أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَوۡمَ نَـطۡوِىۡ السَّمَآءَ كَطَـىِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ‌ ؕ كَمَا بَدَاۡنَاۤ اَوَّلَ خَلۡقٍ نُّعِيۡدُهٗ‌ ؕ وَعۡدًا عَلَيۡنَا‌ ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

جس دن ہم آسمانوں کو وثیقہ کے کاغذوں کی طرح لپیٹ لیں گے، جس طرح ہم نے ابتداء پیدا کیا تھا ہم اسی طرح دوبارہ پیدا کریں گے یہ ہمارا وعدہ ہے جس کو ہم ضرور پورا کرنے والے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جس دن ہم آسمانوں کو وثیقہ کے کاغذوں کی طرح لپیٹ لیں گے جس طرح ہم نے ابتداء پیدا کیا تھا ہم اسی طرح دوبارہ پیدا کریں گے، یہ ہمارا وعدہ ہے جس کو ہم ضرور پورا کرنے والے ہیں اور ہم نصیحت کرنے کے بعد زبور میں یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہی ہوں گے بیشک اس (قرآن) میں عبادت گزاروں کے لئے عظیم پیغام ہے (الانبیاء :104-106)

السجل کے معنی کی تحقیق 

اس آیت میں السجل کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے معاہدات کا رجسٹر، احکام اور دعوئوں کے ضبط کرنے کا رجسٹر جس کو قاضی اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے اس کو جو ڈیشنل ریکارڈ بھی کہتے ہیں۔ (المجسد : ص 459)

سج : کاغذ کا طومار، صحیفہ، محضر، وثیقہ، لکھنے والا مرد، ایک شخص کا نام، سجلات، جمع۔ یہ ان اسماء میں سے ہے کہ باوجود مذکر ہونے کے ان کی جمع الف تا کے ساتھ آتی ہے۔ (تاج العروس) علامہ آلوسی لکھتے ہیں کہ اس میں اختلاف ہے کہ آیا یہ لفظ عربی ہے یا معرب ؟ اہل بصرہ نے کہا یہ عربی لفظ ہے اور ابو الفضل رازی نے کہا زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ فارسی سے معرب ہے۔ امام راغب اصفہانی لکھتے ہیں کہ یہ لفظ اصل میں فارسی ہے اس کو عربی بنا لیا گیا ہے اور سجل اس پتھر کو کہتے ہیں جس پر لکھا جانا تھا، بعد میں ہر وہ چیز جس پر لکھا جاتا تھا اس کو سجل کہا جانے لاگ، اس لحاظ سے سجل سنگ سے بنایا گیا ہے۔ علامہ نظام الدین نیشا پوری نے لکھا ہے کہ ابوالجوزاء نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ حبشی زبان میں سجل کا معنی شخص ہے، زجاج کا بھی یہی مختار ہے۔ امام ابن جریر طبری نے کلھا ہے کہ جس سجل کا اللہ تعالیٰ نے یہاں ذکر فرمایا ہے اس کے معنی میں اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک وہ ایک فرشتہ کا نام ہے۔ بعض کے نزدیک وہ ایک کاتب تھے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے کتابت کرتے تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ سجل وہ صحیفہ ہے جس میں لکھا جاتا ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں ہمارے نزدیک اس شخص کا قول راجح ہے جس نے سجل کا معنی صحیفہ کہا ہے کیونکہ سجل اس معنی میں کلام عرب میں معروف ہے اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کسی ایسے کاتب کا پتا نہیں چلتا جس کا نام سجل ہو اور نہ کسی فرشتے کا نام سجل ہے۔ (لغات القرآن ج ٢ ص 182)

امام عبدالرحمٰن بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی 597 ھ لکھتے ہیں :

سجل کے متعلق چار قول ہیں :

(١) حضرت علی بن ابی طالب (رض) حضرت ابن عمر (رض) اور سدی نے کہا یہ ایک فرشتہ ہے۔

(٢) ابوالجوزاء نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کاتب کا نام ہے۔

