أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثُمَّ لۡيَـقۡضُوۡا تَفَثَهُمۡ وَلۡيُوۡفُوۡا نُذُوۡرَهُمۡ وَلۡيَطَّوَّفُوۡا بِالۡبَيۡتِ الۡعَتِيۡقِ ۞

ترجمہ:

پھر وہ اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذروں کو پورا کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں

تفث کا معنی 

الحج :29 میں فرمایا : پھر وہ اپنا میل کچیل دور کردیں اور اپنی نذروں کو پورا کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں۔

ہم نے تفث کا معنی میل کچیل کیا ہے اس کی کئی تفسیریں ہیں۔ اس کا ایک معنی ہے تمام مناسک حج ادا کرنا۔ اس کا دوسرا معنی ہے میل کچیل اپنے بدن سے زائل کر کے اس کو صاف کرنا۔ ازہری نے کہا اس کا معنی ہے مونچھیں تراشنا، ناخن کاٹنا، بغلوں اور زیر ناف بالوں کو مونڈنا۔ یہ حکم اس وقت ہے جب حج کرنے والا احرام کھول دے۔ النضر بن شمیل نے کہا تفث کا معنی ہے بکھرے ہوئے غبار آلود بالوں کو درست کرنا۔

نذر کا لغوی اور اصطلاحی معنی اس کی شرائط اور اس کا شرعی حکم 

قرآن مجید میں ہے :

یوفون بالنذر ویخافون یوما کان شرہ مستطیراً (الدھر : ٧) جو لوگ اپنی نذروں کو پورا کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جب اس دن کی گرفت یا عذاب چاروں طرف پھیل جائے گا۔ اور سورة الحج کی اس آیت میں نذر پورا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا ہے کہ نذر کو پورا کرنا واجب ہے۔ علامہ سحین بن محمد راغب اصفہانی متوفی 502 ھ نذر کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

نذر یہ یہ کہ کسی واقعہ کے پیش آنے کی وجہ سے تم اپنے اوپر اس عبادت کو واجب کرلو جو تم پر پہلے واجب نہیں تھی اور تم یہ نذریہ ہے کہ کسی واقعہ کے پیش آنے کی وجہ سے تم اپنے اوپر اس عبادت کو واجب کرلو جو تم پر پہلے واجب نہیں تھی اور تم یہ کہو کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے لیء اس عبادت کی نذر مانی ہے۔ (المفردات ج ہ ص 630، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، 1418 ھ)

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی 852 ھ لکھتے ہیں :

نذر کی سب سے عمدہ قسم یہ ہے کہ جب انسان کسی مرض سے شفا پا جائے تو کہے کہ مجھ پر نذر رہے کہ میں اللہ کے لئے اتنے روزے رکھوں گا یا مجھ پر نذر ہے کہ میں اللہ کا شکر ادا کرنے کے لئے اتنی چیزوں کو صدقہ کروں گا اور اس نذر کو کسی چیز پر معلق نہ کرے اور اسی کے قریب وہ نذر رہے جس میں کسی عبادت کو کسی کام پر معلق کیا جائے مثلاً یوں کہے کہ اگر اللہ نے میرے مریض کو شفا دے دی تو میں اتنے روزے رکھوں گا یا اتنی نمازیں پڑھوں گا۔ (یہ نذر ناپسندیدہ ہے جیسا کہ عنقریب واضح ہوگا، ان شاء اللہ) اس کے علاوہ اور بھی اقسام ہیں مثلاً کسی شخص کا غلام اس پر بوجھ بنا ہوا ہے تو وہ اس کو آزاد کرنے کی نذر مانتا ہے تاکہ اس سے اس کو چھٹکارا مل جائے اور اس نذر سے عبادت کا قصد نہیں کرنا، یا جیسے کوئی شخص اپنے اوپر بہت سخت اور دشوار عبادتوں کی نذر مان لتا ہے مثلاً وہ ایک ہزار نفل پڑھے گا یا مسلسل چھ ماہ کے روزے رکھے گا یا پیدل حج کرے گا اور یہ ایسے کام ہیں جن کے کرنے سے اس کو جسمانی ضرر ہوگا۔ اس قسم کی نذر ماننا مکرہ ہے اور بعض اوقات یہ کراہت تحریم تک پہنچ جاتی ہے۔ (فتح الباری ج ٣ ۃ ص 434، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1420 ھ)

