وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖؕ-قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ(۲۷)

اور کافر کہتے ان پر کوئی نشانی ان کے رب کی طرف سے کیوں نہ اتری تم فرماؤ بےشک اللہ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے (ف۷۶) اور اپنی راہ اسے دیتا ہے جو اس کی طرف رجوع لائے

(ف76)

کہ وہ آیات و معجزات نازِل ہونے کے بعد بھی یہ کہتا رہتا ہے کہ کوئی نشانی کیوں نہیں اتری ، کوئی معجزہ کیوں نہیں آیا ! معجزاتِ کثیرہ کے باوجود گمراہ رہتا ہے ۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَىٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِؕ-اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(۲۸)

وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے (ف۷۷)

(ف77)

اس کے رحمت و فضل اور اس کے احسان و کرم کو یاد کرکے بے قرار دلوں کو قرار و اطمینان حاصل ہوتا ہے اگرچہ اس کے عدل و عتاب کی یاد دلوں کو خائف کردیتی ہے جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا ” اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہ ُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ ” حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ مسلمان جب اللہ تعالٰی کا نام لے کر قسم کھا تا ہے دوسرے مسلمان اس کا اعتبار کر لیتے ہیں اور ان کے دلوں کو اطمینان ہو جاتا ہے ۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ(۲۹)

وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کو خوشی ہے اور اچھا انجام (ف۷۸)

(ف78)

طوبٰی بشارت ہے راحت ونعمت اور خرمی و خوش حالی کی ۔ سعید بن جبیر نے کہا کہ طوبٰی زبانِ حبشی میں جنّت کا نام ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ اور دیگر اصحاب سے مروی ہے کہ طوبٰی جنّت کے ایک درخت کا نام ہے جس کا سایہ ہر جنّت میں پہنچے گا ، یہ درخت جنّتِ عدن میں ہے اور اس کی اصل (بیخ) سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایوانِ معلٰی میں اور اس کی شاخیں جنّت کے ہر غرفہ اور قصر میں ، اس میں سوا سیاہی کے ہر قسم کے رنگ اور خوش نمائیاں ہیں ہر طرح کے پھل اور میوہ اس میں پھلے ہیں ، اس کی بیخ سے کافور سلسبیل کی نہریں رواں ہیں ۔

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِؕ-قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ(۳۰)

اسی طرح ہم نے تم کو اس امت میں بھیجا جس سے پہلے امتیں ہو گزریں(ف۷۹) کہ تم انہیں پڑھ کر سناؤ (ف۸۰) جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی اور وہ رحمٰن کے منکر ہورہے ہیں (ف۸۱) تم فرماؤ وہ میرا رب ہے اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میری رجوع ہے

(ف79)

تو تمہاری امّت سب سے پچھلی امّت ہے اور تم خاتَم الانبیاء ہو ، تمہیں بڑے شان و شکوہ سے رسالت عطا کی ۔

(ف80)

وہ کتابِ عظیم ۔

(ف81)

شانِ نُزول : قتادہ و مقاتل وغیرہ کا قول ہے کہ یہ آیت صلح حدیبیہ میں نازِل ہوئی جس کا مختصر واقعہ یہ ہے کہ سہیل بن عمرو جب صلح کے لئے آیا اور صلح نامہ لکھنے پر اتفاق ہوگیا تو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ سے فرمایا لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم کُفّار نے اس میں جھگڑا کیا اور کہا کہ آپ ہمارے دستور کے مطابق بِاِسْمِکَ اللّٰھُمَّ لکھوائیے ۔ اس کے متعلق آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ وہ رحمٰن کے منکِر ہو رہے ہیں ۔

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰىؕ-بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًاؕ-اَفَلَمْ یَایْــٴَـسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠(۳۱)

اور اگر کوئی ایسا قرآن آتا جس سے پہاڑ ٹل جاتے (ف۸۲) یا زمین پھٹ جاتی یا مردے باتیں کرتے جب بھی یہ کافر نہ مانتے (ف۸۳) بلکہ سب کام اللہ ہی کے اختیار میں ہیں (ف۸۴) تو کیا مسلمان اس سے ناامید نہ ہوئے (ف۸۵) کہ اللہ چاہتا تو سب آدمیوں کو ہدایت کردیتا (ف۸۶) اور کافروں کو ہمیشہ اُن کے کیے پر سخت دھمک (انتہائی سخت مصیبت)پہنچتی رہے گی(ف۸۷) یا ان کے گھروں کے نزدیک اترے گی(ف۸۸)یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آئے (ف۸۹)بےشک اللہ وعدہ خلاف نہیں کرتا (ف۹۰)