(٣) حضرت ابن عباس سے دوسری روایت یہ ہے کہ حبشی زبان میں سجل مرد کو کہتے ہیں۔

(٤) ابن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ سجل صحیفہ کو کہتے ہیں۔ مجاہد، الفراء اور ابن قتیبہ کا یہی مختار ہے اور اس آیت میں کتاب بہ معنی مکتوب ہے یعنی جس طرح کسی چیز کو صحیفہ میں لکھ کر صحیفہ کو لپیٹ لیاج اتا ہے، اسی طرح آسمانوں کو لپیٹ لیا جائے گا۔ (زاد المسیرج ٥ ص 395-396 مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت، 1407 ھ)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں :

طبی الجل للکتب کا معنی ہے کہ سجل اس لکھے ہوئے کے لئے ساتر ہے کیونکہ طی کا معنی لپیٹنا اور تہہ کرنا ہے اور یہ کھولین کی ضد ہے اس کا معنی یہ ہے کہ آسمانوں کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح طومار (صحیفہ) کو لکھ کر لپیٹ دیا جاتا ہے اور یہی اکثرین کا قول ہے۔ (تفسیر کبیرج ٨ ص 191 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1415 ھ)

ہمارے نزدیک صحیح یہ ہے کہ سجل معا معنی صحیفہ یاوثیقہ ہے جس میں حاکم فیصلہ لکھ کر اپنی مہر لگا دیتا ہے یا جس میں کسی معاہدہ کو لکھا جاتا ہے یا جس میں کسی ملکیت کے انتقال کو لکھ کر اس پر گواہوں کے دستطخ کرائے جاتے ہیں یا طلاق لکھ کر اس پر دستطخ کرائے جاتے ہیں۔ پرانے زمانے میں اس کو لپیٹ کر ٹین کے گول اور لمبے ڈبے میں حفاظت سے رکھ دیتے تھے پھر اس کو لکھ کر فائیلوں اور رجسٹروں میں محفوظ کیا جانے لگا اور اب اس کو کمپیوٹر میں فیڈ کر کے اسٹور کرلیتے ہیں۔

عام لوگ حشر میں بغیر لباس کے اور شہداء لباس کے ساتھ اٹھیں گے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جس طرح ہم نے ابتداء میں پیدا کیا تھا ہم اسی طرح دوبارہ پیدا کریں گے۔

حضرت ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم قیامت کے دن ننگے پیر، ننگے بدن اور غیر مختون اٹھائے جائو گے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی کما بدانا اول خلق نعیدہ (الانبیاء :104) اور قیامت کے دن سب سے پہلے حضرت ابراہیم کو قمیص پہنائی جائے گی۔ (الحدیث) (صحیح البخاری رقم الحدیث، 3349، سنن الترمذی رقم الحدیث :2423، سنن دارمی رقم الحدیث :2805، م سند احمد رقم الحدیث :1913) 

قرآن مجید کی اس آیت میں ہے کہ حشر کے دن انسان کو بغیر کپڑوں اور لباس کے اٹھایا جائے گا۔ اس کی شرح میں حافظ شہاب الدنی احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی 852 ھ لکھتے ہیں :