علامہ محمد بن علی بن محمد حصکفی متوفی 1088 ھ لکھتے ہیں :

جس شخص نے نذر مطلق مانی (یعنی اس کو کسی کام پر معلق نہیں کیا مثلاً وہ کہے کہ میں اللہ کے لیء ایک سال کے روزے رکھنے کی نذر مانتا ہوں یا اس نے نذر کو کسی شرط پر معلق کیا اور اس عبادت کی نذر مانی جو فرض یا واجب ہو اور وہ عبادت مقصودہ ہو، اس لئے مثلاً وضو اور میت کو کفن دنیے کی نذر مانتا صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ عبادات مقصودہ نہیں ہے اور جب وہ شرط پائی جائے تو نذر ماننے والے پر اس نذر کو پورا کرنا واجب جب ہے کیونکہ حدیث میں ہے جس شخص نے کسی عبادت کی نذر مانی تو اس پر اس نذر کو پورا کرنا واجب ہے، جیسے روزے، ماز، صدقہ اور اعتکاف اور جس عبادت کی جنس سے کوئی عبادت فرض نہ ہو اس کو پورا کرنا واجب نہیں ہے جیسے مریض کی عیادت کرنا، جنازہ کے ساتھ جانا اور مسجد میں دخل ہونا خواہ مسجد نبوی ہو اور البحر الرائق میں نذر کی پانچ شرائط ذکر کی ہیں :

(١) جس کام کی نذر مانی ہے وہ کام لذلتہ معصیبت اور گناہ نہ ہو اس لئے عید الاضحی کے دن روزہ رکھنے کی نذر مانتی صحیح کیونکہ وہ مصیبت لغیرہ ہے۔ (٢) اور جس عبادتا کی نذر مانی ہے وہ اس پر نذر سے پہلے واجب نہ ہو مثلاً اگر کسی شخص نے حجتہ الاسلام کی نذر مانی تو اس نذر سے اس پر حج واجب نہیں ہوگا۔ کیونکہ وہ اس کی نذر ماننے سے پہلے ہی واجب ہے۔

(٣) جس چیز کو عبادت میں خرچ کرنے کی نذر مانی ہے وہ اس کی ملکیت سے زائد نہ ہو یا وہ چیز کسی اور کی ملکیت میں نہ ہو۔ مثلاً اس نے ایک ہزار روپے صدقہ کرنے کی نذر مانی اور اس کے پاس صرف سو روپے ہیں تو اس پر صرف سو روپے صدقہ کرنا واجب ہوں گے۔

(٤) جس عبادت کی نذر مانی ہے اس کا کرنا محال نہ ہ۔ مثلاً اگر اس نے گزشتہ کل کے روزے یا اعتکاف کی نذر مانی تو اس کی یہ نذر صحیح نہیں ہے۔

(٥) اگر اس نے صاحب نصاب پر صدقہ کرنے کی نذر مانی تو یہ نذر صحبح نہیں ہے آلایہ یہ کہ وہ مسافر صاحب نصاب پر صدقہ کرنے کی نیت کرے گا اور اگر اس نے ہر نماز کے بعد تسبیحات پڑھنے کی نذر مانی تو یہ نذر السلام ہوگی اور اگر اس نے یہ نذر مانی کہ وہ ہر روزاتنی مرتبہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود شریف پڑھے گا تو اس پر نذر الازم ہوجائے گی یہ نذر ازم ہو اے (اس کی توجیہ سے ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود شریف پڑھے گا تو اس پر یہ نڈر الزم ہوجا گی۔ (اس کی توجیہ سے ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود شریف پڑھنا زندگی میں ایک ایک مرتبہ فرض ہے۔ اسی طرح تسبیحات کی جنس سے بھی ایام تشریق میں تکبیرات تشریق کو بڑھانا زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے۔ اس طرح تسبیحات کی جنس سے بھی ایام تشریق میں تکبیرات تشریق کو پڑھنا واجب ہے۔ ) (ردا المختارج ٥ ص 411-415 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1420 ھ)

