کو دیکھ کر اس کی نشانیاں بتاتا رہا، وہ جس نشانی کا بھی سوال کرتے، میں ان کو اس کی خبر دیتا رہا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :172، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث :11480)

اس میں یہ احتمال ہے کہ بیت المقدس کو اٹھا کر آپ کے سامنے رکھ دیا گیا آپ اس کو دیکھ دیکھ کر بتا رہے تھے پھر اس کو اس کی جگہ رکھ دیا گیا اور حضرت ابن عباس نے اس حدیث کو اس طرح روایت کیا ہے کہ بیت المقدس کو لایا گیا، میں اس کو دیکھ رہا تھا حتیٰ کہ اس کو دار عقیل کے پاس رکھ دیا گیا پھر میں اس کو دیکھ دیکھ کر بتاتا رہا، اور اس میں بہت بڑا معجزہ ہے اور اس میں کوئی استبعاد اور استحالہ نہیں ہے کیونکہ پلک جھپکنے سے پہلے تخت بلقیس حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے حاضر کیا گیا تھا اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ بیت المقدس کو اپنی جگہ سے اکھاڑ کر آپ کے سامنے رکھ دیا گیا تھا اور یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے کچھ مشکل نہیں ہے۔ (فتح الباری ج ٧ ص 599، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1420 ھ)

باقی رہا یہ شبہ کہ جب بیت المقدس کو وہاں سے اکھاڑ لیا گیا تو وہاں کے لوگوں میں بیت المقدس کا اکھاڑا جانا اور ان کی نظروں سے غائب ہوجانا مشہور ہوجاتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بیت المقدس کو وہاں سے اکھاڑ کر اس کی مثل کو وہاں قائم کردیا گیا، اس لئے وہ وہاں کے لوگوں کے سامنے سے غائب نہیں ہوئی۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے بیت المقدس کو وہاں سے اکھاڑ کر آپ کے سامنے رکھا اور اس کی مثل بنا کر وہاں رکھی، اتنا کچھ کرنے سے کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ پہلے سے ہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان نشانیوں کو یاد رکھنے کی طرف متوجہ کردیتا حتی کہ اس قدر تکلیف اور تردد کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان دکھانا چاہتا تھا کہ اگر عام لوگوں کی توجہ کسی چیز سے ہٹ جائے تو کچھ نہیں ہوتا اور آپ کی توجہ کسی چیز سے ہٹ جائے تو وہ چیز اپنی جگہ سے ہٹ جاتی ہے اور اس کو آپ کے سامنے لا کھڑا کردیا جاتا ہے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے معجزہ کے مقابلہ میں آپ کے معجزہ کی برتری دکھائی تھی کہ حضرت سلیمان کو ایک ماہ کی مسافت پر ہوا صرف صبح کی سیر میں پہنچا دیتی تھی لیکن حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اپنی منزل مقصود تک جانا ہوتا تھا اور آپ کو کہیں جانا نہیں پڑتا تھا منزل مقصود خود چل کر آپ کے پاس آجاتی تھی اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے پلک جھپکنے سے پہلے تخت بلقیس لایا گیا بیشک یہ بہت بڑا معجزہ ہے لیکن اس قدر حیران کن نہیں ہے کیونکہ تخت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاسکتا ہے، حیران کن معجزہ تو آپ کا ہے کیونکہ عمارت ایک جگہ سے دوسری جگہ پلک جھپکنے میں منتقلن ہیں ہوتی اور آپ کے لئے پلک جھپکنے سے پہلے بیت المقدس اٹھا کر آپ کے سامنے رکھ دیا گیا اور پھر اسی لمحہ دوبارہ وہیں رکھ دیا گیا۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جنات پر تصرف کی قدرت 

ان آیات میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ جنات کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے مسخر کردیا گیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی جنات پر قدرت عطا کی تھی، تاہم آپ نے جنات پر اپنے تصرف کا اظہار نہیں فرمایا تاکہ عملاً حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خصوصیت برقرار رہے۔ یہ آپ کے اعلیٰ ظرف اور بلند اخلاق کا بہترین نمونہ ہے ورنہ آپ کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے زیادہ جنات پر تصرف اور اقتدار حاصل تھا۔

