حدیث نمبر 362

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام سے جلدی نہ کرو جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ کہے وَلَاالضَّآلِّیْنَ تو تم کہو آمین ۱؎ اور جب رکوع کرے تم رکوع کرو اور جب کہے سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَہ تو تم کہو اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْد ۲؎(مسلم،بخاری) مگر بخاری نے ذکر نہ کیا کہ جب وہ وَلَاالضَّآلِّیْنَ کہے۔

شرح

۱؎ یعنی نماز کے اقوال و افعال سب میں امام سے پیچھے رہو آگے نہ بڑھو۔خیال رہے کہ دیگر تکبیروں میں مقتدی کا امام سے آگے بڑھنا مکروہ ہے مگر تکبیر تحریمہ میں آگے بڑھنا نماز کو فاسد کردے گا،وہاں ضروری ہے کہ امام کے بعد تکبیر کہے ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ اس تقسیم سے معلوم ہورہا ہے کہ مقتدی سورۂ فاتحہ نہ پڑھے گا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہ فرمایا کہ جب تم “وَلَاالضَّآلِّیْن” کہو تو تم “آمین” کہو۔

۲؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ دونوں کلمے امام اور مقتدی پرتقسیم کیئے گئے ہیں،یہی ہمارا مذہب ہے یہاں “اَللّٰھُمَّ” بھی آگیا اور روایات میں نہیں ہر طرح جائز ہے۔