نذر کے احکام سے متعلق احادیث 

نذر پورا کرنے کے وجوب کے متعلق یہ احادیث ہیں :

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے کہا میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک رات مسجد حرام میں اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنی نذر پوری کرو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :6697 صحیح مسلم رقم الحدیث :1173 سنن ابودائود رقم الحدیث :2464، سنن الترمذی رقم الحدیث :791، سنن النسائی رقم الحدیث 709، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :1771)

حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو میرے قرن (زمانہ) میں ہیں پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے قریب ہیں پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے قریب ہیں، پھر ان کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جو نذر مانیں گے اور اس کو پورا نہیں کریں گے، وہ خیانت کریں گے اور امانت داری نہیں کریں گے، وہ شہادت دیں گے اور ان سے شہادت طلب نہیں کی جائے گی اور ان میں موٹاپا ظاہر ہوگا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :6695 صحیح مسلم رقم الحدیث :2535، سنن النسائی رقم الحدیث :3809 سنن ابودائود رقم الحدیث :4657 سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢٢٢ )

معصیت کی نذر کو پورا نہ کرنے کے متعلق یہ حدیث ہے :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے اللہ کی اطاعت کی نذر مانی ہے وہ اللہ کی اطاعت کرے اور جس شخص نے اللہ کی معصیت کی نذر مانی ہے وہ اللہ کی معصیت نہ کے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :6696، سنن ابو دائود رقم الحدیث :3289، سنن النسائی رقم الحدیث :3873 سنن الترمذی رقم الحدیث :1526، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :2126 صحیح ابن حبان رقم الحدیث :4387، موطا امام مالک رقم الحدیث :294، سنن داری رقم الحدیث :2343 مسند احمد رقم الحدیث :24576، عالم الکتب بیروت)

اپنے نفس کو مشقت میں ڈالنے والے کاموں کی نذر کی ممانعت میں یہ احادیث ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو دیکھا، اس کے گلے میں رسی باندھی ہوئی تھی اور وہ طواف کر رہا تھا، آپ نے اس کی وہ رسی کاٹ دی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :6702 سنن ابودائود رقم الحدیث :3302، سنن النسائی رقم الحدیث :2920 مسند احمد رقم الحدیث :3443 مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث :15862, 15861)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ دے رہے تھے، آپ نے دیکھا ایک آدمی (دھوپ میں) کھڑا ہوا ہے۔ آپ نے اس کے متعلق پوچھا صحابہ نے بتایا کہ اس نے نذر مانی تھی کہ یہ کھڑا رہے گا اور بیٹھے گا نہیں اور سائے میں نہیں رہے گا اور یہ بات نہیں کرے گا اور روزے رکھے گا۔ آپ نے فرمایا اس سے کہو کہ باتیں کرے اور سائے میں رہے اور بیٹھے اور اپنا روزہ پورا کرے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :6704)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک شخص کے پاس سے گزرے اور وہ کعبہ کا طوف کر رہا تھا اس کی ناک میں نکیل پڑی ہوئی تھی اور دوسرا شخص اس کو پکڑ کر کھینچ رہا تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ سے اس کی نکیل کو کاٹ دیا اور اس شخص سے فرمایا اس کا ہاتھ کڑ کرلے جائو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :6703 سنن ابودائود رقم الحدیث :3302، سنن النسائی رقم الحدیث :2920، مصنف عبدالرزاق رقم الدیث :58161، مسند احمد رقم الحدیث :3442)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خبر پہنچی کہ حضرت عقبہ بن عامر کی بہن نے یہ نذر مانی ہے کہ وہ پیدل حج کرے گی، آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس کی اس نذر سے مستغنی ہے، اس سے کہو کہ سوار ہو۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث :3297)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا ایک شخص اپنے دو یٹوں کے درمیان سہارے سے چل رہا تھا۔ آپ نے اس کا سبب دریافت کیا لوگوں نے بتایا اس نے پیدل چلنے کی نذر مانی ہے۔ آپ نے فرمایا اس شخص نے اپنے آپ کو جس عذاب میں مبتلا کیا ہوا ہے اللہ تعالیٰ اس سے مستغنی ہے، اس سے کہو کہ سوار ہو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :1865، صحیح مسلم رقم الحدیث :1642، سنن ابو دائود رقم الحدیث :3301 سنن الترمذی رقم الحدیث :1537 سنن النسائیرقم الحدیث :3862, 3861)

