أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَسۡجُدُ لَهٗ مَنۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِى الۡاَرۡضِ وَالشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ وَالنُّجُوۡمُ وَ الۡجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَآبُّ وَكَثِيۡرٌ مِّنَ النَّاسِ‌ ؕ وَكَثِيۡرٌ حَقَّ عَلَيۡهِ الۡعَذَابُ‌ؕ وَمَنۡ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ مُّكۡرِمٍ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ ۩ ۞

ترجمہ:

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ کے لئے ہی سجدہ کرتے ہیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمینوں میں ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت انسان، اور بہت سے وہ بھی ہیں جن پر عذاب مقدر ہو چا ہے اور جس کو اللہ ذلیل کر دے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں ہے، بیشک اللہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے

سورج کے سجدہ کر کے ٹھہرنے کی توجیہ 

الحج :18 میں فرمایا : کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ یہ کے لئے سجدہ کرتے ہیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمینوں میں ہیں۔ الخ 

کیا آپ نے نہیں دیکھا اس کا معنی ہے کیا آپ نے اپنی عقل سے نہیں جانا اور سجدہ کا لغوی اور شرعی معنی ہمالبقرہ :34 ہیں اور النحل :50میں بیان کرچکے ہیں۔ اسی طرح ہم وہاں ذوی العقول اور غیر ذوی العقول کے سجدہ کا معنی اور فرق بھی بیان کرچکے ہیں۔

علامہ ابن انباری نے کہا کہ امام ابوالعالیہ نیبیان کیا ہے کہ ہر ستارہ، چاند اور سورج جب غروب ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ میں گرا ہوا ہوتا ہے پھر جب تک اس کو واپس ہونے کی اجازت نہ ہو وہ سجدہ میں گرا رہتا ہے اور جب اس کو اجازت ملتی ہے تو وہ اپنی جگہ سے طلوع ہوتا ہے۔ علامہ قشیری نے کہا اس مسئلہ میں سورج کے سجدہ کرنے کے متعلق حدیث مروی ہے اور وہ یہ ہے :

حضرت ابو زر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے صحابہ کرام نے کہا کہ اللہ اور رسول کو ہی خوب علم ہے، آپ نے فرمایا : یہ سورج چلات رہتا ہے حتیٰ کہ جب یہ اپنے مستقر پر پہنچ جاتا ہے تو عرش کے نیچے سجدہ میں گر جاتا ہے پھر اسی طرح سجدہ میں پڑا رہتا ہے حتیٰ کہ اس سے کہا جاتا ہے کہ بلند ہو اور جہاں سے آیا ہے وہیں واپس لوٹ جا، پھر یہ واپس لوٹ جاتا ہے اور پھر صبح کو اپنے مطلع سے طلوع ہوتا ہے پھر اسی طرح چلتا جائے گا بلند ہو اور اپنے غروب کی جگہ سے طلوع ہو، پھر صبح کو یہ اپنے غروب کی جگہ (یعنی مغرب سے) طلوع ہوگا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، کیا تم جانتے ہو کہ ایسا کب ہوگا ؟ یہ اس وقت ہوگا جب کسی شخص کے لئے ایمان لانا مفید نہیں ہوگا جو اس سے پہلے ایمان نہ لاچ کا ہو یا جس نے اس سے پہلے اپنے ایمان کے ساتھ کوئی نیک عمل نہ کیا ہو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :4803 صحیح مسلم رقم الحدیث :159 سنن ابودائود رقم الحدیث :4002، سنن الترمذی رقم الحدیث :2186)

اس حدیث پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ سورج کا ہر وقت کسی نہ کسی جگہ طولع اور دوسری جگہ غروب ہوتا رہتا ہے پھر اس کے ٹھہرنے کی کیا توجیہ ہے ؟

علامہ طیبی نے کہا کہ سورج عرش کے نیچے اس طرح ٹھہرتا ہے کہ ہم اس کا ادراک نہیں کرتے اور نہ اس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غیب کی خبر دی ہے سو نہ ہم اس کی تکذیب کرتے ہیں اور نہ اس کی کیفیت بیان کرتے ہیں کیونکہ ہمارا علم اس کو محیط نہیں ہے۔ (تحفہ الاحوذی ج ٦ ص 420 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1419 ھ)

