أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَيۡرَ مُشۡرِكِيۡنَ بِهٖ‌ؕ وَمَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخۡطَفُهُ الطَّيۡرُ اَوۡ تَهۡوِىۡ بِهِ الرِّيۡحُ فِىۡ مَكَانٍ سَحِيۡقٍ ۞

ترجمہ:

ہر باطل سے الگ، صرف اللہ کے ہو کر رہو کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ بناتے ہوئے اور جس نے کسی کو اللہ کا شریک قرار دیا وہ گویا آسمان سے گرگیا ، پھر اسے مردار خور پرندے جھپٹ لیتے ہیں یا آندھی اس کو کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے

حنفاء للہ کا معنی ہے اللہ کے دین پر مستقیم رہتے ہئے اور ادیان باطلہ سے اعراض کرتے ہوئے اور دین حق کی طرف مئال ہوتے ہوئے 

اور فرمایا : اور جس نے کسی کو اللہ کا شریک قرار دیا وہ گویا آسمان سے گرگیا ، یعنی وہ شخص قیامت کے دن اس شخص کی طرح ہوگا جو اپنے نفس کے لئے کسی نفع کا مالک ہو اور نہ اپنے نفس سے کسی ضرر اور عذاب کو دور کرسکے اور فرمایا پھر اس کو مردار خور پرندے جھپٹ لیتے ہیں یعنی اس پر اپنے پنجے مارتے ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ کیفیت اس وقت ہوگی جب اس کی روح نکلے گی اور فرشتے اس کی روح کو لے کر آسمان دنیا کی طرف جائیں گے تو اس کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور فرشتے کہیں گے اس کو دور لے جائو فسحقاً لاصحاب السعیر۔ (الملک : ١١)

اس آیت کا مصداق یہ حدیث ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب کسی شخص پر موت آئے تو فرشتے اس کے پاس آ کر کہتے ہیں : اے پاکیزہ روح جو پاک جسم میں تھی تو تحسین کئے ہوئے حال میں باہر نکل آ، اور خوشیوں کی بشارت لے اور رب کے راضی ہونے اور نارضا نہ ہونے کی۔ اس سے یونہی کہا جاتا رہے گا حتیٰ کہ روح باہر نکل آئے گی پھر فرشتے اس روح کو لے کر آسمان کی طرف جائیں گے اور اس کے لئے آسمان کو ھول دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا یہ کون ہے تو فرشتے بتائیں گے یہ فلاں بن فلاں ہے۔ اس سے کہا جائے گا اس پاکیزہ روح کو مرحبا ہو جو پاکیزہ جسم میں تھی پھر یونہی کہا جاتا رہے گا حتی کہ (اس کو لے کر) اس آسمان میں پہنچیں گے جس میں اللہ تعالیٰ ہے (یعنی اس کی خاص رحمت ہے) اور اگر بدکار شخص پر موت آئے تو فرشتے کہیں گے اے خبیث روح ! جو خبیث جسم میں تھی، مذمت کئے ہوئے حال میں اس جسم سے باہر نکل، تجھے دوزخ کی، گرم کھولتے ہوئے پانی اور اس طرح اور عذاب کی بشارت ہو۔ اس سے یونہی کہا جاتا رہے گا حتیٰ کہ اس کی روح اس جسم سے باہر نکل آئیگی، پھر فرشتے اس کو لے کر آسمان کی طرف جائیں گے کہا جائے گا : یہ کون ہے ؟ فرشتے کہیں گے یہ فلاں ہے پھر کہا جائے گا یہ خبیث روح جو خبیث جسم میں تھی اس کو مرحبا نہ ہو۔ تو مذمت کئے ہوئے حال میں واپس جا، تیرے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے، پھر اس کو آسمان سے نیچے بھیج دیا جائے گا اور وہ قبر میں چلی جائے گی۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4262 مسند احمد ج ٢ ص 139، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث :3387)

القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 31