جس چیز کا انسان مالک نہ ہو، اس کی نذر ماننے سے ممانعت کے متعلق یہ حدیث ہے :

حضرت عمران بن حصین (رض) سے ایک طویل حدیث مروی ہے اس کے آخر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد ہے : اللہ تعالیٰ کی معصیت میں نذر کو پورا کرنا جائز نہیں ہے اور نہ اس چیز کی نذر ماننا جائز ہے جس کا ابن آدم مالک نہیں ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :1641، سنن ابودائود رقم الحدیث :3316، سنن الترمذی رقم الحدیث : 3316، سنن الترمذی رقم الحدیث :1568، سنن النسائی رقم الحدیث :3858 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :2124)

اپنے کل مال کو صدقہ کرنے کی نذر کی ممانعت کے متعلق یہ احادیث ہیں :

حضرت کعب بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ ! میری توبہ یہ ہے کہ میں اپنا کل مال اللہ اور اس کے رسول کی طرف صدقہ کر دوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اپنا بعض مال روک لو یہ تمہارے لئے بہتر رہے گا میں نے کہا خیبر میں جو میرا حصہ ہے میں اس کو رکھ لیتا ہوں۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث :3317، سنن النسائی رقم الدیث :3833)

حضرت ابولبابہ نے کہا میری توبہ یہ ہے کہ میں اپنی قوم کے اس گھر کو چھوڑ دوں جس میں میں نے گناہ کیا تھا اور میں اپنے تمام مال کو اللہ کے لئے صدقہ کر دوں، آپ نے فرمایا تمہارے لئے تہائی مال کو صدقہ کرنا کافی ہے۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث :3319)

جس کام کو کرنا انسان کی طاقت میں نہ ہو، اس کی نذر ماننے کی ممانعت کے متعلق یہ حدیث ہے :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے کوئی نذر مانی اور اس کو معین نہیں کیا، اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے اور جس نے گناہ کرنے کی نذر مانی، اس کا کافرہ (بھی) قسم کا کفارہ ہے اور جس نے ایسے کام کی نذر مانی جس کی وہ طاقت نہیں رکھتا اس کا کفارہ (بھی) قسم کا کفارہ ہے اور جس نے ایسی عبادت کی نذر مانی ہے جس کی وہ طاقت رکھتا ہے وہ اس نذر کو پورا کیر۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث :3322 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4128)

ورثاء کی نذر پوری کریں، اس کے متعلق یہ احادیث ہیں :

حضرت سعد بن عبادہ انصاری (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس نذر کے متعلق سوال کیا جو ان کی ماں پر تھی اور ہوہ اس نذر کو پوری کرنے سے پہلے فوت ہوگئیں آپ نے فرمایا وہ اپنی ماں کی طر سے یہ نذر پوری کریں، پھر ان کے بعد یہ طریقہ مقررہ وگیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :6698 صحیح مسلم رقم الحدیث :1638 سنن ابودائود رقم الحدیث :3307 سنن النسائی رقم الحدیث :3817، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :2132)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آ کر کہا میری بہن نے حج کرنے کی نذر مانی تھی اور وہ فوت ہوچکی ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر اس پر قرض ہوتا تو کیا تم اس قرض کو ادا کرتے ؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا تو پھر اللہ کا قرض ادا کرو، وہ ادا کئے جانے کے زیادہ مستحق ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :6699، سنن ابودائود رقم الحدیث :1809، سنن دارمی رقم الحدیث :1840، مسند حمیدی رقم الحدیث :507 موطا امام مالک رقم الحدیث :236، مسند احمد رقم الحدیث :2266)

