أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هٰذٰنِ خَصۡمٰنِ اخۡتَصَمُوۡا فِىۡ رَبِّهِمۡ‌ فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا قُطِّعَتۡ لَهُمۡ ثِيَابٌ مِّنۡ نَّارٍ ؕ يُصَبُّ مِنۡ فَوۡقِ رُءُوۡسِهِمُ الۡحَمِيۡمُ‌ۚ ۞

ترجمہ:

یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے متعلق جھگڑا کیا، سو جنہوں نے کفر کیا ان کے لئے آگ کے کپڑے بیونت (کاٹ) کر کے بنائے جائیں گے اور ان کے سروں کے اوپر کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے متعلق جھگڑا کیا، سو جنہوں نے کفر کیا ان کے لئے آگ کے کپڑے بیونت (کاٹ) کر کے بنائے جائیں گے اور ان کے سروں کے اوپر کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا جس سے وہ سب گل جائے گا جو ان کے پیٹوں میں ہے اور ان کی کھالیں (بھی گل جائیں گی) اور ان (کو مارنے) کے لئے لوہے کے گرز ہیں جب بھی وہ شدت تکلیف سے اس آگ سے نکلنے کا ارادہ کریں گے، ان کو پھر اسی آگ میں جھونک دیا جائے گا (اور ان سے کہا جائے گا) اور جلانے والے عذاب کو چکھو (الحج :19-22)

رب کے متعلق جھگڑا کرنے والے دو فریقوں کے مصداق 

اس میں اختلاف ہے کہ یہ جھگڑنے والے دو فریق کون تھے ایک قول یہ ہے کہ یہ دو فریق وہ تھے جنہوں نے جنگ بدر میں ایک دوسرے سے مبارزت کی تھی اور جنگ کے لئے للکارا تھا۔

حضرت ابوذر (رض) نے کہا یہ آیت حضرت حمزہ اور ان کے دو ساتھیوں اور عتبہ اور اس کے دو ساتھیوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جنہوں نے جنگ بدر کے دن ایک دوسرے کو للکارا تھا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :4743)

حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں وہ پہلا شخص ہوں جو رحمان کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کرنے کے لئے گھٹنوں کے بل گھسٹتا ہوا جائوں گا۔ قیس نے کہا ان ہی کے متعلق یہ آیت (ھذان خصمان الای ١) نازل ہوئی ہے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے جنگ بدر کے دن ایک دوسرے کو للکارا تھا۔ حضرت علی، حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ اور شیبہ بن ربیعہ عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :4744، صحیح مسلم رقم الحدیث :3033 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 2835 السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث :11341)

دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد مومنین اور اہل کتاب کے دو فریق ہیں جنہوں نے آپس میں مباحثہ کیا تھا۔

حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت کی تفسیر میں کہا یہ اہل کتاب ہیں، جنہوں نے مومنین سے کہا تھا ہم تم سے زیادہ اللہ کے قریب ہیں، ہماری کتاب تم سے پہلے نازل ہوئی اور ہمارے نبی تمہارے بنی سے پہلے تھے اور مومنین نے کہا ہم اللہ کے زیادہ حق دار ہیں ہم سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے اور تمہارے نبی پر بھی ایمان لائے اور اللہ نے جو کتاب نازل کی ہے اس پر بھی ایمان لائے۔ تم ہماری کتاب کو اور ہمارے نبی کو پہچانتے تھے پھر تم نے ان کو چھوڑ دیا اور ان سے حسد کی وجہ سے ان کا کفر کیا، ان کی یہ خصومت ان کے رب کے سامنے ہوگی۔ (جامع البیان رقم الحدیث :18889، تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث :13819)

امام ابن جریر نے جھگڑا کرنے والے دو فریقوں کے متعلق اور بھی اقوال ذکر کئے ہیں :

عکرمہ نے کہا اس سے مراد جنت اور دو خ ہیں۔ دوزخ نے کہا اللہ نے مجھے سزا دینے کے لئے پیدا کیا ہے اور جنت نے کہا اللہ نے مجھے رحمت کے لئے پیدا کیا ہے۔

عاصم نے کہا اس سے مراد اہل الشرک اور اہل اسلام ہیں۔

مجاہد نے کہا اس سے راد مومن اور کافر ہیں جن کی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے میں بحث ہوئی۔ (جامع البیان جز 17 ص 174 مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

آخرت میں کفار کی تین قسم کی سزائیں 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کفار کی آخرت میں سزا کے تین حال بیان فرمائے :

(١) سو جنہوں نے کفر کیا ان کے لئے آگ کے کپڑے بیونت (کاٹ) کر کے بنائے جائیں گے۔ آگ کے کپڑوں سے مراد یہ ہے کہ آگ ان کے پورے جسم کا احاطہ کرلے گی۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے :

لھم من جھنم مھاد ومن فوقھم غواش (الاعراف :41) ان کے لئے دوزخ کی آگ کا بچھونا ہوگا اور ان کے اوپر اسی کا اوڑھنا ہوگا۔

(٢) دوسرا حال یہ ہے کہ اور ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا جس سے وہ سب گل جائے گا جو ان کے پیٹوں میں ہے اور ان کی کھالیں (بھی گل جائیں گی) 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اگر اس پانی کا ایک قطرہ بھی پہاڑوں پر ڈالا جائے تو وہ گل جائیں گے۔ اس گرم پانی کو جب ان کے سروں کے اوپر سے ڈالا جائے گا تو جس طرح وہ ان کے ظاہر جسم پر اثر کرے گا، اسی طرح ان کے جسم کے باطن پر بھی اثر کرے گا اور ان کے پیٹ، انتڑیاں اور دیگر اجزاء جل جائیں گے جیسا کہ حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کھولتا ہوا پانی ان کے سروں کے اوپر سے انڈیلا جائے گا اور وہ کھولتا ہوا پانی ان کے جسم کے اندر داخل ہو کر ان کے پیٹ تک پہنچ جائے گا اور جو کچھ ان کے پیٹ میں ہے، اس کو کاٹ ڈالے گا حتیٰ کہ وہ پانی ان کے قدموں سے نکل جائے گا پھر دوبارہ ان کے سروں پر ڈالا جائے گا۔

(۳) تیسرا حال یہ ہے کہ اور ان (کو مارنے) کے لئے لوہے کے گرز ہیں جب وہ (شدت تکلیف سے) اس آگ سے نکلنے کا ارادہ کریں گے، ان کو پھر اسی آگ میں جھونک دیا جائے گا (اور ان سے کہا جائے گا) او جلانے والے عذاب کو چھوھو 

ابوظبیان نے بیان کیا کہ جب دوزخ کی آگ جوش سے ابل رہی ہوگی اور ان کو ایک جگہ سے دسوری جگہ پھینک رہی ہوگی تو دوزخ ان کو دوزخ کے بڑے دروازوں کی طرف پھینک دے گی اسوقت وہ دوزخ سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو دوزخ کے محافظ انہیں لوہے کے گرز مار کر پھر دوزخ میں پھینک دیں گے۔ ایک قول یہ ہے کہ جب ان کی تکلیف بہت بڑھ جائے گی تو وہ دوزخ سے نکل کر اس کے کناروں تک پہنچیں گے تو فرشتے گرز مار کر انہیں پھر دوزخ میں دھکیل دیں گے۔ (الجامع لا حکام القرآن جز ١٢ ص 27 مطبوعہ دارالفکر بیروت 1415 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 19