أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ بَوَّاۡنَا لِاِبۡرٰهِيۡمَ مَكَانَ الۡبَيۡتِ اَنۡ لَّا تُشۡرِكۡ بِىۡ شَيۡئًـا وَّطَهِّرۡ بَيۡتِىَ لِلطَّآئِفِيۡنَ وَالۡقَآئِمِيۡنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوۡدِ ۞

ترجمہ:

اور یاد کیجیے جب ہم نے ابراہیم کے لئے کعبہ بنانے کی جگہ مقرر کردی اور حکم دیا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ قرار دینا اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک رکھنا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور یاد کیجیے جب ہم نے ابراہیم کے لئے کعبہ بنانے کی جگہ مقرر کردی (اور حکم دیا کہ) میرے ساتھ کسی کو شریک نہ قرار دینا اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک رکھنا اور لوگوں میں بلندآواز سے حج کا اعلان کیجیے وہ آپ کے پاس دور دراز رساتوں سے پیدل اور دبلے اونٹ پر سوار ہو کر آئیں گے تاکہ وہ اپنے فوائد کے مقامات پر حاضر ہوں اور مقررہ ایام میں ان بےزبان مویشیوں کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو دیئے ہیں، پس تم ان میں سے خود کھائو اور مصیبت زدہ فقیر کو بھی کھلائو پر وہ اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذروں کو پورا کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں (الحج :26-29)

تعمیر کعبہ کی تفصیل 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور کافروں، دو فریقوں کا ذکر فرمایا اور ہر ایک کی اخروی جزا کا بھی ذکر فرمایا اور ان آیات کو بیت اللہ کے ذکر پر ختم فرمایا۔ اب ان کے بعد بیت اللہ یعنی کعبہ کا ذکر فرمایا، اس کی تعمیر کا اور اللہ کے گھر میں حاضر ہونے کی ہدایت دی اور اسی کا نام حج ہے کہ لوگ ادب اور احترام اور خضوع اور خشوع کے ساتھ اللہ کے گھر حاضر ہونے کا قصد کریں، اور جہاں جہاں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں وہاں سب جمع ہوں اور حج میں چونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سنتوں اور ان کے طریقوں پر عمل کیا جاتا ہے اس لئے فرمایا اور یاد کیجیے جب ہم نے ابراہیم کے لئے کعبہ بنانے کی جگہ مقرر کردی۔ قرآن مجید میں اس جگہ بوانا کا لفظ ہے اس کا مصدر تبویہ ہے اس کا معنی ہے ٹھکانا دینا، کسی مناسب جگہ کو قیام کے لئے مہیا کرنا۔ بوانا کا معنی ہے ہم نے جگہ دی کسی مناسب مقام کو قیام کے لئے تیار کیا۔ یعنی ہم نے کعبہ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے منزل اور جائے رجوع بنادیا، جو شخص کعبہ سے جدا ہو کرجاتا ہے وہ پھر دوبارہ وہاں آنے کا مشتاق ہوتا ہے۔ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ کعبہ کو پہلے بنانے والے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ حدیث میں ہے : حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں، میں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گی تھی ؟ آپ نے فرمایا المسجد الحرام۔ میں نے کہا پھر کون سی ؟ فرمایا : بیت المقدس، میں نے پوچھا ان کے درمیان کتنا عرصہ تا ؟ فرمایا چالیس سال۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :3366 صحیح مسلم رقم الحدیث :520 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :753، مسند احمد ج ٥ ص 160)

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ کعبہ کو بنانے والے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں اور بیت المقدس کو بنانے والے حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہیں اور ان کے درمیان تو چالیس سال سے زیادہ کا عرصہ ہے اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کعبہ اور بیت المقدس کی تجدید کی ہے یہ پہلے سے بنے ہوئے تھے۔ جیسا کہ ہم اس کے متعلق روایات بیان کریں گے۔

اور جب کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نبی تھے اور معصب نبوت کا تقاضا ہے لوگوں کو اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دینا، اس لئے فرمایا اس جگہ اپنے اہل و عیال کو ٹھہرائو اور اس جگہ عبادت کرنے کے لئے بار بار آئو اور فرمایا میرے ساتھ کسی کو شریک نہ قرار دینا، اس کا معنی ہے اخلاص کے ساتھ میری عبادت کرنا اور عبادت میں کوئی اور غرض شامل نہ کرنا اور فرمایا اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور رکوع اور سجود کرنے والوں کے لئے پاک رکھنا، یعنی میرے گھر کو ہر قسم کی ظاہری اور باطنی نجاست سے پاک رکھنا یعنی بتوں سے اور اس میں برہنہ طواف کرنے سے۔ اب ہم وہ روایات ذکر کر رہے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کعبہ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے بنایا گیا تھا۔ امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310 ھ اپنی اسانید کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