نذر کے ناپسندیدہ ہونے کے متعلق احادیث :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نذر ماننے سے منع فرمایا اور فرمایا نذر کسی چیز کو ٹال نہیں سکتی اور نذر بخیل سے عبادت نکالتی ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :6608 صحیح مسلم رقم الحدیث :1639، سنن ابو دائود رقم الحدیث :3287 سنن النسائی رقم الحدیث :3801 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :2122 مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث :15846 سنن دارمی رقم الحدیث :3345 مسند احمد رقم الحدیث :5275)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نذر ماننے سے ابن آدم کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں آسکتی جو اس سے پہلے مقدر نہ ہوچکی ہو لیکن تقدیر اس کے لئے وہ چیز لے آتی ہے جو اس کے لئے پہلے مقدر ہوچکی ہو، نذر بخیل سے اس کی عبادت کو نکالتی ہے۔ (صحیح البخارق ریم الحدیث :6609 سنن الترمذی رقم الحدیث :1538، سنن ابودائود رقم الحدیث :3288، سنن النسائی رقم الحدیث :3805، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4123 مسند احمد رقم الحدی :7295)

نذر ماننے کی ممانعت کے متعدد محامل اور توجیہات 

قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی اندلسی متوفی 544 ھ لکھتے ہیں :

امام مازری (رح) نے کہا اس حدیث سے غرض یہ ہے کہ نذر کی حفاظت کی جائے اور اس کو لازماً پورا کیا جائے اور میرے نزدیک یہ توجیہ ظاہر حدیث سے بعید ہے اور میرے نزدیک ممانتع کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ عبادت کی نذر ماننے والا اپنا مقصد پورا کرنے کے بعد اس عبادت کو جرمانہ، تاوان اور سزا کے طور پر ادا کرتا ہے، کیونکہ اب اس کو اس عبادت کے کرنے اور نہ کرنے کا اختیار نہیں رہا وہ اس پر الزم اور واجب ہوگئی اور ہر وہ کام جس میں انسان پر جبر ہو، وہ اس کو خوشی سے نہیں کرتا، اور امام مالک کے نزدیک یہ مکروہ ہے کہ انسان کسی معین دن کا روزہ مان لے اور ہمارے مشائخ نے اس کراہت کی یہی وجہ بیان کی ہے۔

اور حدیث میں نذر ماننے کی ممانعت کی یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ نذر ماننے والے نے جب تک نذر نہیں مانی تھی اس وقت تک اس نے وہ عبادت نہیں کی تھی اور وہ اس شرط پر اس عبادت کو کرتا ہے کہ اس کا وہ کام ہوجائے جس کے لئے اس نے اس عبادت کی نذر مانی تھی اور اس کی یہ عبادت گویا کہ اس کے کام کا معاوضہ ہے اور اس سے اللہ تعالیٰ کے تقریب کی زینت خراب ہوجاتی ہے اور وہ اجر نہیں ملتا جو خالص عبادت پر ملتا ہے اور حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : میں تمام شرکاء کے شرک سے مستغنی ہوں اور جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا جس میں میرے غیر کو شریک کیا، میں اس عمل کو اور اس کے شرک کو ترک کردیتا ہوں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :2985 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4202 صحیح ابن حبان رقم الحدیث :395، مسند احمد ج ٢ ص 301)

اس تاویل کی طرف آپ کی اس حدیث میں اشارہ ہے کہ ” نذر کسی خیر کو نہیں التی “ اور اس حدیث میں اشارہ ہے : نذر تقدیر سے مستغنی نہیں کرتی اور اس حدیث میں اشارہ ہے کہ نذر کبھی تقدیر کے موافق ہوجاتی ہے پھر بخیل سے وہ عبادت نکالتی ہے جس کو بخیل نکالنا نہیں چاہتا تھا۔ (اکمال المعلم بفوائد مسلم ج ٥ ص 387، مطبوعہ دارالوفاء بیروت، 1419 ھ)