امام بیہقی نے کہا ہے کہ امام ابو دائود اور امام ابن حبان نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابوسعید (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب ان کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے نئے پکڑے منگا کر پہن لئے اور کہا کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میت کو ان ہی کپڑوں میں اٹھایا جائے گا جن کپڑوں میں اس کی وفات ہوئی ہے اور یہ حدیث صحیح بخاری کی اس حدیث کے خلاف ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض لوگوں کو بےلباس اٹھایا جائے گا اور بعض لوگوں کو کپڑوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا، یا سب کو بےلباس اٹھایا جائے گا پھر انبیاء (علیہم السلام) کو پکڑے پہنائے جائیں گے اور سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لباس پہنایا جائے گا، یا سنن ابودائود کی حدیث کا محمل یہ ہے کہ ان کو قربوں سے اس لباس میں نکلا جائے گا جس لباس میں وہ فوت ہوئے تھے پھر ان کا لباس اتار کر ان کو میدان حشر میں لایا جائے گا اور بغیر لباس کے ان کا حشر کیا جائے گا پھر سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لباس پہنایا جائے گا۔ بعض علماء نے حضرت ابو سعید کی حدیث کو شہداء پر محمول کیا ہے کیو کہ شہداء کے متعلق یہ حکم دیا گیا ہے کہ ان کو ان کے کپڑوں میں ہی دفن کردیا جائے، پس یہ ہوسکتا ہے کہ حضرت ابوسعید نے یہ حدیث شہداء کے متعلق سنی ہو پھر اس کو بہ طور عموم روایت کردیا ہو اور جن لوگوں نے اس حدیث کو عموم پر محمول کیا ہے ان میں حضرت معاذ بن جبل (رض) بھی ہیں کیونکہ امام ابن الدنیا نے سند حسن کے ساتھ عمرو بن الاسود سیر ویات کیا ہے ہم نے حضرت معاذ بن جبل کی والدہ کو دفن کیا (کفن دیا) انہوں نے کہا ان جکو نئے کپڑوں میں کفن دیا جائے گا اور کہا اپنے مردوں کو اچھے کپڑوں کا کفن پہنائو کیونکہ ان کو انہی کپڑوں میں اٹھا ا جائے گا۔

حضرت ابوسعید کی حدیث کو شہداء پر محمول کیا جائے کیونکہ ان کو اپنے کپڑوں سمیت دفن کیا جاتا ہے تاکہ وہ دوسروں سے ممتاز ہوں تو حشر میں بھی ان کو کپڑوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا تاکہ وہاں بھی وہ دوسروں سے ممتاز ہوں۔ عالمہ ابن عبدالرب نے آخرت میں بےلباس اٹھائے جانے کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ لباس انسان کا مال ہے اور آخرت میں انسان کے پاس دنیا کا کوئی مال نہیں ہوگا۔ لباس دنیا میں انسان کی مکروہ چیزوں کو چھپاتا ہے اور آخرت میں جو چیز انسان کی مکروہ چیزوں کو چھپائے گی وہ اس کے نیک اعمال کا ثواب ہیں یا اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا فضل ہے، دنیا کے لباس کی وہاں کوئی ضروتر نہیں ہے۔

امام غزالی نے یہ حدیث ذکر کی ہے کہ میری امت کا حشر ان کے کفنون میں کیا جائے گا اور باقی امت بےلباس ہوگی۔ علامہ قرطبی نے کہا کہ اگر یہاں امت کو شہداء پر محمول کردیا جائے تو ان حدیثوں میں کوئی تعاضر نہیں رہے گا۔ (فتح الباری ج ١٣ ص 195، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1420 ھ عمدۃ القاری جز ١٥ ص 242 مطبوعہ مصر، 1348 ھ)

آیا حشر میں سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لباس پہنایا جائے گا یا ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو، اس بحث میں علامہ ابو العباس قرطبی کی تقریر 

صحیح البخاری : صحیح مسلم اور سنن ترمذی کی حدیث میں ہے قیامت کے دن سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو قمیض پہنائی جائے گی۔ اس کی شرح میں عالمہ ابوالعباس احمد بن عمر مالکی قرطبی متوفی 656 ھ لکھتے ہیں :

یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ انبیاء وغیر ہم اور تمام لوگ بےلباس اٹھائے جائیں گے اور اہل سعادت کو جنت کے کپڑے پہنائے جائیں گے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جس کو جنت کا لباس پہنا دیا جائے گا وہ اس کو حشر کی تکلیفوں اور پسینے وغیرہ سے محفوظ رکھے گا اور سورج کی اور دوزخ کی حرارت سے بھی محفوظ رکھے گا، اور اس حدیث کا ظاہر عموم یہ تقاضا کرتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی پہلے قمیض پہنائی جائے گی اور ہوسکتا ہے کہ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے خصائص میں سے ہو جی اس کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خصائص میں سے یہ ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قبر سے باہر آئیں گے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) عرش کا پایہ پکڑے کھڑے ہوں گے۔ حالانکہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے قبر سے باہر آئیں گی اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ (علیہما السلام) ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مطلقاً افضل ہوں، بلکہ تمام اہل محشر سے آپ ہی مطلقاً افضل ہیں، آپ تمام اولاد آدم کے سردار ہیں اور ہوسکتا ہے کہ اس حدیث کا یہ معنی ہو کہ حضرت ابراہمی (علیہ السلام) کو ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ باقی تمام لوگوں سے پہلے قمیض پہنائی جائے گی اور یہ اولیت اضافی ہو اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کلام کے عموم میں داخل نہ ہوں۔ (المعجم من تخلیص مسلم، ج ٧ ص 152-153 مطبوعہ دار ابن کثیر بیروت، 1417 ھ)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قیامت کے دن لباس پہنانے کے متعلق علامہ ابو عبداللہ قرطبی کی تقریر 