قتادہ اس آیت کی فسیر میں بیان کرتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین پر اتارا تو ان کے ساتھ اپنے بیت کو بھی زمین پر رکھ دیا۔ ابتداء یہ بہت بڑا تھا پھر اس کو چھوٹا کر کے ساٹھ ہاتھ کردیا جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے زمین پر آ کر فرشتوں کی تسبیح کی آوازیں نہیں سنیں تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اس کی شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے آدم ! میں نے تمہارے لئے اپنا بیت زمین پر رکھ دیا ہے، اس کے گرد بھی اس طرح طواف کیا جاتا ہے جس طرح میرے عرش کے گرد طواف کیا جاتا تھا اور اس کے پاس بھی اسی طرح نما زپڑھی جاتی ہے جس طرح میرے عرش کے پاس نماز پڑھی جاتی تھی پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سفر کر کے بیت اللہ تک گئے اور اس کا طواف کیا اور ان کے بعد انبیاء (علیہم السلام) نی اس کا طواف کیا۔ (جامع البیان رقم الحدی :18927، تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث :13872)

سدی بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) سے یہ عہد لیا کہ وہ طواف کرنے والوں کے لئے میرے بیت کو پاک کریں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) روانہ ہو کر مکہ گئے پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کدال اور پھاوڑے لے کر کھڑے ہوئے اور ان کو یہ پتا نہیں چل رہا تھا کہ کعبہ کس جگہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ایک سانپ کی صورت میں بھیجا اس نے کعبہ کے اردگرد اور اس کی پہلی بنیادوں سے کوڑا کرکٹ صاف کردیا پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے ان بنیادوں سے کعبہ کی تعمیر شروع کی۔ (جامع البیان رقم الحدیث :18928، تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث :13874 الجامع لاحکام القرآن جز 12 ص 35) 

علامہ سید محمود آلوسی متوفی 1270 ھ لکھتے ہیں :

کعبہ کو پانچ مرتبہ بنایا گیا ہے، پہلی بار کعبہ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے فرشتوں نے بنایا اور اس وقت یہ سرخ یاقوت سے بنا ہوا تھا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان میں اس کی بنیادیں اکھڑ گئیں اور اس کو دوسری بار حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بنایا۔ روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں بیت اللہ کو بنانے کا حکم دیا تو ان کو یہ پتا نہیں چلا کہ وہ کس جگہ بیت اللہ کو بنائیں پھر اللہ تعالیٰ نے ایک ہوا بھیجی جس کا نام ریح الخجوج تھا، اس نے کعبہ کی بنیادوں سے کوڑا کرکٹ صاف کردیا پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کعبہ کو اس کی قدیم بنیادوں پر تعمیر کیا اور تیسری بار اس کو زمانہ جاہلیت میں قریش نے بنایا اس کی تعمیر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی شریک تھے، اس وقت آپ جوان تھے جب انہوں نے حجر اسود کو نصب کرنے کا ارادہ کیا تو ان میں اختلاف ہوا ہر قبیلہ یہ چاہتا تھا کہ وہ اس کو نصب کرے پھر انہوں نے اس پر اتفاق کرلیا کل جو شخص سب سے پہلے کعبہ میں داخل ہوگا، وہی اس کو نصب کرے گا۔ دور سے دن سب سے پہلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ میں داخل ہوئے۔ آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ حجر اسود کو ایک چادر پر کھ دیں اور تمام قبیلوں کے سردار اس چادر کو مل کر اٹھائیں پھر آپ نے اس کو اٹھا کر اس کی جگہ نصب کردیا۔ وہ آپ کو امین کہتے تھے یہ واقعہ آپ کے اعلان نبوت سے پندرہ سال پہلے کا ہے۔ چوتھی متربہ کعبہ کو حضرت عبداللہ ابن الزبیر نے بنایا اور پانچویں بار اس کو حجاج نے بنایا اور وہی بنا آج تک قائم ہے۔ اس کی بلندی ستائیس ہاتھ ہے (تقریباً چالیس فٹ) اور اس کی لمبائی رکن یمانی سے حجر اسود تک پچیس ہاتھ (تقریباً پینتیس فٹ) ہے اور اس کا عرض رکن یمانی سے حجر اسود تک بیس ہاتھ ہے۔ (تقریباً تیس فٹ) اس کی مشرقی جانب میں ساگوان کی لکڑی کا دروازہ ہے جس پر چاندی سے کام کیا گیا ہے رکن یمانی اور حجر اسود کی درمیانی دیوار میں میزاب رحمت ہے۔ (روح المعانی جز 17 ص 211، مطبوعہ دارالفکر بیروت 1417 ھ)

تعمیر کعبہ کی زیادہ تفصیل ہم نے البقرہ، 127، تبیان القرآن ج ١ ص 573-574 بیان کردی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 26