علامہ المبارک بن محمد ابن الاثیر الجزری المتوفی 606 ھ لکھتے ہیں :

احادیث میں نذر سے ممانتع کا ذکر بہت آیا ہے اور یہ نذر کی تاکید اور اس میں نذر کے واجب ہونے کے بعد اس کو پورا کرنے میں سستی سے ڈرانا ہے اور اگر اس سے مقصود نذر سے جھڑکنا ہوتا حتیٰ کہ نذر نہ مانی جائے تو اس میں نذر کے حکم کو باطل کرنا ہونا ہوتا اور اس کو پورا کرنے کے لزوم کو ساقط کرنا ہوتا، کیونکہ ممانعت کے بعد نذر ماننا گناہ ہوتا اور اس کو پورا کرنا لازم نہ ہوتا اور ممانعت کی احادیث کی توجیہ یہ ہے کہ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ نذر ان کے مقصود کو جلد کھینچ کر نہیں لاتی اور نہ ان سے جلد کسی ضرر کو دور کرتی ہے اور نہ ان سے قضا اور تقدیر کو ٹالتی ہے تو گویا آپ نے فرمایا تم اس طرح نذر نہ مانو گویا تم نذر مان کر اس چیز کو حاصل کرلو گے جو تمہارے لئے مقدر نہیں کی گئی یا تم نذر سے کسی ایسی مصیبت کو دور کردو گے جو تمہارے لئے مقدر ہوچکی ہے۔ پس جب تم اس قسم کے اعتقاد سے نذر نہیں مانو گے تو پھر تم اس نذر کو پورا کرو کیونکہ تم نے جس عبادت کی نذر مان لی ہے وہ تم پر لازم ہے۔ (النہایہ ج ٥ ص 33 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1418 ھ معالم السنن للخطابی مع مختصر سنن ابودائود ج ٤ ص 370)

علاہم ابو العباس احمد بن عمر بن ابراہیم القرطبی المالکی المتوفی 656 ھ لکھتے ہیں :

اس کا محل یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے یہ کہا کہ اگر اللہ نے میرے مریض کو شفا دے دی یا میرے گم شدہ آدمی کو لوٹا دیا تو میں ایک غلام آزاد کروں گا یا اتنی چیز صدقہ کروں گا یا اتنے روزے رکھوں گا۔ اس نذر سے ممانت کی توجیہ یہ ہے کہ جب اس نے اس عبادت کو اپنی کسی غرض کے جلد پورا ہونے پر موقوف کردیا تو اس سے ظاہر ہوگیا کہ اس کی نیت اس عبادت سے محض اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنا نہیں تھی بلکہ اس نے اپنی غرض پوری کرنے کے عوض میں اس عبادت کی نیت کی تھی۔ کیا تم کو یہ معلوم نہیں کہ اگر اس کی وہ غرض پوری نہیں ہوئی تو پھر وہ اس عبادت کو نہیں کرے گا، اور یہی بخیل کا حال ہوتا ہے اس کے مال سے کوئی چیز اس وقت تک نہیں نکالی جاسکتی جب تک اسے اس چیز کا جلد معاوضہ نہ حاصل ہوجائے اور اس معنی کی طرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس حدیث میں اشارہ فرمایا ہے : نذر کے سبب سے بخیل سے اس عبادت کو نکالا جاتا ہے جس کو بخیل نہیں نکالتا، پھر اس کے ساتھ جاہل کا یہ اعتقاد مل جاتا ہے کہ نذر اس کی غرض کے حصول کو واجب کردیتی ہے یا اللہ تعالیٰ اس نذر کی وجہ اس کی غرض کو پورا کردیتا ہے اور ان ہی دو علتوں کی طرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی اس حدیث میں اشارہ فرمایا ہے : بیشک نذر اللہ کی تقدیر سے کسی چیز کو ٹال نہیں سکتی اور یہ دونوں جہالتیں ہیں ال بتہ پہلی جہالت کہ نذر اللہ تعالیٰ پر غرض پورا کرنا واجب کردیتی ہے کفر کے قریب ہے، اور دوسری جہالت یعنی اللہ تعالیٰ نذر کی وجہ سے اس کی غرض پوری کرتا ہے، اس کے اعتقاد میں خطاء صریح ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ پھر نذر کا ماننا حرا ہے یا مکروہ ہے ؟ تو علماء کا معروف مذہب یہ ہے کہ نذر ماننا مکروہ ہے، اور میں کہتا ہوں کہ میرے نزدیک ظاہر یہ ہے کہ جس کے حق میں اس فاسد اعتقاد کا خطرہ ہ، اس کا نذر مانا حرام ہے اور جس کا یہ اعتقاد نہ ہو اس کا نذر ماننا مکروہ ہے۔ بہرحال جب بھی نذر مانی جائے خواہ وہ کسی طرح ہو، اس کو پورا کرنا واجب ہے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے اللہ کی اطاعت کی نذر کی وہ اس کی اطاعت کرے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :6696) (المفھم ج ٤ ص 606-607 مطبوعہ دار ابن کثیر بیروت، 1417 ھ)