علامہ ابو العباس قرطبی متوفی 656 ھ کے تملیذ علامہ ابو عبداللہ قرطبی متوفی 668 ھ اپنے اساتذ کی اس عبارت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : میں کہتا ہوں کہ اگر ہمارے شیخ کے اس کلا کے خلاف حدیث صریح نہ ہوتی تو یہ ان کا بہت عمدہ کلام تھا۔ (یعنی اولیت کا اضافی ہونا) کیونکہ امام ابن المبارک نے حضرت علی (رض) سے روایت کیا ہے کہ سب سے پہلے حضرت خلیل اللر ابراہیم کو دو قبطی کپڑے پہنائے جائیں گے پھر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عرش کی دائیں جانب سے یمن کی ایک منقش چادر پہنائی جائے گی، اس کو امام بیہقی نے بھی ذکر کیا ہے۔ (کتاب الرقائق مع الزھد، رقم الحدیث :365، کتاب الاسماء و الصفات ص 395)

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ اذان دینے والے اور تلبیہ پڑھنے والے قیامت کے دن اپنی قبروں سے باہر آئیں گے پھر مئوذن اذان دے گا اور تلبیہ پڑھنے والا تلبیہ پڑھے گا اور سب سے پہلے جنت کے حلوں میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ کو حلہ پہنایا جائے گا پھر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پھر باقی انبیاء اور رسل (علیہم السلام) کو پھر مئوذنوں کو لباس پہنایا جائے گا۔ اس حدیث کا الحلیمی نے منہاج الدین میں ذکر کیا ہے۔ (الحلیمی کی مناج الدین ہم کو نہیں مل سکی کہ اس حیدث کی تحقیق اور تخریج کی جاتی )

امام بیہقی اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ نض 

نے فرمایا : تم کو ننگے پیر، ننگے بدن اٹھایا جائے گا اور سب سے پہلے (حضرت) ابراہیم (علیہ السلام) کو جنت کے حلوں سے لباس پہنایا جائے گا پھر عرش کی دائیں جانب ایک کرسی لا کر بچھائی جائے گی پھر مجھے جنت کا حلہ پہنایا جائے گا۔ (کتاب الاسماء و الصفات ص 395، کنز العمال رقم الحدیث :38943)

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لباس پہنایا جائے گا پھر ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لباس پہنایا جائے۔ سو اس آدمی کے لئے خوشی ہو جس کو اس وقت جنت کا لباس پہنایا جائے گا کیونکہ جو اس لباس کو پہن لے گا اس کو حشر کی گرمی، سورج کی تپش، پسینہ اور دیگر دہشت ناک چیزوں سے کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ (التذکرہ ج ١ ص 320-321، مطبوعہ دارالبخاری مدینہ منورہ، 1417 ھ)

حافظ سیوطی نے لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم کو سب سے پہلے لباس پہنانے کی حکمت یہ ہے کہ ان کو برہنہ کر کے نادر نمروز میں ڈالا گیا تھا، اس کی تلافی کے لئے ان کو دو حلے پہنائے جائیں گے۔ (التوشیخ ج ٣ ص 326، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1420 ھ)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قیامت کے دن لباس پہنانے کے متعلق حافظ عسقلانی شافعی کی تقریر 

