أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لِّيَشۡهَدُوۡا مَنَافِعَ لَهُمۡ وَيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ فِىۡۤ اَ يَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۡۢ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ‌‌ ۚ فَكُلُوۡا مِنۡهَا وَاَطۡعِمُوا الۡبَآئِسَ الۡفَقِيۡـرَ ۞

ترجمہ:

تاکہ وہ اپنے فوائد کے مقامات پر حاضر ہوں اور مقررہ ایام میں ان بےزبان مویشیوں کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو دیئے ہیں، پس تم ان میں سے خود کھائو اور مصیبت زدہ فقیر کو بھی کھلائو

مویشیوں کی قربانی کرنے کا طریقہ 

الحج :28 میں فرمایا :تاکہ وہ اپنے فوائد کے مقامات پر حاضر ہوں اور مقررہ ایام میں ان بےزبان مویشیوں کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو دیئے ہیں، پس تم ان میں سے خود کھائو اور مصیبت زدہ فقیر کو بھی کھلائو

ان منافع سے مراد دنیاوی منفعت بھی ہے اور اخروی منفعت بھی۔ دنیوی منفعت یہ ہے کہ سفر حج میں تجارت کر کے دنیا کا مال کمائیں اور اخروی منفعت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو بخش دے۔ پھر فرمایا : ان بےزبان مویشیوں کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیں۔

اس آیت میں ذبح اور نحر کو اللہ کا نا ملینے سے تعبیر فرمایا اور اس میں مشرکین کے طریقہ کی مخالفت ہے کیونکہ وہ ذبح کرتے وقت بتوں کا نام لیتے تھے۔ مقاتل نے کہا جب تم ذبح کرو تو قبلہ کی طرف منہ کر کے کہو بسم اللہ واللہ اکبر، اللہ ان صلاتی و نس کی ومحیای و مماتی اللہ رب العلمین۔ بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میری زگندی اور میری موت اللہ ربا لعلمین کے لئے ہے۔

گویا اس جانور کا خون بہا کر اس کی قربانی دینے والا خود اپنے آپ کو فدا کر رہا ہے اور اپنی جان کے بدلہ میں اس بکری یا اونٹنی کی قربانی دے رہا ہے۔

مسافروں اور حجاج پر قربانی کرنا واجب نہیں ہے 

حج کے موقع پر جو قربانی کی جای ہے وہ حج ممتع یا حج قران کی قربانی ہوتی ہے اور یہ وجب ہے کیونکہ بندہ قربانی کر کے اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے ہے کہ اللہ نے ایک سفر میں اس کو حج اور عمرہ کی دو عبادتیں عطا فرمائی ہیں، ورنہ مسافر اور حجاج پر دی ذی الحج کی قربانی واجب نہیں ہے۔ عالمگیری میں لکھا ہے :

مسافروں پر قربانی واجب نہیں ہے اور نہ حجاج پر جب کہ وہ محرم ہوں، خواہ وہ اہل مکہ میں سے ہوں۔ (فتاویٰ عالمگیری ج ٥ ص 293، مطبوعہ مطبع امیریہ کبری بولاق مصر، 1310 ھ)

علامہ علاءالدین محمد بن علی بن محمد حصکفی حنفی متوفی 1088 ھ لکھتے ہیں :

حج کرنے والے مسافر پر قربانی واجب نہیں ہے اور اہل مکہ اگر حج کریں تو ان پر قربانی لازم ہے اور ایک قول یہ ہے کہ لازم نہیں ہے۔ (سراج) علامہ شامی نے کہا جو ہرہ نیرہ میں بھی اسی طرح لکھا ہے۔ (الدرا المختار وردالمختار ج ٩ ص 382، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1419 ھ)

علامہ قرطبی مالکی متوفی 668 ھ نے لکھا ہے کہ حج کرنے والے پر قربانی نہیں ہے۔ حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور متقدمین (رض) سے اسی طرح مروی ہے، کیونکہ حج کرنے والے کو اصل میں ھدی پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور جب وہ قربانی کرتا ہے تو اس کو ھدی بنا دیتا ہے اور جو لوگ حج نہیں کرتے انہیں اہل منیٰ کی مشابہت کی وجہ سے قربانی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن ج ١٢ ص 45 مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

قربانی کا وقت 

اس میں بھی فقہاء کا اختلاف ہے کہ قربانی کے ایام کتنے ہیں ؟ امام مالک کے نزدیک تین دن ہیں یوم الاضحیٰ (10 ذوالحج) اور اس کے بعد دو دن۔ امام ابوحنیفہ اور امام احمد بن حنبل کا بھی یہی مسلک ہے۔ حضرت ابوہریرہ اور حضرت انس بن مالک (رض) سے بھی یہی مروی ہے۔ امام شافعی کے نزدیک قربانی چار دن ہے، یوم الاضحیٰ اور اس کے بعد تین دن۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے فی ایام معلومات اور یہ جمع کا صیغہ ہے لیکن اس میں تین دن متعین اور متفق علیہ ہیں اور چوتھا مشکوک اور مختلف فیہ ہے تو عبادت اس دن کرنی چاہیے جس دن اس کا قبول ہونا یقینی ہو۔