نذر ماننے کے متعلق مصنف کی تحقیق 

ہمارے نزدیک اگر نذر اس فاسد اعتقاد کے ساتھ مانی ہے جس کی علامہ قرطبی نے تفصیل کی ہے تو پھر نذر کا ماننا حرام ہے یا مکروہ ہے اور اگر اس نے عبادت کو اپنی کسی شرط پر معلق کیا ہے مثلاً اس کی بیماری دور ہوجائے لیکن اس کا یہ اعتقاد نہیں ہے کہ اس نذر کی وجہ سے اس کا کام ضرور ہوجائے گا یا اس کی تقدیر بدل جائے گی تو پھر اس نذر کا ماننا مکروہ تنز یہی یا خلاف اولیٰ ہے، کیونکہ بہرحال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسی نذر ماننے سے منع فرمایا ہے۔ البتہ اگر اس نے بغیر کسی شرط کیم حض اللہ کی محبت میں اور اس کی عبادت کے شوق میں نذر مانی ہے مثلاً میں فلاں دن کا روزہ رکھوں گا یا فلاں دن اتنے نفل پڑھوں گا یا اس سال حج کروں گا تو ایسی نذر ماننا مستحب ہے اور اس نذر کو بھی پورا کرنا واجب ہے اور قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اسی نذر کی تعریف اور تحسین فرمائی ہے :

یوفون بالنذر ویخافون یوماً کان شرہ مستطیراً (الدھر : ٧) جو لوگ اپنی نذروں کو پورا کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جب اس دن کی گرفت یا عذاب چاروں طرف پھیل جائے گا۔

امام ابن جریر نے مجاہد سے اس کی تفسیر میں روایت کیا جب وہ اللہ کے حق میں نذر مانیں۔

قتادہ نے کہا جو لوگ نماز، روزہ، حج، عمرہ اور دیگر فرائض کی اللہ کی اطاعت میں نذر مانتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کا نام ابرار رکھا ہے۔ (جامع البیان جز 29 ص 259، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

طواف کی اقسام :

الحج، 29 کے اخیر میں فرمایا اور اس قدیم گھر کا طواف کریں۔

طواف کی تین قسمیں ہیں طواف قدوم، طواف زیارت اور اس کو طواف افاضہ بھی کہتے ہیں اور طواف وداع اس کو طواف صدر بھی کہتے ہیں، جو حج کرنے والا مسافر ہو اس کے لئے طواف قدوم سنت ہے اور طواف زیارت ہر حج کرنے والے پر فرض ہے اور طواف وداع، حج کرنے والے مسافر پر واجب ہے۔

علامہ علاء الدین حصکفی حنفی متوفی 1088 ھ طواف قدوم کے متعلق لکھتے ہیں :