حافظ ابن حجر عسقلانی نے علامہ ابو العباس قرطبی کی تقریر ذکر کی ہے پھر اس پر علامہ ابوعبداللہ قرطبی کا تبصرہ اور ان کی بیان کردہ احادیث مزید اسانید کے ساتھ ذک کی ہیں پھر انہوں نے اس سلسلہ میں مزید احادیث پیش کی ہیں :

مرسل عبید بن عمیر میں جعفر بن فریابی سے لکھتے ہیں لوگوں کا ننگے بدن حشر کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا وجہ ہے کہ میں اپنے خلیل کو برہنہ دیکھ رہا ہوں پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سفید کپڑے پہنائے جائیں گے اور وہ سب سے پہلے شخص ہوں گے جن کو لباس پہنایا جائے گا اور انکو سب سے پہلے لباس پہنانے کی حکمت یہ ہے کہ جب ان کو نمروذ کی جلائی ہوئی آگ میں پھینکا گیا تھا تو ان کا لباس اتار لیا گیا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے شلوار پہننے کی سنت قائم کی تھی ایک قول یہ ہے کہ وہ روئے زمین پر سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے تھے تو ان کو بےخوف رکھنے کے لئے جلدی لباس پہنایا گیا تاکہ وہ مطمئن رہیں۔ امام ابن مندہ نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لباس پہنایا جائے گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے خلیل کو لباس پہنائو تاکہ آج لوگوں پر انکی فضیلت ظاہر ہوجائے۔ میں کہتا ہوں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس خصوصیت سے کہ انہیں سب سے پہلے لباس پہنایا جائے گا، یہ لازم نہیں آتا کہ وہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مطلقاً افضل ہوں، اور اب مجھ پر یہ وجہ ظاہر ہوئی ہے کہ یہ ہوسکتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی قبر سے اسی لباس میں باہر آئے ہوں جس لباس میں آپ کی وفات ہوئی تھی اور آپ کو جنت کے حلوں میں سے جو حلہ پہنایا جائے گا، وہ محض آپ کی عزت اور کرامت کے اظہار کے لئے ہو اور اس پر قرینہ یہ ہے کہ آپ کے عرش کے پائے کے پاس کرسی پر بٹھایا جائے گا۔ (الاسماء والصفات میں 395 اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سب سے پہلے لباس پہنانے کی فضیلت باقی مخلوق کے اعتبار سے ہے (کیونکہ آپ تو پہلے ہی لباس میں تھے) او حلیمی نے یہ جواب دیا ہے کہ پہلے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لباس پہنایا جائے گا جیسا کہ ظاہر حدیث میں ہیل یکن ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حلہ بہت افضل اور اکمل ہوگا اور اس کی نفاست سے اس کمی کی تلافی ہوجائے گی جو اولیت کے فوت ہونے سے ہوئی ہے۔ (فتح الباس ج ١٣ ص 196-197، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت 1420 ھ)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قیامت کے دن لباس پہنانے کے متعلق علامہ عینی حنفی کی تقریر 

علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی حفنی متوفی 855 ھ لکھتے ہیں :

حدیث میں ہے قیامت کے دن جس شخص کو سب سے پہلے لباس پہنایا جائے گا وہ ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ اس حدیث میں حضرت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ظاہر منقبت، عظیم فضیلت اور خصوصیت ہے، جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس فضیلت کے ساتھ خاص کیا گیا کہ جب ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے باہر آئیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ حضرت موسیٰ عرش کے پاس کو پکڑے ہوئے کھڑے ہیں، حالانکہ آپ سید المرسلین ہیں اور سب سے پہلے قبر سے باہر آئیں گے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت موسیٰ یا حضرت ابراہیم (علیہما السلام) ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے افضل ہوں بلکہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی قیامت کے دن سب سے افضل ہوں گے اور اگر کوئی شخص کسی ایک فضیلت کے ساتھ خاص ہو تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ مطلقاً افضل ہو۔ (یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جزوی فضیلت ہے اور فضیلت کلی آپ ہی کو حاصل ہے) دوسرا جواب یہ ہے کہ آپ نے جو فرمایا سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لباس پہنایا جائیں گے پھر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عرش کی دائیں جانب ایک منقش چادر پہنائیج ائے گی اور حلیمی نے منہاج میں حضرت جابر (رض) کی یہ روایت ذکر کی ہے کہ سب سے پہلے جنت کے حلوں میں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو پہنایا جائے گا پھر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پھر باقی نبیوں کو اور آپ کے حلہ کا کپڑا سب سے نفیس ہوگا گویا کہ آپ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ہی حلہ پہنایا جائے گا اور امام ابونعیم نے حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرے خلیل کو پہنائو سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دو سفید کپڑے پہنائیں جائیں گے وہ عرش کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوں گے، پھر ایک کرسی لائی جائے گی اور اس کو عرش کی دائیں جانب رکھا جائے گا اور اس پر مجھے بٹھایا جائے گا پھر مجھے ایسا حلہ پہنایا جائے گا جس کے مرتبہ کا حلہ کسی کے پاس نہیں ہوگا۔ (حلی کا معنی ہے ایک قسم کی دو چادریں (عمدۃ القادری جز ١٥ ص 242-243 مطبوعہ ادارۃ الطباعتہ المنیریہ مصر، 1348 ھ)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دن لباس پہنانے کے متعلق علامہ طیبی شافعی کی تقریر 