اس حدیث سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کیا مراد ہے اس کا حقیقی علم تو اللہ اور اس کے رسول ہی کو ہے، اس حدیث سے جو ہم نے سمجھا ہے وہ یہ ہے کہ روسل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غروب افٓتاب کو آفتاب کے سجدہ سے تعبیر فرمایا ہے، کیونکہ ہر چیز کی عبادت اس کے حسب حال ہوتی ہے لہٰذا جب سورج نصف النہار کے وقت حالت استواء پر ہوتا ہے تو اس کا یہ استواء قیام کے قائم مقام ہے اور زوال کے بعد جب سورج ڈھل جاتا ہے تو اس کا ڈھلنا رکوع سے عبارت ہے اور جب سورج افق میں غروب ہوتا ہے تو اس کا یہ غروب سجدہ کے مشابہ ہے، اور جس افق میں سورج غروب ہوتا ہے وہ چونکہ عرش کے نیچے واقع ہے اس لیء اس کو عرش کے نیچے سجدہ کرنے سے تعبیر فرمایا جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ پھر سورج اسی طرح سجدہ میں پڑا رہتا ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ رات بھر سورج سجدہ میں پڑا رہے گا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حالت سجدہ (یعنی حالت غروب) میں ہی اس سے کہا جاتا ہے کہ ” جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا ‘ اور لوٹنے کا مطلب الٹے پائوں واپس جانا نہیں ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے نظام تکوینی کے تحت لوٹتا ہے یعنی معروف طریقہ اور معمول کے مطابق جس افق سے غروب ہوا ہے اس کے مقابل دوسرے افق سے طلوع ہو، پھر اپنی منزل طے کرتا ہوا اس اففق پر غروب ہو کر پہلے افق پر طلوع ہو اس طرح جب قیامت قائم ہوگی تو سورج جس افق سے غروب ہوا تھا، اس وفق پر جانب غروب سے ہی طلوع ہوجائے گا۔ اس حدیث کی کوئی قابل ذکر توجیہ کسی نے نہیں لکھی اور اب تک میرے مطالعہ میں نہیں آئی۔ اکیس سال پہلے میرے دل میں یہ توجیہ آئی تھی، میں نے اس کو شرح صحیح مسلم ج ١ ص 648-649 میں بھی لکھا اور یہاں بھی کلھ دیا ہے، اگر یہ حق ہے تو اللہ کی جانب سے ہے اور اس کے رسول کا فیضان ہے ورنہ میرے علم کا نقص اور فکر کی غلطی ہے۔

سورج، چاند، ستاروں، پہاڑوں، درختوں، مومنوں اور کافروں کے سجدہ کی کیفیت 

امام ابن جریر طبری متوفی 310 ھ نے لکھا ہے کہ آسمان والوں اور زمین والوں اور پہاڑوں اور درختوں اور چوپایوں کا سجدہ کرنا درال ان چیزوں کا سایہ ہے جب ان چیزوں پر سورج طلوع ہوتا ہے اور جب ان سے زائل ہوتا ہے اس وقت ہر چیز کا سایہ مڑ جاتا ہے اور یہی اس کا سجدہ کرنا ہے، اور سورج چاند اور ستاروں کا سجدہ کرنا ان کا غروب ہونا ہے۔

اور فرمایا : اور بہت لوگ یعنی بہت سے بنو آدم سجدہ کرتے ہیں اور وہ مومنین ہیں۔

نیز فرمایا : اور بہت سے وہ بھی ہیں جن پر عذاب مقدر ہوچکا ہے۔ یعنی بہت سے بنو آدم ایسے ہیں جن کے لئے عذاب ثابت ہے اور ان کے کفر کی وجہ سے ان پر عذاب واجب ہے، اس کے باوجود ان کے سائے بھی اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ (جامع البیان جز 17 ص 170-171 مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

نیز فرمایا، اور جس کو اللہ ذلیل کر دے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں ہے، یعنی جس کو اللہ اس کی شقاوت اور اس کے کفر کی وجہ سے رسوا کر دے تو کوئی شخص اس کو اس ذلت اور رسوائی سے بچا نہیں سکتا۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : جو شخص اللہ کی عبادت میں سستی کرتا ہے وہ دوزخ میں چلا جاتا ہے۔

اور فرمایا : اور بیشک اللہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے، یعنی اللہ جن کافروں کو دوزخ میں ڈالے گا اس پر کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 18