بشارت کو بشارت ہی سمجھو 

کافر لڑکی کی پیدائش کی خبر کو بری خبر سمجھتے تھے جیسا کے آیت کے الفاظ شاہد ہیں،اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اسے بشارت فرمایا اور بشارت اچھی خبر کو کہتے ہیں،اشارہ ہے اس بات کی طرف کے یہ خبر حقیقت میں خوشخبری ہے مگر یہ لوگ اپنی جھالت سے اسے بری خبر سمجھتے ہیں،یمسکہ اور یدسہ میں دوبارمفعول کی ضمیر آئی اور دونوں جگہ پر مذکر کی ضمیر ہے یہ اشارہ کرنے کے لئے کہ کیا مذکر اور کیا موٗنث دونوں اللہ کی مخلوق ہیں اور دونوں اللہ کی چاہت کی پیداوار ہے،ان میں صنف کے اعتبار سے کسی کو کسی پر ترجیح نہیں ہے،اللہ کے یہاں کی ترجیح ایمان پر ہے ولامۃ موٗمنۃ خیر من مشرکۃ ولو اعجبتکم اور بیشک ایمان والی باندی مشرکہ عورت سے بہتر ہے اگر چہ تمہیں بھاتی ہو ،ولعبد موٗمن خیر من مشرک ولو اعجبکم اور مومن غلام بہتر ہے مشرک مرد سے اگر چہ تمہیں بھاتا ہو،اور ایمان والوں میں ترجیح نیک عمل والوں کو ہے چاہے مرد ہو یا عورت،ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم بیشک اللہ کے نزدیک زیادہ مکرم تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے،لہذا صرف لڑکا اور لڑکی میں ایک کو دوسرے پر فضیلت نہیں دیں گے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت عوارض کی بنیاد پر ہو سکتی ہے،اور عوارض پر ہونے والی فضیلت ہر ایک کے اختیار میں ہے جو چاہے اپنی محنت سے حاصل کر لے