(ف82)

اپنی جگہ سے ۔

(ف83)

شانِ نُزول : کُفّارِ قریش نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا تھا کہ اگر آپ یہ چاہیں کہ ہم آپ کی نبوّت مانیں اور آپ کا اِتِّباع کریں تو آپ قرآن شریف پڑھ کراس کی تاثیر سے مکّۂ مکّرمہ کے پہاڑ ہٹا دیجئے تاکہ ہمیں کھیتیاں کرنے کے لئے وسیع میدان مل جائیں اور زمین پھاڑ کر چشمہ جاری کیجئے تاکہ ہم کھیتوں اور باغوں کو ان سے سیراب کریں اور قصی بن کلاب وغیرہ ہمارے مرے ہوئے باپ دادا کو زندہ کر دیجئے وہ ہم سے کہہ جائیں کہ آپ نبی ہیں ۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازِل ہوئی اور بتادیا گیا کہ یہ حیلے حوالے کرنے والے کسی حال میں بھی ایمان لانے والے نہیں ۔

(ف84)

تو ایمان وہی لائے گا جس کو اللہ چاہے اور توفیق دے اس کے سوا اور کوئی ایمان لانے والا نہیں اگرچہ انہیں وہی نشان دکھا دیئے جائیں جو وہ طلب کریں ۔

(ف85)

یعنی کُفّار کے ایمان لانے سے خواہ انہیں کتنی ہی نشانیاں دکھلا دی جائیں اور کیا مسلمانوں کو اس کا یقینی علم نہیں ۔

(ف86)

بغیر کسی نشانی کے لیکن وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور وہی حکمت ہے ۔ یہ جواب ہے ان مسلمانوں کا جنہوں نے کُفّار کے نئی نئی نشانیاں طلب کرنے پر یہ چاہا تھا کہ جو کافِر بھی کوئی نشانی طلب کرے وہی اس کو دکھا دی جائے ، اس میں انہیں بتادیا گیا کہ جب زبردست نشان آچکے اور شُکوک و اوہام کی تمام راہیں بند کردی گئیں ، دین کی حقانیت روزِ روشن سے زیادہ واضح ہو چکی ، ان جلی برہانوں کے باوجود جو لوگ مُکر گئے ، حق کے معترف نہ ہوئے ، ظاہر ہوگیا کہ وہ معانِد ہیں اور معانِد کسی دلیل سے بھی مانا نہیں کرتا تو مسلمانوں کو اب ان سے قبولِ حق کی کیا امید ، کیا اب تک ان کا عناد دیکھ کر اور آیات و بیّناتِ واضحہ سے اعراضِ مشاہدہ کرکے بھی ان سے قبولِ حق کی امید رکھی جا سکتی ہے البتہ اب ان کے ایمان لانے اور مان جانے کی یہی صورت ہے کہ اللہ تعالٰی انہیں مجبور کرے اور ان کا اختیار سلب فرما لے اس طرح کی ہدایت چاہتا تو تمام آدمیوں کو ہدایت فرما دیتا اور کوئی کافِر نہ رہتا مگر دارالابتلا و الامتحان کی حکمت اس کی متقضی نہیں ۔

(ف87)

یعنی وہ اس تکذیب و عناد کی وجہ سے طرح طرح کے حوادث و مصائب اور آفتوں اور بلاؤں میں مبتلا رہیں گے ، کبھی قحط میں ، کبھی لٹنے میں ، کبھی مارے جانے میں ، کبھی قید میں ۔

(ف88)

اور ان کے اضطراب و پریشانی کا باعث ہوگی اور ان تک ان مصائب کے ضَرر پہنچیں گے ۔

(ف89)

اللہ کیطرف سے فتح و نصرت آئی اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کا دین غالب ہو اور مکّۂ مکّرمہ فتح کیا جائے ۔ بعض مفسِّرین نے کہا کہ اس وعدہ سے روزِ قیامت مراد ہے جس میں اعمال کی جزا دی جائے گی ۔

(ف90)

اس کے بعد اللہ تبارک و تعالٰی اپنے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسکینِ خاطر فرماتا ہے کہ اس قسم کے بیہودہ سوال اور ایسے تمسخُر و استہزاء سے آپ رنجیدہ نہ ہوں کیونکہ ہادیوں کو ایسے واقعات پیش آیا ہی کرتے ہیں چنانچہ ارشاد فرماتا ہے ۔