حدیث نمبر 361

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی جب نماز پوری ہوئی تو ہم پر اپنے چہرے سے متوجہ ہوئے فرمایا اے لوگو ! میں تمہارا امام ہوں لہذا رکوع سجدے قیام اور فراغت میں مجھے سے آگے نہ بڑھو ۱؎ کیونکہ میں تم کو اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سےبھی ۲؎(مسلم)

شرح

۱؎ آگے بڑھنے کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ امام سے پہلے رکوع میں پہنچے اور امام کے رکوع میں آنے سے پہلے اٹھ جائے اس صورت میں اس کا رکوع نہیں ہوا کیونکہ امام کے ساتھ شرکت نہ ہوسکی۔دوسرے یہ کہ امام سے پہلے رکوع میں گیا مگر بعد میں امام بھی ا سے مل گیا یہ مکروہ ہے لیکن رکوع صحیح ہوگا کیونکہ امام کے ساتھ شرکت ہوگئی۔

۲؎ یہاں مرقاۃ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں بشریت بھی ہے اور ملکیت بھی(فرشتہ ہونا) آپ پر کبھی بشریت کے حالات ظاہر ہوتے تھے،کبھی ملکیت کے،ہرطرف سے دیکھنا فرشتہ کی صفت ہے جو بعض اوقات خصوصًا نماز میں آپ سے ظاہر ہوتی ہے۔لطف یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں احسان یہ ہے کہ نماز میں بندہ سمجھے کہ میں رب کو دیکھ رہا ہوں اگر یہ نہ سمجھ سکے تو کم از کم یہ سمجھے کہ رب مجھے دیکھ رہا ہے اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازی یہ سمجھ کر نماز پڑھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ رہے ہیں۔نتیجہ یہ نکلا کہ کمال احسان یہ ہے کہ نمازی یہ سمجھ کر نماز پڑھے کہ رب بھی مجھے دیکھ رہا ہے اور جناب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی۔