باب ما علی الماموم من المتابعۃ وحکم المسبوق

مقتدی پر پیروی واجب ہونے کا حکم اور حکم مسبوق ہونے کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ نماز کے ہر مقتدی کو ماموم کہتے ہیں۔مقتدی کی تین قسمیں ہیں: مدرک:جو اول سے آخر تک امام کے ساتھ رہے۔مسبوق:جو آخر نماز میں امام کے ساتھ ہو اول نہ پائے۔لاحق:اس کا برعکس یعنی اول نماز پائے آخر نہ پائے۔خیال رہے کہ مقتدی پر افعال نماز میں امام کی پیروی واجب ہے نہ کہ اقوال۔

حدیث نمبر 360

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے جب آپ سمع اﷲ لمن حمدہ کہتے تو ہم میں سے کوئی اس وقت تک پیٹھ نہ جھکاتا جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پیشانی مبارک زمین پر رکھتے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،غزوہ خندق میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے،اس سے پہلے غزوات میں لڑکپن کی وجہ سے اسلامی فوج میں نہ لیے گئے،جنگ جمل،صفین اور نہروان،میں امیر المؤمنین علی مرتضی کے ساتھ رہے۔

۲؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدہ شروع کردینے پر ہم قومہ سے جھکنا شروع کرتے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ مقتدی کا امام اسے اتنا پیچھے رہنا سنت ہے اورامام کے ساتھ رکن نماز میں ملنا واجب حتی کہ اگر امام رکوع سے سر اٹھائے اور مقتدی ابھی تک رکوع کی تین تسبیح نہیں پڑھ سکا تو تسبیحیں چھوڑ کر امام کے ساتھ کھڑا ہوجائے اور اگر مقتدی رکوع میں امام سے پہلے اٹھ کھڑا ہوا تو پھر لوٹ جائے یہ اس کا ایک ہی رکوع ہوگا نہ کہ دو۔(مرقاۃ)