أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّعۡبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرۡفٍ‌ ‌ۚ فَاِنۡ اَصَابَهٗ خَيۡرٌ اۨطۡمَاَنَّ بِهٖ‌ ۚ وَاِنۡ اَصَابَتۡهُ فِتۡنَةُ اۨنقَلَبَ عَلٰى وَجۡهِهٖ‌ۚ خَسِرَ الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةَ ‌ ؕ ذٰ لِكَ هُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِيۡنُ ۞

ترجمہ:

اور کوئی شخص ایک کنارے پر کھڑا ہو کر اللہ کی عبادت کرتا ہے، پس اگر اس کو کوئی بھلائی مل جائے تو وہ اس سے مطمئن ہوجاتا ہے اور اگر اس پر کوئی آزمائش آجائے تو وہ منہ کے بل پلٹ جاتا ہے، اس نے دنیا اور آخرت کا نقصان سمیٹا، یہی کھلا ہوا نقصان ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور کوئی ایک کنارے پر کھڑا ہو کر اللہ کی عبادت کرتا ہے، پس اگر اس کو کوئی بھلائی مل جائے تو وہ اس سے مطمئن ہوجاتا ہے اور اس پر کوئی آزمائش آجائے تو وہ منہ کے بل پلٹ جاتا ہے، اس نے دنیا اور آخرت کا نقصان سمیٹا، یہی کھلا ہوا نقصان ہے وہ اللہ کے سوا اس کی عبادت کرتا ہے جو اس کو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع دے سکتا ہے، یہی دور کی گمراہی ہے وہ اس کو پکارتا ہے جس کا ضرر اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے، وہ کیسا برامددگار ہے اور کیسا برا ساتھی ہے(الحج :11-13)

ایک کنارے پر کھڑے ہو کر عبادت کرنے کے مطالب 

الحج : ١١ میں فرمایا کوئی شخص ایک کنارے پر کھڑا ہو کہ اللہ کی عبادت کرتا ہے۔ اس کی حسب ذیل تفسیریں ہیں :

(١) یعنی وہ شخص دین کے ایک کنارے پر کھڑا ہے اس کا دین میں کوئی ثبات نہیں ہے۔ اس میں منافقین کے حال کو اس شخص کے حال سے تشبیہ دی ہے جو پہاڑ کے ایک کنارے پر کھڑا ہو اور پہاڑ پر اس کے قدم جمے ہوئے نہ ہوں، اسی طرح منافقین کے دلوں میں بھی اسلام جما ہوا نہیں ہے، یا جو لشکر کے ایک کنارے پر کھڑا ہو اگر لشکر فتح یاب ہو تو وہ لشکر میں شامل رہے ورنہ بھاگ جائے، سو اس طرح منافقین ہیں ان کو اسلام کی صداقت اور حقانیت پر یقین نہیں ہے اگر ان کو زکو ١ صدقات اور مال غنیمت سے حصہ ملے تو وہ اسلام پر قائم رہتے ہیں اور اگر ان کو آفات اور مصائب پیش آئیں تو وہ اسلام سے روگردانی کرتے ہیں۔

(٢) ابوعبیدہ نے کہا ہر وہ شخص جس کو کسی چیز میں شک ہو وہ اس چیز کے کنارے پر ہوتا ہے، وہ اس میں ثابت قدمی اور دوام پر نہیں ہوتا اور جو شخص کسی چیز کے کنارے پر کھڑا ہو اس پر اس کے قدم جمے ہوئے نہیں ہوتے، تو جس شخص کو دین میں شک ہو اس کو اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی ہے کیونکہ اس کو اپنے دین میں قلق اور اضطراب ہے اور وہ اس میں ثابت قدم نہیں ہے۔ (زاد المسیر ج ٥ ص 411)

(٣) حسن بصری نے کہا جس شخص کے دل میں اسلام کا اعتقاد ہو اور وہ زبان سے اس کا اظہار کرے، وہ دین کے دونوں کناروں پر جما ہوا ہے اور اس کا دین کامل ہے، اور جس شخص کے دل میں اسلام پر اعتقاد نہ ہو صرف زبان سے اظہار کرے، وہ دین کے ایک کنارے پر کھڑا ہوا ہے اور ڈگمگا رہا ہے اور منافق کا یہی حال ہے۔ اس لئے فرمایا کہ وہ ایک کنارے پرک ھڑا ہو کر عبادت کر رہا ہے۔

(٤) وہ دین کے ایک کنارے پر ہے۔ یعنی دین کے وسط اور قلب میں نہیں ہے، کیونکہ اس کو دین میں قلق اور اضطراب ہے تاکہ اس کو جب بھی دین سے اپنے لئے خطرہ محسوس ہو تو فوراً بھاگ جائے۔

زیر تفسیر آیت کے شان نزول میں متعدد اقوال 

یہ آیت کس شخص کے متعلق نازل ہوئی، اس میں متعدد اقوال ہیں :

