أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ يُدۡخِلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَفۡعَلُ مَايُرِيۡدُ۞

ترجمہ:

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اللہ ان کو ان جنتوں میں داخل کر دے گا جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں، بیشک اللہ جس کا ارادہ کرتا ہے اس کو کرکے رہتا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے اللہ ان کو ان جنتوں میں داخل کر دے گا جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں، بیشک اللہ جس کا ارادہ کرتا ہے اس کو کر کے رہتا ہے جو یہ گمان کرتا تھا کہ اللہ اپنے رسول کی دنیا اور آخرت میں ہرگز مدد نہیں کرے گا تو اس کو چاہیے کہ وہ اونچی جگہ پر رسا بادنھ کر (اپنے گلے میں ڈال لے) پھر اس رسے کو کاٹ لے پھر یہ دیکھے کہ آیا اس کی یہ تدبیر اس کے غضب اور غصہ کو دور کرتی ہے (یا نہیں) اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو واضح ایتوں کے ساتھ نازل کیا ہے اور بیشک اللہ جس کو چاہے ہدایت دے دیتا ہے (الحج :14-16)

کافروں کی سزا کے بعد مومنوں کی جزا کا بیان 

اس سے پہلی ایٓتوں میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی عبادات اور ان کے معبودوں کا حال بیان کیا تھا اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کی عبادت کی صفت اور ان کے معبود کی صفت بیان فرمائی ہے، مناففقین کی عبادت کسی طرح درست نہیں تھی اور ان کے معبود کسی کو نفع یا ضرر پہنچانے پر قادر نہیں تھے، اور رہے مومنین تو ان کی عبادت ایک حقیقت ثابتہ ہے اور ان کا معبود ان کو سب سے عظیم نفع عطا فرمائے گا اور وہ جنت ہے پھر اللہ تعالیٰ نے جنت کے محاسن بیان فرمائے کہ اس میں سبزہ زار ہیں، دریا ہیں اور اللہ تعالیٰ جس کے لئے ارادہ فرمائے گا اس کو اپنے فضل اور احسان سے اور بہت نعمتیں عطا فرمائے گا۔ جیسا کہ فرمایا ،

(النساء :173) تو وہ ان کو پورا پورا اجر عطا فرمائے گا اور ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ عط افرمائے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 14