حضرت ابوہریرہ (رض) باین کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گزشتہ رات ایک جن نے دھوکے سے مجھ پر حملہ کیا تاکہ میری نماز خراب کرے اور بیشک اللہ نے مجھے اس پر قادر کردیا، میں نے اس کو زور سے دھکا دیا اور میں نے یہ ارادہ کیا میں اس کو مسجد کے ستونوں میں سے کسی ایک ستون کے ساتھ باندھ دوں حتیٰ کہ تم سب لوگ اس کو صبح دیکھتے پھر مجھے پانے بھائی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی یہ دعا یاد آئی۔

رب اغفرلی وھب لی ملک لاینبغی لاتحدمن بعدی (ص 35) اے رب ! میری مغفرت فرما اور مجھے ایسی سلطنت عطا فرما جو میرے بعد کسی اور کو سزا وار نہ ہو۔ (کسی اور کو نہ ملے) تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ذلیل اور رسوا کر کے لوٹا دیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :461، صحیح مسلم رقم الحدیث :1541، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث :1440، مسند احمد رقم الحدیث :7956، عالم الکتب) 

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی جنات کے جسموں پر حکومت تھی لیکن ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جنات کے دلوں پر حکومت تھی۔ متعدد جن آپ پر ایمان لائے اور انہوں نے آپ کی اطاعت کی۔ 

حضرت عبداللہ بن معسود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے ہر شخص کے ساتھ اس کا ایک ہم زاد جن مقرر کیا گیا ہے۔ صحابہ نے پوچھایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے ساتھ بھی ؟ آپ نے فرمایا : ہاں میرے ساتھ بھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی، وہ مسلمان ہوگیا اور وہ مجھے نیکی کے سوا اور کوئی مشورہ نہیں دیتا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :2814، مسند احمد ج ۃ ص 385 کنز العمال رقم الحدیث :1242، دلائل النبوۃ ج ١ ص 358، کنز العمال رقم الحدیث :1242، دلائل النبوۃ ج ١ ص 58)

جنات کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت کا مکلف ہونا 

علامہ احمد بن حجر ہیتمی مکی متوفی 974 ھ لکھتے ہیں :

متعدد اسانید کے ساتھ درج حسن کو پہنچنے والی حدیث میں ہے کہ ھامہ بن ہیم بن لاقس بن ابلیس، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس وقت آپ کے پاس آپ کے اصحاب بھی تھے اور آپ اور وہ مکہ کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ کے اوپر بیٹھے ہوئے تھے۔ ھامہ نے بتایا وہ اس وقت لڑکا تھا جب قابیل نے ہابیل کو قتل کیا تھا اور وہ ان لوگوں میں سے تھا جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ ایمان لائے تھے اور جب حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی ہلاکت کی دعا تھی تو اس نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ ایمان لائے تھے اور جب حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی ہلاکت کی دعا تھی تو اس نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ ایمان لائے تھے اور جب حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی ہلاکت کی دعا تھی تو اس نے حضرت نوح (علیہ السلام) پر عتاب کیا تھا اور ہابیل کے معاملہ میں وہ بھی شر کی تھا۔ اس نے آپ سے پوچھا کیا اب اس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ تو آپ نے اس کو چند کام کرنے کا حکم دیا۔ ان کاموں میں سے یہ تھا کہ وہ وضو کر کے مسجد میں دو رکعت نماز پڑھے۔ اس نے اسی وقت وہ کام کر لئے۔ آپ نے اس کو بتایا کہ آسمان سے اس کی توبہ نازل ہوگئی تو وہ ایک سال تک سجدہ میں پڑا رہا اور وہ حضرت ھود (علیہ السلام) پر ایمان لای اور حضرت نوح علیہ اسلام کی طرح اس نے حضرت ھود پر بھی عتاب کیا تھا اور اس نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی زیارت کی تھی۔ حضرت یونس کے نزدیک وہ امین تھا اور وہ لوگوں کو دوائیں دیتا تھا۔ اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات کی تھی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نی اس کو تورات کی تعلیم دی تھی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو یہ حکم دیا تھا کہ اگر اس کی حضرت عیسیٰ بن مریم سے ملاقات ہو تو وہ انہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سلام پہنچائے۔ اس نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات کی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سلام پہنچایا پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اگر تمہاری سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات ہو تو ان کو میرا سلام پہنچانا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رونے لگے اور فرمایا جب تک دنیا قائم ہے، عیسیٰ پر سلام ہو اور ھامہ تم پر بھی سلام کیونکہ تم نے امانت پہنچا دی، پھر ھامہ نے سوال کیا کہ جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو تورات کی تعلیم دی تھی اسی طرح آپ اس کو قرآن کی تعلیم دیں تو آپ نے اس کو الواقعتہ المرسلات، غم، الکوثر، قل ھو اللہ احد اور المعوذتین کی تعلیم دی اور فرمایا : اے ھامہ ! تم اپنی حاجت پیش کرو اور ہماری زیارت کو ترک نہ کرنا۔

