أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِيۡنَ هَادُوۡا وَالصّٰبِــئِيۡنَ وَالنَّصٰرٰى وَالۡمَجُوۡسَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَكُوۡۤا ‌ۖ اِنَّ اللّٰهَ يَفۡصِلُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ شَهِيۡدٌ ۞

ترجمہ:

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی ہوئے اور صابی (ستارہ پرست) اور عیسائی اور آتش پرست اور شرک کرنے والے، یقیناً اللہ ان سب کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ فرما دے گا، بیشک اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی ہوئے اور صابی (ستارہ پرست) اور عیسائی اور آتش پرست اور شرک کرنے والے، یقینا اللہ ان سب کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ دے گا، بیشک اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ کے لئے ہی سجدہ کرتے ہیں جو آسمان میں ہیں اور جو زمینوں میں ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت انسان اور بہت سے وہ بھی ہیں جن پر عذاب مقدر ہوچکا ہے اور جس کو اللہ ذلیل کر دے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں ہے، بیشک اللہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے (الحج :17-18)

ادیان مختلفہ اور ان کا شرعی حکم 

جو لوگ ایمان لائے، ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے اور یہودیوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں۔ صائبین یہ قوم ستارہ پرست ہے اس کی مکمل تشریح ہم نے البقرہ :62، تبیان القرآن ج ١ ص 734 میں دی ہے۔ عیسائی وہ ہیں جو اپنے آپ کو حضرت عیسیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور مجوس آگ کی پرستش کرنے والے ہیں وہ کہتے ہیں، عالم کی دو اصلیں ہیں نور اور ظلمت۔ قتادہ نے کہا ادیان پانچ ہیں، چار شیطان کے ادیان ہیں اور ایک رحمان کا دین ہے اور شرک کرنے والے : اس سے مراد بت پرست ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کر دے گا، پس کافروں کو دوزخ میں بھیج دے گا اور مسلمانوں کو جنت میں۔ اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس دنیا میں تو حق اور باطل کا پتا غور و فکر سے چلتا ہے اور قیامت کے دن ہر شخص کو بداھتاً علم ہوجائے گا اور اللہ تعالیٰ ان میں یہ علم پیدا کر دے گا جس سے سب کو معلوم ہوجائے گا کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون ہے۔

اللہ تعالیٰ ہر چیز پر نگہبان ہے : اس کا معنی یہ ہے کہ وہ تمام مخلوقات کے اعمال کو ان کے اقوال کو اور ان کی حرکات کو دیکھ رہا ہے اور اللہ سبحانہ کے علم سے کوئی چیز غائب نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 17