أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰلِكَ وَمَنۡ يُّعَظِّمۡ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَيۡرٌ لَّهٗ عِنۡدَ رَبِّهٖ‌ؕ وَاُحِلَّتۡ لَـكُمُ الۡاَنۡعَامُ اِلَّا مَا يُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ‌ فَاجۡتَنِبُوا الرِّجۡسَ مِنَ الۡاَوۡثَانِ وَاجۡتَنِبُوۡا قَوۡلَ الزُّوۡرِۙ ۞

ترجمہ:

یہی حکم ہے اور جو اللہ کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرے گا تو اس کے رب کے نزدیک اس کے لئے بہتر ہے، اور تمہارے لئے سب مویشی حلال کردیئے گئے سوائے ان کے جو تم پر تلاوت کئے جاتے ہی، سو تم بتوں کی نجاست سے اجتناب کرو اور جھوٹی بات سے پرہیز کرو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہی حکم ہے اور جو اللہ کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرے گا تو اس کے رب کے نزدیک اس کے لئے بہتر ہے اور تمہارے لئے سب مویشی حالل کردیئے گئے سوا ان کے جو تم پر تلاوت کئے جاتے ہیں، سو تم بتوں کی نجاست سے اجتناب کرو اور جھوٹی بات سے پرہیز کرو ہر باطل سے الگ صرف اللہ کے ہو کر رہو، کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ بناتے ہوئے اور جس نے کسی کو اللہ کا شریک قرار دیا وہ گویا آسمان سے گرگیا پھر ساے مردار خور پرندے جھپٹ لیتے ہیں یا آندھی اس کو کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے یہی حق ہے اور جس نے اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کی تو بیشک یہ دلوں کے تقویٰ (کے آثار) سے ہے تمہارے لئے ان مویشیوں میں مدت معین تک فوائد ہیں پھر ان کو ذبح کرنے کا مقام قدیم گھر کی طرف ہے (الحج :30-33)

کافر کی روح نکلنے کی کیفیت 

حرمات سے مراد مناسک حج ہیں۔ یعنی حج کی مخصوص عبادات، اس کا معنی ہے ان عبادات کی تعظیم کی جائے اور جن جگہوں پر وہ عبادات کی جاتی ہیں ان جگہوں کی تعظیم کی جائے۔ ابن زید نے کہا حرمات سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کے فرائض، واجبات اور مستحبات پر عمل کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کے احکام پر سرعت کے ساتھ عمل کرنا، ان احکام کے بجا لانے میں سستی کرنے سے بہتر ہے۔

پھر فرمایا اور تمہارے لئے سب مویشی حلال کردیئے گئے ہیں یعنی اونٹ، گائے اور بکری وغیرہ کا کھانا تمہارے لئے حلال کردیا گیا ہے سوا ان کے جو تم پر تلاوت کئے جاتے ہیں۔ یعنی قرآن مجید میں جن کا کھانا حرام کردیا ہے، اور یہ مردار اور چوٹ لگنے سے مرا ہوا وغیرہ ہیں جن کا المائدہ : ٣ میں تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ اسی طرح اگر غیر محرم نے خصوصیت کے ساتھ محرم کے لئے جانور کو شکار کیا تو اس محرم کے لئے اس جانور کا کھانا حرام ہے۔

اس کے بعد فرمایا سو تم بتوں کی نجاست سے اجتناب کرو اور جھٹوی بات سے پرہیز کرو، رجس ناپاک چیز کو کہتے ہیں اور اس عرب پتھر کی مورتیوں اور لکڑی، لوہے، سونے اور چاندی کے بنائے ہوئے مجسموں کی پوجا کرتے تھے اور نصاریٰ صلیب کو نصب کر کے اس کی تعظیم اور اس کی عبادت کرتے تھے۔

حضرت عدی بن حاتم (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے گلے میں سونے کی صلیب لٹکی ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا : اے عدی ! اس بت کو اپنے گل ی سے اتار کر پھینک دو ۔ (الحدیث) (سنن الترمذی رقم الحدیث :3095 المعجم الکبیرج ١٧ رقم الحدیث :218, 219)

بتوں کو نجس اس سے فرمایا کہ جس طرح نجاست صرف پانی سے زائل ہوتی ہے، اسی طرح بتوں کی پرستش کا کفر اور عذاب صرف توبہ اور ایمان سے زائل ہوتا ہے۔

اور فرمایا قول الزور سے اجتناب کرو۔ زور کا معنی باطل اور کذب ہے اور اللہ کا شریک بنانا بھی باطل اور زور ہے۔

حضرت فاتک اسدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد ایک جگہ پر کھڑے ہو کر تین بار فرمایا : جھوٹی گواہی کو اللہ کے ساتھ شریک بنانے کے برابر قرار دیا گیا ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی :

واجتنبوا قول الزور حنفاء للہ غیر مشرکین بہ اور جھوٹی بات سے پرہیز کرو اور ہر باطل سے الگ صرف اللہ کے ہو کر رہ۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث 3599 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :2372)

حضرت ابوبکرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار فرمایا : کیا میں تم کو سب سے بڑا (کبیرہ گناہ نہ بتائوں ڈ صحابہ نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا : اللہ کا شریک بنانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، آپ پہلے تکیہ لگائے ہوئے تھے پھر آپ بیٹھ گئے اور فرمایا سنو اور قول الزور (جھوٹی بات) آپ بار بار یہ فرماتے رہے حتیٰ کہ ہم نے سوچا کاش آپ سکوت فرمائیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :2654 صحیح مسلم رقم الحدیث :87 سنن الترمذی رقم الحدیث :1901)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 30