أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَذِّنۡ فِى النَّاسِ بِالۡحَجِّ يَاۡتُوۡكَ رِجَالًا وَّعَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ يَّاۡتِيۡنَ مِنۡ كُلِّ فَجٍّ عَمِيۡقٍ ۞

ترجمہ:

اور لوگوں میں بلند آواز سے حج کا اعلان کیجیے وہ آپ کے پاس دوردراز راستوں سے پیدل اور ہر دبلے اونٹ پر سوار ہو کر آئیں گے

الحج :27 میں فرمایا اور لوگوں میں بلند آواز سے حج کا اعلان کیجیے وہ آپ کے پاس دور دراز راستوں سے پیدل اور دبلے اونٹ پر سوار ہو کر آئیں گے۔

حج کا لغوی اور شرعی ہم نےالبقرہ :158، تبیان القرآن ج ۃ ص 639میں بیان کردیا ہے اور آل عمران :9697 میں ہم نے یہ امور بیان کئے ہیں : حج کی تعریف، شرائط، فرئاض، واجبات، سنن اور آداب، ممنوعات اور مکروہات، حج کے فضائل، حج کی استطاعت کی تفصیل، قدرت کے باوجود حج نہ کرنے والے پر وعید، حلال مال سے حج کرنے کی فضیلت اور حرام مال سے حج کرنے کی مذمت۔ (تبیان القرآن ج ہ ص 274-280)

قیامت تک وہی حج کرسکیں گے جنہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پکار پر لبیک کہا تھا 

حج کا اعلان کرنے کے متعلق امام ابن جریر متوفی 310 ھ نے روایات ذکر کی ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ آپ لوگوں میں حج کرنے کا اعلان کیجیے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب ! ان سب لوگوں تک میری آواز کیسے پہنچ گی ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم اعلان کرو آواز پہنچانا میرے کام ہے، پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اعلان کیا اے لوگو ! تم پر اس قدیم گھر کا حج فرض کردیا گیا پس تم حج کرو، آسمان اور زمین کی تمام مخلوق نے اس اعلان کو سنا، کیا تم نہیں دیکھتے کہ زمین کے دور دراز علاقوں سے لوگ تلبیہ پڑھتے ہوئے حج کرنے کے لئے آتے ہیں۔ (جامع البیان رقم الحدیث :18935 تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث :13877، المستدرک ج ٢ ص 388-389)

مجاہد نے حضرت ابن عباس (رض) سے۔ اس آیت کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک پتھر پر کھڑے ہو کر ندا کی : اے لوگو ! اللہ نے تمہارے اوپر حج فرض کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ندا ان سب کو سنا دی جو مردوں کی پشت میں اور عورتوں کے رحموں میں تھے اور ان سب نے اس ندا کا جواب دیا جو اللہ کے علم میں قیامت تک حج کرنے والے تھے، انہوں نے کہا لبیک اللھم لبیک (جامع البیان رقم الحدیث :18936 المستدرک ج ٢ ص ٥٥٢ )

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سب سے اونچے پہاڑ پر کھڑے ہو کر حج کا اعلان کیا۔ اللہ تعالیٰ نے سات سمندروں کی گہرائی تک یہ اعلان سنوا دیا لبیک اطعنا، لبیک اجبنا ہم حاضر ہیں ہم نے اطاعت کی، ہم حاضر ہیں ہم نے قبول کیا اور قیامت تک وہی حج کرسکے گا جس نے اس ندا پر لبیک کہا تھا (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیب :13882، جامع البیان رقم الحدیث :18939)

القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 27