أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يُّجَادِلُ فِى اللّٰهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ وَّيَـتَّبِعُ كُلَّ شَيۡطٰنٍ مَّرِيۡدٍ ۞

ترجمہ:

بعض لوگ اللہ کے متعلق بغیر علم کے جھگڑا کرتے ہیں اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں

جدال کا لغوی اور اصطلاحی معنی اور اس کا شرعی حکم 

الحج : ٣ میں فرمایا بعض لوگ اللہ کے متعلق بغیر علم کے جھگڑا کرتے ہیں اور ہر سرکش شیطان کی پر یوی کرتے ہیں۔

اس آیت میں جھگڑے کے لئے جدل کا لفظ ہے۔

علامہ راغب اصفہانی متوفی 502 ھ نے لکھا ہے کہ جدال کا معنی ہے : بحث میں ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرنا۔ اصل میں یہ لفظ جدلت الحبل سے بنا ہے اس کا معنی ہے رسی کو بٹ کر مضبوط کرنا اور جب دو آدمی بحث کرتے ہیں تو ہر ایک دور سے آدمی کو اس کی رائے سے پھیر کر اپنے موقف کو مضبوط کرتا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ جدل کا معنی ہے کشتی میں اپنے حریف کو پچھاڑنا۔ (المفردات ج ١ ص 117)

علامہ سید شریف علی بن محمد جرجانی متوفی 816 ھ نے جدل کا اصطلاحی معنی یہ لکھا ہے، جو دلیل مشہورات اور فریق مخالف کے مسلمات پر مشتمل ہو، اس سے غرض ہوتی ہے فریق مخالف کو ساکت کرنا اور اس پر الزام قائم کرنا، اس کا معنی یہ بھی ہے فریق مخالف کے فاسد قول کو دلیل سے رد کرنا یا اس پر اعتراض کرنا۔ (التعریفات ص ٥٥ )

امام رازی متوفی 606 ھ نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بغیر علم کے جدال کرنے کی مذمت کی ہے اس کا مفہوم مخال فیہ ہے کہ علم کے ساتھ مجادلہ کرنا جائز ہے۔ (تفسیر کبیرج ج ص 202) جدال باطل کے متعلق فرمایا : ماضربوہ لک الا جدلا (الزخروف :58) وہ آپی سے صرف جھگڑا کرتے ہیں اور جدال حق کے متعلق فرمایا : وجادلھم بالتیھی احسن مانتے تھے، اس کو خالق اور مالک جانتے تھے، البت ہیہ نہیں مانتے تھے کہ وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا اور قیامت اور حشر کا انکار کرتے تھے، یہ جدال کرنے والا نضر بن الحارث تھا۔

مرید اور مارد کا معنی 

نیز فرمایا اور ہر سرکش شیطان کی پر یوی کرتے ہیں۔ اس سے شیاطین انس مراد ہیں یعنی کافرسردار جو لوگوں کو کفر کی دعوت دیتے تھے، اسلام کے خلاف شبہات پھیلاتے تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے الجھتے تھے اور اس سے بلیس اور اس کا لشکر بھی مراد ہوسکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے شیطن مرید فرمایا ہے۔ مرید اور مارد کا معنی ہے سرکش جو ہر خیر سے خالی ہے اصل میں مرد کا معنی ہے خالی ہونا۔

جس درخت پر پتے نہ ہوں، اس کو شجرۃ امرد کہتے ہیں امرد اس لڑکے کو کہتے ہیں جس کی ڈاڑھی اور مونچھیں نہ آئی ہوں۔ (المفردات ج ٢ ص 602)

القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 3