أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يُّجَادِلُ فِى اللّٰهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ وَّلَا هُدًى وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيۡرٍ ۞

ترجمہ:

اور بعض لوگ بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن کتاب کے اللہ کے متعلق جھگڑا کرتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بعض لوگ بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن کتاب کے اللہ کے متعلق جھگڑا کرتے ہیں وہ (از راہ تکبر) اپنی گردن موڑے ہوئے ہے تاکہ (لوگوں کو) اللہ کے راستہ سے گمراہ کرے، اسی کے لئے دنیا میں ذلت ہے جن کو تیرے ہاتھ پہلے بھیج چکے ہیں اور بیشک اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے (الحج :8-10)

الحج : ٣ اور الحج : ٨ میں تکرار کے اعتراض کا جواب 

اس سے پہلے الحج : ٣ میں بھ فرمایا تھا بعض لوگ اللہ کے متعلق بغیر علم کے جھگڑا کرتے ہیں اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں اور یہاں بھی یہی فرمایا ہے اور بعض لوگ بغیر عل کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن کتاب کے اللہ کے متعلق جھگڑا کرتے ہیں اور بہ ظاہر یہ تکرار ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ پہلی آیت کافر سرداروں کے اتباع اور مقلدین کے متعلق ہے اور دوسری آیت ان کافر سرداروں کے بارے میں ہے جن کی وہ تقلید کرتے تھے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ پہلی آیت نضر بن الحارث کے متعلق ہے اور دوسری آیت ابو جہل کے متعلق ہے اور تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ دونویں آیتیں نضر بن الحاثر ہی کے متعلق ہیں اور یہ تکرار نہیں ہے بلکہ تاکید ہے اور مبالغہ ہے اور چوتھا جواب یہ ہے کہ پہلی آیت میں فرمایا ہے کہ شیطان کے پیروکار بغیر دلیل کے اس کی پیروی کرتے ہیں اور دوسری آیت میں فرمایا ہے وہ دین میں جدال کرتے ہیں اور بغیر دلیل کے دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں۔

دوسری آیت میں تین چیزوں کا ذکر فرمایا ہے۔ علم ہدایت اور روشن کتاب۔ علم سے مراد ہے علم بدیہی جو بغیر غور اور فکر کے حاصل ہو جیسے سردی اور گرمی کا علم یا دو اور دو چار کا علم، اور ہدایت سے مراد ہے علم نظری اور اکتسابی جو غور و فکر سے حاصل ہوتا ہے جیسے مثلث کے تین زاویوں کا مجموعہ دو زاویہ قائمہ کے برابر ہوتا ہے یا جیسے اس جہان میں ممکنات اور حوادث کو دیکھ کر اس کے بنانے والے اور صانع کا علم حاصل کرنا اور روشن کتاب سے مراد ہے وہ علم جو کتابوں کو پڑھ کر حاصل ہوتا ہے اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ان کافروں کو اللہ کے بارے میں بدیہی علم ہے نہ نظری علم ہے نہ کتابی علم ہے اور یہ اس کے متعلق جھگڑا کر رہے ہیں اور یہ سخت مذموم اور جہالت کی بات ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 8