علامہ شرف الدین حسین بن محمد بن عبداللہ الطیبی متوفی 742 ھ لکھتے ہیں :

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ کیا ہمارے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام انبیاء سے افضل نہیں ہیں پھر اس کی کیا توجیہ ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لباس پہنایا جائے گا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندہ کو فضائلا و خصوصیات عطا فرما کر سب سے افضل قرار دے پھر کسی اور شخص کو کسی ایک فضیلت میں خصوصیت عطا فرمائے تو اس ایک فضیلت میں خصوصیت سے اس بندہ کے افضل ہونے میں کوئی کمی نہیں ہوتی اور یہ سب کو معلوم ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو سب سے پہلے کلام کرنے اور شفاعت کرنے کا اذن عطا کیا جائے گا اس کے مقابلہ میں کسی کی فضیلت نہیں ہے، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسے بہت فضائل عطا کئے گئے ہیں جن میں آپ کا کوئی شریک نہیں ہے، خلاصہ یہ ہے کہ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جزوی فضیلت ہے۔ (الکاشف عن حقائق السنن (شرح الطیبی) ج 10 ص 164، مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی، 1413 ھ)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قیامت کے دن لباس پہنانے کے متعلق ملا علی قاری حنفی کی تقریر 

ملا علی بن سلطان محمد القاری متوفی 1014 ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سب سے پہلے لباس اس لئے پہنایا جائے گا کہ وہ فقراء کو لباس پہناتے تھے۔ ایک قول یہ یہ کہ اللہ کی ذات کی وجہ سے سب سے پہلے دنیا میں ان کا لباس اتارا گیا تھا، نہ اس وجہ سے کہ وہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے افضل ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے والد اور باپ ہیں تو باپ کے شرف کی وجہ سے ان کو ہمارے نبی سے پہلے لباس پہنایا جائے گا۔ علاوہ زیں ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جس لباس میں دفن کیا گیا تھا، آپ کو اسی لباس میں ملبوس اٹھایا جائے گا اور میرا یہ نظریہ ہے کہ تمام انبیاء بلکہ الویاء بھی اپنی قبروں سے ننگے پیر اور ننگے بدن اٹھیں گے لیکن وہ اپنے کفنوں کو اس طرح اوڑھے ہوئے ہوں گے کہ ان کی شرم گاہیں خود ان سے اور دوسرے لوگوں سے مستور اور محجوب ہوں گی اور یہی معنی اس حدیث کے مناسب ہے کہ میں اس حال میں قبر سے باہر آئوں گا کہ میری دائیں طرف ابوبکر اور بائیں طرفع مر ہوں گے پھر میں البقیع کی طرف جائوں گا۔ الحدیث 

پھر یہ نفوس قدسیہ اونٹنیوں اور دیگر سواریوں پر سوار ہو کر میدان محشر کی طرف جائیں گے اور محشر میں جو جنت کے حلے پہنائے جائیں گے وہ اللہ تعالیٰ کے خصوصی الطاف، اکرامات اور انعامات کے قبیل سے ہوں گے جو وہ اپنے پسندیدہ اور مقبول بندوں پر فرمائے گا۔

