أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثَانِىَ عِطۡفِهٖ لِيُضِلَّ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ‌ؕ لَهٗ فِى الدُّنۡيَا خِزۡىٌ‌ وَّنُذِيۡقُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ۞

ترجمہ:

وہ (از راہ تکبر) اپنی گردن موڑے ہوئے ہے تاکہ (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے گمراہ کرے، اسی کے لئے دنیا میں ذلت ہے اور ہم قیامت کے دن اس کو جلانے والے عذاب کا مزہ چکھائیں گے

الحج : ٩ میں ہے : ثانی عطفہ اس کا معنی ہے تکبر سے گردن اکڑانا یا تکبر سے اپنی گردن پھی رلینا۔ یعنی نضر بن الحارث تکبر سے اپنی گردن اکڑائے ہوئے ہے یا تکبر کی بناء پر ذکر اور نصیحت سے اعراض کر رہا ہے، یہ معنی مبرو نے کیا ہے اور مفضل نے کہا اس کا معنی ہے پہلو تہی کر رہا ہے اور تکبر سے دوسری جانب پھر رہا ہے۔ یعنی وہ اپنے جدال میں حق کو قبول کرنے سے پہلو بچا رہا ہے اور فرمایا تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے گمراہ کرے یعنی انجام کار لوگوں کو گمراہ کرے۔ اس کے لئے دنیا میں ذلت ہے یعنی قیامت تک مومن اس آیت کی تلاوت کرتے رہیں گے اور اس کی ذلت اور رسوائی ہوتی رہے گی۔ جیسے ولید بن مغیرہ کے قرآن مجید نے دس عیوب بیان فرمائے :

(القلم :10-13) آپ ایسے شخص کی بات نہ مانیں جو بہت قسمیں کھانے والا ہے، ذلیل ہے، کمینہ ہے، عیب گو ہے، چغل خور ہے، نیکی سے بہت زیادہ منع کرنے والا ہے، حد سے بڑھنے والا ہے، گناہ گار ہے، مغرور اور اس کے علاوہ ولد احلرام ہے۔ سو جب تک مسلمان یہ ایٓتیں پڑھتے رہیں گے ولید بن مغیرہ کی دنیا میں رسوائی ہوتی رہے گی اور العاص بن وائل نے آپ کو ابتر (مقطوع النسل) کہا تو یہ آیت نازل ہوگئی :

ان شاینک ھو الابتر (الکوثر :3) بیشک آپ کا دشمن ہی ابتر اور مقطوع النسل اور بےنام و نشان ہے اور مسلمان جب تک اس آیت کو پڑھتے رہیں گے العاص بن وائل کو ابتر کہا جاتا رہے گا، اسی طرح الحج کی یہ ایٓتیں جب تک پڑھی جاتی رہیں گی، نضر بن الحارث کی مذمت ہوتی رہے گی یہ دنیا میں روسائی ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ دنیا میں رسوائی یہ ہے کہ نضر بن الحارث جنگ بدر میں مارا گیا تھا۔ (جامع البیان رقم الحدیث :18861) اور قیامت کے دن اس کو دوزخ کی آگ کا عذاب دیا جائے گا۔

القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 9