(١) ضحاک نے کہا یہ آیت ان دیہاتیوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جو اپنے دیہاتوں سے ہجرت کر کے مدینہ آتے تھے، ان میں سے جب کوئی شخص مدینہ آتا اور اس کو مدینہ کی آب و ہوا موافق آجاتی، اس کی گھوڑی اچھے بچے جنتی اور اس کی بیوی کے ہاں لڑکا پیدا ہوتا اور اس کے مال اور مویشی بڑھ جاتے تو وہ خوش اور مطمئن ہوتا اور کہتا جب سے میں اس دین میں داخل ہوا ہوں مجھے بھلائی اور اچھائی ہی ملی ہے اور اگر وہ مدینہ آ کر بیمار پڑجاتا، اس کی بیوی لڑکی جنتی اور اس کے مال میں نقصان ہوجاتا اور صدقات دیر سے ملتے تو شیطان اسے آ کر بہکاتا اور وہ کہتا اللہ کی قسم ! جب سے میں اس دین میں داخل ہوا ہوں مجھے شر اور مصائب ہی ملے ہیں، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی : اور کوئی شخص ایک کنارے پر کھڑا ہو کر اللہ کی عبادت کرتا ہے۔ (جامع البیان رقم الحدیث :18867 مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

(٢) حضرت ابو سعید خدری (رض) نے کہا یہودیوں میں سے ایک شخص مسملان ہوگیا اس کی بینائی چلی گئی اس کا مال اور مویشی خسارے میں ڈوب گئے اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر کہا میری بیعت توڑ دیجئے، آپ نے فرمایا اسلام کو فسخ نہیں کیا جاتا۔ اس نے کہا اس دین میں آن یکے بعد مجھے کوئی خیر نہیں ملی میری بینائی چلی گئی، میرا مال اور میری اولاد چلی گئی۔ آپ نے فرمایا : اے یہودی ! اسلام لوگوں کو اس طرح پگھلاتا ہے (تاکہ ان کا کھوٹ نکل جائے) جس طرح آگ لوہے، سونے اور چاندی کو پگھلا کر ان کا زنگ اور میل کچیل نکال دیتی ہے۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی : ومن الناس من یعبد اللہ علی خرف۔ (اسباب النزول رقم الحدیث :617-618 ص 316-317، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

(٣) حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت اس لئے نازل ہوئی کہ ایک شخص مدینہ آتا اگر اس کی بیوی کے ہاں لڑکا پیدا ہوتا ہے اور اس کے گھوڑوں کی نسل میں افزائش ہوتی تو وہ کہتا یہ اچھا دین ہے اور اگر اس کی بیوی کے ہاں بچہ پیدا نہ ہوتا اور اس کے گھوڑوں میں افزائش نہ ہوتی تو وہ کہتا یہ برا دین ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :4732)

(٤) ابن زیاد نے کہا یہ آیت منافقف کے متعلق نازل ہوئی ہے اگر اس کی دنیا اچھی رہتی تو وہ عبادت پر قائم رہتا اور اگر اس پر آزمائش آتی اور اس کی عبادت خراب ہوجاتی تو وہ عبادت کو ترک کردیتا اور کفر کی طرف لوٹ جاتا۔ (جامع البیان رقم الحدیث :18868، مطبوعہ بیروت)

(٥) ضحاک کا (دوسرا) قول یہ ہے کہ یہ آیت مئولفتہ القلوب کے متعلق نازل ہوئی ہے جن میں عینیہ بن بدر، الاقرع بن حابس، ہوتے ہیں اگر ہم کو اچھائی مل گئی تو ہم جان لیں گے یہ دین برحق ہے اور اگر ہم کو برائی ملی تو ہم جان لیں گے یہ دین باطل ہے۔ (تفسیر کبیرج ٨ ص 208 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت 1415 ھ)

چند اعتراضات کے جوابات 

اس کے بعد فرمایا پس اگر اس کو کوئی بھلائی مل جائے تو وہ اس سے مطمئن ہوجاتا ہے اور اگر اس پر کوئی آزمائش آجائے تو وہ منہ کے بل پلٹ جاتا ہے۔

اس پر یہ اعتراض ہے کہ یہاں آزمائش کو بھلائی اور خیر کے مقابل ہمیں ذکر کیا ہے حالانکہ خیر اور بھلائی بھی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے ؟ اس کا جواب ہے کہ یہاں منافق کے اعتبار سے کلام فرمایا ہے اور منافق کے نزدیک خیر صرف وہی ہے جو دنیوی خیر ہو اور شر صرف وہی ہے جو دنیوی شر ہو، اس لئے اس کے اوپر بہ طور آزمائش جو مصائب اور بلائیں آتی ہیں وہ اس کے نزدیک صرف شر ہیں اس لئے آزمائش کو خیر کے مقابل ہمیں ذکر فرمایا ہے۔

اس پر دوسرا اعتراض یہ ہے کہ یہاں فرمایا ہے اس پر آزمائش آئے تو وہ منہ کے بل پلٹ جاتا ہے۔ یہ کلام اس وقت درست ہوتا جب وہ پہلے مومن ہوتا اور آزمائش آنے کے بعد کافر یا مرتد ہوجاتا لیکن منافق تو پہلے بھی کافر تھا تو پھر اس کے منہ کے بل پلٹنے کا کیا معنی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ منفاق پہلے زبان سے اسلام کا اقرار کرتا تھا اور آزمائش آنے کے بعد وہ زبانی اقرار سے بھی منحرف ہوجاتا ہے۔

پھر فرمایا : اس نے دنیا اور آخرت کا نقصان سمیٹا۔ دنیا کا نقصان یہ ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک اس کی عزت اور کرامت نہیں رہتی، مال غنیمت سے اس کو حصہ نہیں ملتا اور وہ شہادت دینے اور امامت اور قضا کا اہل نہیں رہتا اور اظہار سالام کی وجہ سے اس کی جان اور مال جو محفوظ تھے وہ اب محفوظ نہیں رہتے، اور اخروی نقصان یہ ہے کہ وہ ثواب سے محروم رہے گا اور دائمی عذاب میں مبتلا رہے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 11