اس مسئلہ کی زیادہ تحقیق ہم نے شرح صحیح مسلم ج ٦ ص 130-131 میں کی ہے۔

حضرت جندب بن سفیان (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں عید الاضحی کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا، آپ نے نماز پڑھی اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے دیکھا کہ نماز عید سے پہلے کچھ قربانیاں کرلی گی تھیں۔ آپ نے فرمایا جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کی ہے وہ اس کی جگہ دوسری قربانی کرے اور جس نے پہلے ذبح نہیں کیا وہ اللہ کا کنام لے کر قربانی کرے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :985، صحیح مسلم رقم الحدیث :1960، سنن النسائی رقم الحدیث :4397، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :3152)

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اونٹوں کو نحر کیا (نحر کا معنی ہے، اونٹ کو کھڑا کر کے اس کے سینہ کے بالائی حصہ پر نیزہ مارنا) تو آپ نے اپنے ہاتھ سے تین اونٹوں کو نحر کیا اور مجھے حکم دیا تو باقی اونٹوں کو میں نے نحر کیا۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث :1764)

حضرت عبداللہ بن قرط (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے نزدیک سب سے عظیم دن یوم النحر (10 ذوالحج) ہے پھر یوم القر ہے، ثور نے کہا یہ قربانی کا دوسرا دن ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانچ یا چھ اونٹینوں کی قربانی کی وہ سب اونٹنیاں آپ کے قریب ہو رہی تھیں کہ آپ کس اونٹنی سے ابتدا کرتے ہیں۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث :1765 صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث :2866، مسند احمد ج ٤ ص 350 قدیم، مسند حمد رقم الحدیث :19285 عالم الکتب بیروت) ہم اونٹنیوں کو نحر کرنے کے لئے باندھتے ہیں دو تین آدمی اس کو قابو میں رکھتے ہیں اور وہ اونٹنیاں از خود آپ کے سامنے گردنیں پیش کر رہی تھیں کہ آپ کس اونٹنی کو پہلے ذبح کرتے ہیں۔

ہمہ آہوان صحرا سر خود نہادہ برکف  :: بہ امید آنکہ روزے بہ شکار خواہی آمد 

قربانی کا گوشت خود کھانے اور دوسرے کو کھلانے کا حکم 

نیز فرمایا، پس تم ان میں سے خود کھائو اور مصیبت زدہ فقیر کو بھی کھلائو۔ قرآن مجید میں البائس الفقیر ہے البائس، الفقیر کی صفت ہے اور لبائس کا معنی ہے شدید یعنی بہت محتاج اس لئے ہم نے اس کا معنی مصیبت زدہ فقیر کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قربانی کا گوشت کھانے کی اس لئے اجازت دی ہے کہ عرب اپنی قربانی کا گوشت خود نہیں کھاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی مخلافت کرنے کا حکم دیا اور اس کی تبلیغ کرنے کا حکم دیا۔

حضرت عبداللہ بن واقد (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا۔ عبد اللہ بن ابی بکر کہتے ہیں میں نے اس حدیث کا عمرۃ سے ذکر کیا انہوں نے کہا اس نے سچ کہا، میں نے حضرت عائشہ (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں دیہات کے کچھ فقراء غم گساری حاصل کرنے کے لئے عید الاضحی کے موقع پر آہستہ آہستہ چلے ہوئے آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم تین دن تک قربانی کا گوشت رکھو پھر جو بچ جائے اس کو صدقہ کردو، پھر اس کے بعد مسلمانوں نے کہا یا رسول اللہ ! لوگ اپنی قربانی کی کھالوں سے مشکیں بناتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ تم کیوں کہہ رہے ہو ؟ مسلمانوں نے کہا آپ نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا۔ آپ نے فرمایا میں نے تم کو اس لئے منع کیا تھا کہ فقراء آتے ہیں پس تم قربانی کا گوشت کھائو، اس کو ذخیرہ کرو اور اس کو صدقہ کرو۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :1971، سنن ابو دائود رقم الحدیث :2812، سنن النسائی رقم الحدیث :3441)

اکثر فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کئے جائیں ایک حصہ خود کھائی اور اہل و عیال کو کھلائے، ایک حصہ احباب اور رشتہ داروں کو دے اور ایک حصہ فقراء کو صدقہ کر دے۔

القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 28