أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَذٰلِكَ اَنۡزَلۡنٰهُ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ يَهۡدِىۡ مَنۡ يُّرِيۡدُ۞

ترجمہ:

اور اس طرح ہم نے اس قرآن کو واضح آیتوں کے ساتھ نازل کیا ہے اور بیشک اللہ جس کو چاہے ہدایت دے دیتا ہے

ہدایت دینے کے محامل 

الحج :16 میں فرمایا اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو واضح آیتوں کے ساتھ نازل کیا ہے اور بیشک اللہ جس کو چاہے ہدایت دے دیتا ہے۔

ہدایت کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ کائنات میں اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید پر دلائل قائم کئے جائیں لیکن اس معنی میں ہدیات تو سب کے لئے حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے : وہ جس کو چاہے ہدایت دے دیتا ہے، یعنی یہ ہدایت ہر ایک کو حاصل نہیں ہے اسلئے یہاں پر ہدایت کا دوسرا معنی مراد ہے اور وہ ہے انسانوں میں اللہ تعالیٰ کی معرفت پیدا کرنا اور اللہ تعالیٰ جس کے حق میں چاہتا ہے یہ ہدایت پیدا کر دیت ہے۔ اس آیت کی اور بھی محمل بیان کئے گئے ہیں :

(١) اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے مکلف کردیتا ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ کسی چیز کا مکلف کرے گا اس کے لئے اس چیز کو بیان فرمائے گا۔

(٢) اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے جنت کا راستہ دکھاتا ہے اور مومنین صالحین کو اللہ ثواب کی راہیں دکھاتا ہے۔

(٣) جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ ایمان پر ثابت قدم رہیں گے ان کی ہدایت کو زیادہ کرتا ہے، اور ان میں سے جن کو چاہتا ہے ان پر لطف و کرم فرماتا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 16