ابن مصلح حنبلی نے کہا ہے کہ جنات مکلف ہیں، ان میں جو کافر ہیں وہ دوزخ میں ہوں گے اور جو مومن ہیں، وہ جنت میں ہوں گے اور علامہ السبکی نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے کہ جنات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکمل شریعت کے مکلف ہیں۔

شیخ ابن تیمیہ نے کہا ہے کہ وہ امر، نہی، حلال اور حرام میں ہماری طرح مکلف ہیں اور ان کے نکاح اور دور سے معاملات میں بہت طویل کلام کیا ہے۔ قتادہ وغیرہ سے مروی ہے کہ ان میں قدریہ، مرجئہ رافضہ اور شیعہ بھی ہیں۔

امام بزار نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے جو شخص رات کو نماز پڑھے، وہ بہ آواز بلند قرأت کرے کیونکہ فرشتے نما زپڑھتے ہیں اور اس کی قرأت کو سنتے ہیں اور اسی طرح جو مومنین جن ہوا میں ہوتے ہیں اور ان کے پڑوسی بھی ان کے ساتھ اپنے مسکن میں ہوتے ہیں، وہ اس کی نماز کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں اور اس کی قرأت کو سنتے ہیں اور اس کی قرأت کو سن کر فساق جن اور سرکش شیاطین اپنے گھروں سے بھاگ جاتے ہیں۔

اور دوسری احادیث اور آثار میں ہے کہ ممنین جن نماز پڑھتے ہیں، رزے رکھتے ہیں، حج کرتے ہیں، طواف کرتے ہیں، قرآن مجید پڑھتے ہیں اور انسانوں سے علوم اور معارف سیکھتے ہیں۔ اگرچہ انسانوں کو اس کا پتہ نہیں چلتا۔ شیرازی نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے شیاطین کو سمندر میں مقید کردیا تھا۔ ایک سوپینتیس سال گزرنے کے بعد وہ نکل آئے اور اس کے بعد انسانوں کی صورتوں میں مساجد اور مجالس میں انسانوں کیساتھ بیٹھنے لگے اور ان سے قرآن اور حدیث میں بحث کرنے لگے۔ (فتاویٰ حدیثیہ ص 98-99، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1419 ھ)

جنات کا آپس میں اور انسانوں کے ساتھ نکاح کا شرعی حکم 

نیز علامہ ابن حجر مکی ہیتمی لکھتے ہیں :

جنتا کے آپس میں نکاح کرنے پر ان آیتوں سے استدلال کیا جاتا ہے :

افتخذونہ و ذریتہ اولیآء من دونی (الکہف :50) کیا تم مجھے چھوڑ کر ابلیس اور اس کی اولاد کو دوست بنا رہے ہو۔