اور بیت اللہ کا طواف قدوم کرے اور یہ باہر سے آ کر حج کرنے والے کے لئے سنت ہے کیونکہ وہ بیت اللہ میں قدم رکھنے والا ہے، اس طواف کی ابتداء طواف کرنے سے پہلے کعبہ کے دروازہ کے قریب اپنی دائیں جانب سے کرے اس طرح بیت اللہ اس کی بائیں جانب ہوجائے گا۔ طواف شرع کرنے سے پہلے اپنے احرام کی چادر اپنی دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے کے اوپر ڈال لے اور حطیم کے پیچھے سے طواف کرے اور سات بار کعبہ کے گرد چکر لگائے اور پہلے تین چکروں میں رمل کرے یعنی تیز تیز چلے اور ہر چکر میں طواف حجر اسود سے شروع کر کے حجر اسود پر ختم کرے اور جب بھی حجر اسود کے سامنے سے گزرے تو تعظیم کرے اگر ممکن ہو تو اس کو بوسہ دے یا چھوئے یا اس کی طرف دونوں ہاتھ اٹھا کر اس طرح اشارہ کرے گویا اس کو پکڑ رہا ہے اور رکن یمانی کی بھی تعظیم کرے اور یہ مستحب ہے لیکن بوسہ دینے کے بغیر امام محمد نے کہا یہ سنت ہے اور رکن یمانی کو بھی بوسہ دے اور دلائل اس کے سنت ہونے اور اس کو بوسہ دینے کی تائید کرتے ہیں۔ (علامہ شامی نے کہا میں مذکور ہے کہ رکن یمانی کو بوسہ نہ دے اور امام محمد کی طرف جو قول منسوب ہے، وہ ضعیف ہے) اور حجر اسود اور رکن یمانی کے ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز پڑھے۔ (الدرا المختار مع ردا المختارج ٣ ص 448-454 مختصراً مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت 1420 ھ)

طواف زیارت یہ ہے کہ ایام نحر (دس، گیارہ، بارہ ذوالحج) میں سے کسی دن کعبہ کے گرد سات چکر لگائے اور اس میں رمل نہ کرے اور نہ اس کے بعد سعی کرے اگر اس سے پہلے سعی کرچکا ہے ورنہ رمل بھی کرے اور سعی بھی کرے۔ اس کا افضل وقت دس ذوالحج کو نماز فجر کے بعد ہے اور اس کا وقت آخر عمر تک رہتا ہے۔ (علامہ شامی نے کہا ہے اگر اس نے بغیر عذر کے ١٢ ذوالحج کے بعد طواف زیارت کیا تو وہ گناہ گار ہوگا) طواف زیارت سے قبل جب اس نے حلق کرا لیا (سر منڈالیا یا بال کٹوا لئے) تو اس کی بیوی اس پر حلال ہوجائے گی اور ایام نحر کے بعد اگر طواف زیارت کیا تو یہ مکروہ تحریمی ہے اور اس پر دم واجب ہوگا (ایک بکری ذبح کرنا ہوگی) اور یہ بہ قدر امکان ہے اگر عورت کو حیض آیا ہوا ہو یا کوئی اور عذر ہو تو طواف زیارت کو بغیر کراہت اور وجوب دم کے مئوخر کیا جاسکتا ہے۔ (الدرا المختار مع ردا المختارج ٣ ص 476-478 ملحضاً بیروت)

جب حج کرنے والا مکہ مکرمہ سے سفر کرین کا ارادہ کرے تو پھر کعبہ کا الوداعی طواف کرے، اس کو طواف وداع اور طواف صدر کہتے ہیں۔ اس میں کعبہ کے گرد سات بار چکر لگائے نہ رمل کرے اور نہ سعی کرے۔ یہ اہل مکہ کے علاوہ ہر حج کرنے والے پر واجب ہے اور اہل مکہ کے لئے مستحب ہے۔ (الدرا المختار مع ردا المختارج ٣ ص 482-483 مختصراً بیروت)

القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 29