أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرۡيَةٍ اَهۡلَكۡنٰهَاۤ اَنَّهُمۡ لَا يَرۡجِعُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جس بستی کے لوگوں کو ہم ہلاک کرچکے ان کا دنیا میں لوٹ کر آنا محال ہے

حرام کا بہ معنی واجب ہونا اور ” لا “ کا زائدہ ہونا 

الانبیاء :95 کا لفظی ترجمہ اس طرح ہے جس بستی کے لوگوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں ان کا نہ لوٹنا حرام ہے، حالانکہ ان کا دنیا میں لوٹ کر آنا حرام ہے اور نہ لوٹ کر آنا واجب ہے۔ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ بعض اوقات حرام واجب کے معنی میں ہوتا ہے یعنی کسی کام کا نہ کرنا واجب ہے، اس آیت میں اسی طرح ہے۔ اس کی نظیر یہ ہے : درج ذیل آیت کا بھی لفظی ترجمہ اس طرح ہے :

قل تعالوا اتل ماحرم ربکم علیکم ان لاتشرکوا بہ شیئاً (الانعام -151) آپ کہیے آئو میں تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سنائوں جن کو تمہارے رب نے تم پر حرام کردیا ہے۔ وہ یہ ہیں کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔ (اور اس کے علاوہ دوسری چیزیں ہیں)

حالانکہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا حرام ہے، شرک نہ کرنا حرام نہیں ہے۔ اسلئے اس آیت میں بھی حرام بہ معنی واجب ہے کیونکہ شرک نہ کرنا واجب ہے اور آیت کا معنی یہ ہے آئو میں تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سنائوں جن کا کرنا واجب ہے، وہ یہ ہیں کہ تم اللہ کے ساتھ شریک نہ کرو، الآیۃ اس اسلوب پر زیر تفسیر آیت کا معنی ہے جس بستی کے لوگوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں، ان کا (دنیا میں) نہ لوٹنا واجب ہے۔ اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں ” لا “ زائد ہے اور اس کی نظریہ ہے :

مامنعک ان لاتسجد (الاعراف :12) تجھ کو سجدہ کرنے سے کس چیز نے منع کیا۔

حالانکہ ابلیس کو سجدہ کرنے کا حکم تھا سجدہ نہ کرنے کا حکم نہیں تھا اس لئے یہاں بھی ” لا “ زائد ماننا پڑے گا اور اب معنی ہوگا تجھ کو سجدہ کرنے سے کس نے منع کیا ؟ اسی اسلوب پر اس آیت کا معنی ہے : جن بستی والوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں ان کا (دنیا میں) لوٹنا حرام ہے۔ 

ہم نے مشکل اصطلاحات سے دامن بچاتے ہوئے بہت آسان پیرائے میں اس آیت کی توجیہ کردی ہے، فتفکرو تشکر۔

اس آیت کا ظاہر معنی تو یہی ہے کہ جس قوم کو ہم اس کے کفر پر اصرار کی وجہ سے عذاب سے ہلاک کرچکے ہیں، اس کا پھر دنیا میں امحتان کے لئے آنا شرعاً ممکن نہیں ہے، یہ معنی عکرمہ، قتادہ اور مقاتل سے منقول ہے، اور مجاہد اور حسن نے یہ کہا ہے کہ جن لوگوں کو کفر پر اصرار کی وجہ سے ہلاک کیا جا چکا ہے، ان کا توبہ کرنا اور شرک اور کفر سے رجوع کرنا محال تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا۔ امام ابن جریر متوفی 310 ھ نے بھی اول الذکر معنی کو ترجیح دی ہے۔ (جامع البیان جز 17 ص 113-114 مطبوعہ دارلافکر بیروت، 1415 ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 95