أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰ لِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَـقُّ وَاَنَّهٗ يُحۡىِ الۡمَوۡتٰى وَاَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞

ترجمہ:

یہ اس لئے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور بیشک وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ اس لئے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور بیشک وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے اور بیشک قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے اور اللہ ان سب کو اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں (الحج :6-7)

کائنات کے امکان سے حشر و نشر کے امکان پر استدلال 

اللہ ہی حق ہے اس کا معنی ہے وہی واجب الوجود ہے یعنی اس کا ہونا ضروری ہے اور نہ ہونا محال ہے، اور اس کے سوا ہر چیز ممکن اور حادث ہے اور ممکن کی شان یہ ہے کہ اس کا ہونا اور نہ ہونا دونوں برابر ہوں، پھر اس کو عدم سے وجود میں لانے کے لئے ایسی چیز ہنی چاہیے جو اس کی طرح ممکن نہ ہو ورنہ وہ بھی اسی کی طرح ہوگی اور اسکی چیز کو وجود میں لانے کی علت نہیں ہو سکے گی اور یہ سارا جہان ممکن ہے تو اس کو پیدا کرنے والا ایسا ہونا چاہیے جو واجب الوجود ہو اور جو واجب الوجود ہوگا اور ہر چیز پر قادر ہوگا وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہوگا اور جب یہ ساری کائنات ممکن ہو تو پھر اس ساری کائنات کو معدوم کرنا بھی ممکن ہوگا اور پھر اس کو دوبارہ پیدا کرنا بھی ممکن ہوگا اور جب یہ سب امور ممکن ہیں تو پھر تم قیامت کا کیوں انکار کرتے ہو اور حشر اور نشر کا کیوں انکار کرتے ہو ؟

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 6