پھر میں نے الجامع الصغیر میں یہ حدیث دیکھی : جس سے زمین سب سے پہلے شق ہوگی وہ میں ہوں اور اس پر فخر نہیں، پھر مجھے جنت کے حلوں میں سے حلے پہنائے جائیں گے پھر میں عرش کی دائیں جانب کھڑا ہوں گا اور تمام مخلوق میں سے کوئی شخص بھی اس مقام پرک ھڑا نہیں ہو سکے گا۔ (الجامع الصغیر رقم الحدیث :2833 اور الجامع الکبیر رقم الحدیث :8775 میں صرف اتنا ہے جس سے زمین سب سے پہلے شق ہوگی وہ میں ہوں اور فخر نہیں اور اس میں حلے پہننے وغیرہ کا ذکر نہیں۔ البتہ کنز العمال اور الاسماء و الصفات میں اس کا ذکر ہے۔ غالباً ملا علی قاری کو حوالہ میں اشتباہ ہوگیا) اور امام ترمذی اور حاکم نے حضرت ابن عمر سے روایت کیا ہے کہ سب سے پہلے مجھ سے زمین شق ہوگی پھر ابوبکر اور عمر سے پھر میں اہل البقیع پر ٓئوں گا، ان کا میرے ساتھ حشر کیا جائے گا، پھر میں اہل مکہ کا انتظار کروں گا۔ (ملا علی قاری کو یہاں بھی تسامح ہوا ہے۔ ترمذی رقم الحدیث :3148 اور 3615 میں صرف اتنی حدیث ہے سب سے پہلے میں قبر سے شق ہوں گا اور فخر نہیں اور حاکم کی المستدرک رقم الحدیث :4486 میں اس کے بد حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضیا للہ عنہما کا ذکر ہے اور اہل بقیع کی طرف جانے اور اہل مکہ کے انتظار کا ذکر نہیں ہعے) اس کے بعد ملا علی قاری نے توریشتی کے حوالے سے علامہ طیبی کی تقریر ذکر کی ہے۔ (المرقات ج 10 ص 251، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان، 1310 ھ)

(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قیامت کے دن لباس پہنانے کے متعلق شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی تقریر 

شیخ عبدالحق محدث دہلوی متوفی 1052 ھ لکھتے ہیں :

اس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے افضل ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اعزاز اور اکرام آپ کے ساتھ تعلق کی وجہ سے کیا گیا تھا جب کہ بعض روایات میں آتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جن کپڑوں میں دفن کیا گیا تھا، ان ہی میں اٹھایا جائے گا۔ (اشعتہ اللمعات ج ٤ ص 367، مطبوعہ مطیع تیج کمار لکھنئو)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قیامت کے دن لباس پہنانے متعلق مصنف کی تحقیق 

میں کہتا ہوں کہ حدیث صحیح میں ہے :

ابوسلمہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابو سعید خدری کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے نئے کپڑے منگا کر پہنے اور کہا کہ میں نے رسول اللہ نض 

کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میت کو ان ہی کپڑوں میں اٹھایا جائے گا جن میں اس کو موت آئی تھی۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث :3114، جامع الاوصل رقم الحدیث :8595)

اور اس حدیث کا محمل یہ ہے کہ شہداء کو اسی لباس میں اٹھایا جائے گا جس لباس میں شہید ہوئے تھے اور باقی لوگوں کو بےلباس اٹھایا جائے گا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ کی امت کے شہدئا کو تو لباس کے ساتھ اٹھایا جائے اور آپک و بےلباس اٹھایا جائے اور میدان محشر میں آپ کی امت کے شہدئا آپ سے افضل حال میں ہوں۔ اس لئے لازماً یہ کہنا پڑے گا کہ آپ کو بھی لباس کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ ثانیاً آپ بھی معناً شہید ہیں کیونکہ آپ کو جو خیبر میں زہر دیا گیا تھا، اسی کے اثر سے آپ کی وفات ہوئی۔ حدیث میں ہے :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے مرض وفات میں فرمایا : اے عائشہ ! میں نے خیبر میں جو طعام کھایا، میں ہمیشہ اس (زہر آلود) طعام کا درد محسوس کرتا رہا ہوں اور اب وقت آگیا ہے کہ اسی زہر کے اثر سے میری شہ رگ منقطع ہوجائے گی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :4428، جامع الاصول رقم الحدیث :8528)

