أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَوۡمَ تَرَوۡنَهَا تَذۡهَلُ كُلُّ مُرۡضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرۡضَعَتۡ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمۡلٍ حَمۡلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَمَا هُمۡ بِسُكٰرٰى وَلٰـكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِيۡدٌ‏ ۞

ترجمہ:

جس دن تم اس کو دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اس (بچے) کو فراموش کر دے گی جس کو دودھ پلایا تھا اور ہر حاملہ کا حمل ساقط ہوجائے گا اور تم کو لوگ مدہوش نظر آئیں گے، حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہے

علامہ نووی کہتے ہیں کہ اس میں اختلاف ہے کہ حاملہ کا وضع حمل کس وقت ہوگا ؟ بعض علماء نے کہا یہ دنیا میں ہوگا جب قیامت سے پہلے زلزلہ آئے گا اور بعض نے کہا قیامت کے دن ہوگا۔ اول الذکر صورت میں وضع حمل حقیقتاً ہوگا اور ثانی الذکر صورت میں وضع حمل مجازاً ہوگا کیونکہ قیامت کے دن نہ کوئی حمل ہوگا اور نہ کوئی ولادت ہوگی اور معنی یہ ہے کہ وہ ایسا ہولناک اور دہشتناک دن ہوگا کہ اگر اس دن کوئی حامہل عورت فرض کی جاتی تو اس کا حمل ساقط ہوجاتا۔

حضرت ابن عباس نے فرمایا : المخلقۃ سے مراد ہے زندہ بچہ جو پورا ہو اور غیر المخلقہ سے مراد ہے ناقص اور کچا بچہ۔ (المستدرک رقم الحدیث :3504 طبع جدید دارالمعرفتہ بیروت 1418 ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 2