أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَـكُمۡ فِيۡهَا مَنَافِعُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الۡبَيۡتِ الۡعَتِيۡقِ۞

ترجمہ:

تمہارے لئے ان مویشیوں میں مدت معین تک فوائد ہیں، پھر ان کو ذبح کرنے کا مقام قدیم گھر کی طرف ہے ؏

تفسیر:

ھدی کا معنی اور ھدی پر سوار ہونے کے متعلق مذاہب فقہاء 

الحج : ٣٣ میں فرمایا : تمہارے لئے ان مویشویوں میں مدت معین تک فوائد ہیں پھر ان کو ذبح کرنے کا مقام قدیم گھر کی طرف ہے۔

ان مویشیوں کے فوائد سے مراد ہے اونٹوں پر سوار ہونا، اونٹنیوں کا دودھ پینا، ان کی نسل بڑھانا اور ان کے اون اور بالوں کو کام میں لانا بہ شرطی کہ ان مویشویں کے مالک نے ان کو ھدی (قربانی جانور) نہ قرار دیا ہو۔ حج یا عمرہ کرنے الا جس جانور کو اپنے ساتھ اس نیت سے لے جائے کہ اس کو حرم میں ذبح کیا جائے گا تو اس کو ھدی کہتے ہیں۔ جب کسی جانور کو ھدی کے لئے نامزد کردیا جائے تو پھر بغیر کسی مجبوری کے اس جانور سے کسی قسم کا نفع اٹھانا جائز نہیں ہے مثلاً اونٹ کو ھدی بنا کر ساتھ لیا اور خود پیدل چل رہا ہے، سواری کے لئے کوئی اور جانور نہیں اور پیدل چلنا اس پر دشوار ہو تو مجبویر اور ضرورت کی وجہ سے اس ھدی پر اس کا سوار ہونا جائز ہے۔

حضرت ابن عباس اور مجاہد نے فرمایا اونٹ یا اونٹنی کو بدنہ اور ھدی قرار دینے کے بعد اس کا دودھ پینے، اس پر سوار ہونے اور دیگر فوائد ختم ہوجاتے ہیں۔ (جامع البیان رقم الحدیث :19019, 19-20, 19-21, 12922

حضرت ابوہریرہ (رض) کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا ایک شخص بدنہ کو کھینچ کرلے جا رہا تھا، آپ نے اس سے فرمایا، اس سپر سوار ہو جائو اس نے کہا یہ بدنہ (قربانی کا اونٹ) ہے آپ نے دو یا تین بار فرمایا تم پر افسوس ہے اس پر سوار ہو جائو۔ (صحیح البخارق رقم الحدیث 1689 صحیح مسلم رقم الحدیث :1322 سنن ابودائو درقم الحدیث :1760، سنن نسائی رقم الحدیث :2799)

امام مالک، امام احمد اور غیر مقلدین کا مذہب یہ ہے کہ بغیر ضرورت کے بھی بدنہ اور ھدی پر سوار ہوسکتا ہے بہ شرطی کہ اس کو ضرر نہ ہو، اور ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔ اور امام ابوحنیفہ اور امام شافعی یہ کہتے ہیں کہ بغیر ضرورت کے ھدی پر سوار نہ ہو ان کی دلیل حسب ذیل حدیث ہے :

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں ہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ھدی پر سوار ہونے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا، تم مجبوری کی حالت میں اس پر سوار ہوسکتے ہو حتیٰ کہ تمہیں کوئی اور سواری مل جائے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :1324 سنن ابودائود رقم الحدیث :1761، سنن النسائی رقم الحدیث :2802)

حرم سے باہر ھدی کو ذبح کرنا جائز نہیں 

اس کے بعد فرمایا پھر ان کو ذبح کرنے کا مقام البیت العتیق کی طرف ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ تمام شعار حج، وقوف، عرفہ شیطانوں کو کنکریاں مارنا اور صفاء پورے ہوجاتے ہیں۔ عالمہ آلوسی نے کہا ہے کہ اس سے مراد موضع ذبح ہے یعنی ھدی کے جانوروں کو ذبح کرنے کا مقام بیت العتیق کے پاس ہے اور اس سے مراد پورا حرم مکہ ہے کیونکہ وہ بیت العتیق ہی کے کم میں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ھدی کا ذبح کرنا حرم کے اندر ضروری ہے، حرم سے باہر ھدی کو ذبح کرنا جائز نہیں اور حرم سے مراد عام ہے خواہ منیٰ کا منحر اور مذبح ہو یا مکہ مکرمہ کی کوئی اور جگہ ہو۔ حدیث میں ہے مکہ کے تمام راستے مسخر (مذبح) ہیں اور منیٰ کے متام راستے منحر (مذبح) ہیں۔ (روح المعانی جز ١٧ ص 226 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1417 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 33