اس حدیث سے یہ واضح ہوگیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی شہید ہیں اور سنن ابو دائود کی حدیث کا یہ محمل ہے کہ شہداء کو ان ہی کپڑوں میں اٹھایا جائے گا جن میں ان کی وفات ہوئی، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی ان کپڑوں میں اٹھایا جائے گا جن کپڑوں میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تھی۔ وللہ الحمد۔

نیز میں کہتا ہوں کہ قرآن مجید میں ہے :

قل ان صلاتی ونسکی و محیای ومماتی للہ رب العلمین (الانعام -162) آپ کہیے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت (سب) اللہ رب العالمین کے لئے ہے۔

شہید کی تو صرف موت اللہ کے لئے ہوتی ہے، آپ کی تو موت اور حیات سب اللہ کے لئے اور اس کے راستہ میں ہے۔ اس لئے آپ شہید سے کہیں زیادہ عزت اور کرامت کے مستحق ہیں۔ اس لئے آپ کو آپ کے ان ہی کپڑوں میں اٹھایا جائے گا جن میں آپ کی وفات ہوئی تھی پھر آپ کی عزت و کرامت کو ظاہر کرنے کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد آپ کو ان سے اچھے جنت کے حلے پہنائے جائیں گے اور آپ کو عرش کے پائے کے پاس کرسی پر بٹھایا جائے گا جو اللہ کے حبیب ہیں تمام اولین اور آخرین سے مکرم ہیں، تمام رسولوں کے قائد ہیں، آدم اور ان کے ماسوا تمام لوگ قیامت کے دن ان کے جھنڈے کے نیچے ہوں گے جو سب سے پہلے شفاعت کرنے والے ہیں، جو سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے ہیں، ان کی عزت اور کرامت سے یہ مناصب کب بعید ہیں۔

کیا قیامت کے دن برہنہ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھیں گے 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارا حشر اس حال میں کیا جائے گا کہ تم ننگے پیر، ننگے بدن اور غیر مختون ہو گے۔ حضرت عائشہ (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ! مرد اور عورت ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : وہاں اس سے زیادہ سخت معاملہ ہوگا کہ لوگوں کو اس کا خیال آئے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :6527، صحیح مسلم رقم الحدیث :2859)

حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی 852 ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

امام ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت میں ہے حضرت عائشہ (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا ہمیں حیا نہیں آئے گی ؟ آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! واں معاملہ اس سے زیادہ سخت ہوگا کہ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھیں۔ حاکم نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! پھر شرم گاہوں کا کیا ہوگا ؟ تو آپ نے یہ آیت پڑھی۔

لکل امیری منھم یومئذ شان یغیہ (حبس :37) ان میں سے اس دن ہر ایک کو ایسی فکر ہوگی جو دوسروں سے مستغنی کر دے گی۔

ترمذی اور حاکم کی روایت میں ہے، حضرت عائشہ (رض) نے یہ آیت پڑھی :

ولقد جثمونا فرادی کما خلقنکم اول مرۃ (الانعام :94) تم ہمارے پاس تنہا تنہا آئے ہو جس طر ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا۔

حضرت عائشہ (رض) نے کہا ہائے ان کی شرم گاہیں ! مرد اور عورت ایک دوسرے کی شام گاہوں کی طرف دیکھ رہے ہوں گے تو آپ نے یہ آیت پڑھی :

لکل امری منھم یومئذ شان یغنیہ اور فرمایا مرد عورتوں کی طرف نہیں دیکھیں گے اور عورتیں مردوں کی طرف نہیں دیکھیں گی ہر ایک دوسرے سے بےنیاز ہوگا۔ (فتح الباری ج 13 ص 199 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1420 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 104