امام ابن ابی حاتم نے اس آیت کی تفسیر میں کہا جنات کی اس طرح اولاد ہوتی ہے جس طرح بنو آدم کی اولاد ہوتی ہے اور ان کی اولاد بہت زیادہ ہے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٧ ص 2367، رقم الحدیث :12851)

لویظمنھن انس قبلھم ولا جان (الرحمٰن 46) اور اس سے پہلے ان (حوروں) کو کسی انسان نے چھوڑا ہے نہ کسی جن نے۔ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ جنات جماع کرتے ہیں اور عورت کا کنوارہ پن توڑ دیتے ہیں۔

اور امام بیہقی نے ثابت سے روایت کیا ہے کہ ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ ابلیس نے کہا اے میرے رب تو نے آدم کو پیدا کیا اور میرے اور اس کے درمیان عداوت رکھ دی تو مجھے تو اس کی اولاد پر مسلط کر دے۔ فرمایا ان کے سینے تیرے مسکن ہیں۔ کہا اے میرے رب اور زیادہ کر فرمایا آدم کا ایک بیٹا ہوگا تو تیرے دس بیٹے ہوں گے۔ کہا اے میرے رب اور زیادہ کر۔ فرمایا :

واجلت علیھم بخیلک ورجلک وشار کھم فی الاموال ولاولاد (بنی اسرائیل :64) اور ان پر اپنے سواروں اور پیادوں کے ساتھ چڑھائی کر اور ان کے مال اور اولاد میں شریک ہوجا۔ اور انسان اور جنات کا بھی ایک دوسرے سے نکاح ہوتا ہے اور بعض علماء نے اس کو محال قرار دیا ہے۔

اور بعض احناف اور حنابلہ نے یہ کہا ہے کہ جن کے وطی کرنے سے غسل واجب نہیں ہوتا اور صحیح یہ ہے کہ حشفہ غائب ہوجانے سے غسل واجب ہوجاتا ہے اور جنات اور انسانوں کے درمیان نکاح کے شرعی جواز میں اختلاف ہے۔ امام مالک نے اس کو کراہت کے ساتھ جائز قرار دیا ہے ورنہ جو عوریں زنا سے حاملہ ہوتی ہیں، ان کو ہبانا مل جائے گا وہ کہیں گی کہ ان کو جن سے حمل ہوگیا ہے۔ اسی طرح حکم بن عینیہ، قتادہ، حسن، عقبتہ الاصم اور حجاج بن ارطاۃ نے بھی اس نکاح کو مکروہ قرار دیا ہے۔

امام ابن جریر نے امام احمد اور اسحاق سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنات کے ساتھ نکاح سے منع فرمایا ہے۔ اسی وجہ سے امام اسحاق نے اس کو مکروہ کہا ہے اور فقہاء احناف کے فتاویٰ سراجیہ میں مذکور ہے کہ انسان اور جن کے درمیان نکاح جائز نہیں ہے کیونکہ ان کی جنس مختلف ہے اور ہمارے ائمہ شافعیہ نے اسی پر فتویٰ دیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر اپنا یہ احسان قرار دیا ہے کہ اس نے ہمارے لئے ہمارے نفسوں میں سے ہماری بیویاں پیدا کیں۔

واللہ جعل لکم من افنسکم ازوجاً (النحل :72) اور اللہ نے تمہارے لئے تم میں سے ہی تمہاری بیویاں پیدا کیں۔

یعنی تمہاری جنس اور تمہاری نوع سے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں تو اگر جنات سے نکاح جائہ ہوتا تو انسان سے بیوایں پیدا کرنے کا احسان نہ رہتا۔ (خلاصیہ ہے کہ صرف امام مالک نے انسان اور جنات کے درمیان نکاح کو کراہت کے ساتھ جائز کہا ہے، باقی ائمہ نے اس کو ناجائز کہا ہے)

بہرحال حق اور صحیح یہ ہے کہ جن مکلف ہیں اور فرشتے تو ابتداء ہی سے مکلف ہیں۔ (الفتاویٰ الحدیثیہ ص 96-98، ملخصاً مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1419 ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 82